(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا ابنِ انیس شجاع الرحمٰن بہاولپوریؔ

مولانا ابنِ انیس شجاع الرحمٰن بہاولپوریؔ

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/05
موضوعات
دو نسلیں، ایک شمع
صبح کی روشنی جب گاؤں کی کچی گلیوں میں ابھی قدم رکھ ہی رہی ہوتی ہے، تو ایک چھوٹے سے مدرسے سے قرآنِ پاک کی تلاوت کی گونج فضا میں تحلیل ہونے لگتی ہے۔ یہ آواز آج یا کل کی بات نہیں، بلکہ گزشتہ چھ دہائیوں سے اسی طرح گونج رہی ہے بغیر کسی وقفے کے، بغیر کسی ناغے کے۔ اس مدرسے کی چٹائی پر بیٹھے اس بزرگ کو دنیا 'استاد جی خادم حسین چھجڑا صاحب' کے نام سے جانتی ہے، اور فطرت کا حسن دیکھیے کہ جن کا نام ہی خادم ہے، ان کا کام بھی عمر بھر بلا معاوضہ خدمت ہی رہا۔

آج استاد جی کی عمر مبارک 80 سال کے قریب پہنچ چکی ہے۔ جب زندگی کے 20ویں سال میں ایک نوجوان اپنی خواہشات اور مستقبل کے سپنے بنتا ہے، اس وقت انہوں نے اپنے رب کے کلام کی خدمت کا معاہدہ کیا تھا۔ 20 سال کی جوانی سے شروع ہونے والا یہ سفر آج 80 سال کی باوقار ضعیفی تک پہنچ چکا ہے، لیکن جذبے کی جوانمردی میں آج بھی کوئی کمی نہیں آئی۔

آج کی دنیا میں جہاں ہر شخص اپنے وقت کا حساب پیسوں میں مانگتا ہے، وہاں استاد جی خادم حسین صاحب کی زندگی ایک الگ ہی عالم پیش کرتی ہے۔ نہ ان کا کوئی طے شدہ معاوضہ ہے، نہ کوئی بینک اکاؤنٹ، اور نہ ہی ان کے تقویم (Calendar) میں جمعہ، اتوار یا چھٹی کا کوئی تصور۔ شدید گرمی ہو یا کڑی سردی، بیماری کی نقاہت ہو یا موسمی ہیر پھیر—استاد جی کی نشست کبھی خالی نہیں ملی۔ 60 سال کی اس طویل تدریسی زندگی میں انہوں نے کبھی 'ناغہ' نہیں کیا۔

میرے لیے ان کی ذات صرف ایک استاد کی نہیں، بلکہ ہمارے گھرانے اور پورے گاؤں کی روحانی تاریخ کا ایک معتبر اور مقدس باب ہے۔ چند دہائیاں پہلے میرے والد محترم قاری انیس الرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ نے انہی کے سامنے زانوے تلمذ طے کیا، ان سے قرآنِ پاک حفظ کیا۔ اور پھر وقت گزرا، نسل بدلی، اور ایک دن میں بھی انہی کی درسگاہ میں جا بیٹھا۔

میرا ان کی خدمت میں حاضر ہونے کا واقعہ بھی ایک الگ ہی داستان ہے۔ میں درسِ نظامی کا آٹھ سالہ کورس مکمل کر کے 'تخصص فی الحدیث' کی دستارِ فضیلت حاصل کر چکا تھا۔ علومِ اسلامیہ کی سند حاصل کرنے کے بعد جب قرآنِ پاک کو اپنے سینے میں محفوظ کرنے کا شوق بیدار ہوا، تو قدم خود بخود استاد جی خادم حسین صاحب کے اسی کچے مدرسے کی طرف اٹھ گئے۔

یہ استاد جی کی شفقت، ان کی روحانی توجہ اور فیضِ صحبت کا اعجاز تھا کہ انہوں نے مجھ سے محنت کروائی اور میں نے صرف 6 ماہ کی مختصر ترین مدت میں پورا قرآنِ پاک حفظ کر لیا۔

والد محترم قاری انیس الرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ کے دور سے لے کر میرے دورِ حفظ تک، دنیا میں نہ جانے کتنی تبدیلیاں آئیں، لیکن استاد جی کی مسکراہٹ، ان کی شفقت اور کلامِ الٰہی سے ان کی محبت میں ایک ذرے کا فرق بھی نہیں آیا۔

60 سالوں میں انہوں نے گاؤں کی کتنی نسلوں کے سینوں کو قرآنی نور سے روشن کیا، اس کا حساب شاید کوئی زمینی رجسٹر نہ رکھ سکے، مگر آسمانوں پر اس کا اندراج ضرور ہو چکا ہے۔ وہ کسی ٹی وی شو پر نہیں آئے، کسی اخبار میں ان کی تصویر نہیں چھپی، لیکن ان کی خاموش خدمت کی گواہی گاؤں کا بچہ بچہ دیتا ہے۔

نام 'خادم' رکھنا تو ان کے والدین کا فیصلہ تھا، لیکن اس نام کی آبرو رکھنا اور اپنی زندگی کے 60 قیمتی سالوں کو 'خدمت' کا مجسمہ بنا دینا استاد جی خادم حسین صاحب کا اپنا انتخاب تھا۔اللہ رب العزت استاد جی خادم حسین صاحب کا سایہ ہمارے سروں پر قائم رکھے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے۔آمین!

کالم نگار : مولانا ابنِ انیس شجاع الرحمٰن بہاولپوریؔ
| | |
105     3