(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا ابنِ انیس شجاع الرحمٰن بہاولپوریؔ

مولانا ابنِ انیس شجاع الرحمٰن بہاولپوریؔ

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
تکلف کا بوجھ اور اسوۂ حسنہ ﷺ
تکلفانہ طرزِ حیات نے ہمیں ایک ایسے گڑھے اور دلدل میں دھکیل دیا ہے، جہاں پہنچ کر ہم اسے اپنی کامیابی اور کمال سمجھنے لگے ہیں۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ ہم اس دلدل میں دھنس چکے ہیں اور اب اس کے عادی ہو گئے ہیں۔

اپنے کلام میں، اپنے اخلاق و کردار میں، اپنی چال ڈھال میں اور اپنے رہن سہن میں ہم نے تکلف اور بناوٹ کو اس قدر جگہ دے دی ہے کہ سادگی ہمیں معیوب اور تصنع ہمیں معیاری دکھائی دینے لگا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بارے میں ارشاد فرمایا:

> **قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ**

’’آپ فرما دیجیے: میں اس دعوت پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور نہ ہی میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں۔‘‘

غور کیجیے! تکلف اور تصنع کی قباحت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کی زبانِ مبارک سے اس سے براءت کا اعلان کروایا۔ نبی کریم ﷺ کی زندگی کا ہر پہلو سادگی، فطری پن اور بے تکلفی کا حسین نمونہ تھا۔

اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> **إِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبِكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَاسِنَكُمْ أَخْلَاقًا، وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَيَّ وَأَبْعَدَكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الثَّرْثَارُونَ وَالْمُتَشَدِّقُونَ وَالْمُتَفَيْهِقُونَ۔**

’’تم میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن مجلس کے اعتبار سے میرے سب سے قریب وہ لوگ ہوں گے جو تم میں بہترین اخلاق والے ہیں، اور تم میں مجھے سب سے زیادہ ناپسند اور قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ دور وہ لوگ ہوں گے جو بہت زیادہ باتیں کرنے والے، گفتگو میں بناوٹ و تکلف کرنے والے اور تکبر کے ساتھ منہ بھر بھر کر باتیں کرنے والے ہیں۔‘‘

تو ذرا سوچیے! کیا آپ یہ پسند کریں گے کہ اپنے تکلفانہ مزاج، بناوٹ اور تصنع کی وجہ سے قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ سے دور کھڑے ہوں؟

یقیناً کوئی صاحبِ ایمان یہ برداشت نہیں کر سکتا۔

مگر افسوس! تکلف صرف گفتگو تک محدود نہیں رہا، بلکہ ہماری مہمان داری، تقریبات، معاشرتی تعلقات اور روزمرہ کے رویوں کا حصہ بن چکا ہے۔ ہم اپنی استطاعت سے بڑھ کر اہتمام کرتے ہیں، اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرتے ہیں اور پھر اسی غیر ضروری بوجھ کو معاشرتی معیار کا نام دے دیتے ہیں۔

حالاں کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگی میں تکلف سے اجتناب ایک نمایاں وصف تھا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے:

> **نُهِينَا عَنِ التَّكَلُّفِ**

’’ہمیں تکلف سے منع کیا گیا ہے۔‘‘

مہمان نوازی یقیناً اسلام کی خوب صورت تعلیم ہے، لیکن مہمان کے لیے اپنی استطاعت سے بڑھ کر بوجھ اٹھانا اسلام کا مزاج نہیں۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ سے منقول ہے:

> **لَا يَتَكَلَّفَنَّ أَحَدٌ لِضَيْفِهِ مَا لَا يَقْدِرُ عَلَيْهِ**

’’تم میں سے کوئی شخص اپنے مہمان کے لیے ایسی چیز کا تکلف نہ کرے جس کی وہ استطاعت نہیں رکھتا۔‘‘

آج ہمارے معاشرے میں تکلف کی ایک خطرناک شکل یہ بھی ہے کہ انسان اپنی اصل حالت چھپا کر محض دوسروں پر اپنی شان و شوکت ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ایسے رویے سے بھی خبردار فرمایا:

> **الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ**

’’جو شخص ایسی چیز کے ملنے کا اظہار کرے جو اسے دی ہی نہیں گئی، وہ جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی مانند ہے۔‘‘

یہی وہ مقام ہے جہاں تکلف محض ایک سماجی عادت نہیں رہتا بلکہ جھوٹ، دکھاوے اور احساسِ کمتری کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

ہمارے اسلاف کی سادگی:
اس روایتی بوجھ سے آزادی کا ایک خوب صورت نمونہ ہمارے اسلاف کی زندگی میں ملتا ہے۔

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو ایک شخص نے اپنے گھر کھانے کی دعوت دی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے دعوت قبول فرمائی، لیکن ایک شرط رکھی۔

اس شخص نے پوچھا:

’’اے امیر المؤمنین! وہ شرط کیا ہے؟‘‘

آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

’’شرط یہ ہے کہ تم میرے لیے بازار سے کوئی چیز خرید کر لانے کا تکلف نہیں کرو گے، جو کچھ گھر میں موجود ہوگا اسے مجھ سے نہیں چھپاؤ گے، اور نہ ہی اپنے اہل و عیال کا حصہ کاٹ کر میرے سامنے رکھو گے۔‘‘

سبحان اللہ! یہ تھا ہمارے اسلاف کا طرزِ زندگی؛ سادگی، اخلاص، حقیقت پسندی اور دوسروں کو غیر ضروری مشقت میں نہ ڈالنے کا حسین نمونہ۔

آج ہم ذرا اپنے گھروں، اپنی محفلوں اور اپنی معاشرتی زندگی کا جائزہ لیں۔ کتنی چیزیں ایسی ہیں جن کی ہمیں حقیقتاً ضرورت نہیں، مگر محض ’’لوگ کیا کہیں گے؟‘‘ کے خوف سے ہم انہیں اختیار کیے ہوئے ہیں۔ کتنے گھروں میں مہمان کی آمد خوشی کے بجائے پریشانی کا سبب بن جاتی ہے، کیونکہ ہم نے مہمان داری کو سادگی اور محبت کے بجائے نمائش، اہتمام اور استطاعت سے بڑھ کر خرچ کرنے کا نام دے دیا ہے۔

یاد رکھیے! **مہمان نوازی محبت ہے، نمائش نہیں؛ سلیقہ ہے، تکلف نہیں؛ خلوص ہے، مقابلہ نہیں۔**

اگر ہم اپنی زندگی سے غیر ضروری تکلف، بناوٹ اور نمود و نمائش کا بوجھ اتار دیں اور سادگی، سچائی اور خلوص کو اپنا لیں تو ہماری زندگی نہ صرف آسان اور پُرسکون ہو سکتی ہے بلکہ ہمارے معاشرتی تعلقات بھی زیادہ حقیقی اور مضبوط ہو سکتے ہیں۔ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم لوگوں کو خوش کرنے کے لیے جینا چاہتے ہیں یا اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے؟**اسوۂ حسنہ ﷺ ہمیں سکھاتا ہے کہ عظمت تکلف میں نہیں، کردار میں ہے؛ شان و شوکت میں نہیں، اخلاق میں ہے؛ اور انسان کی اصل قدر اس کی ظاہری نمائش میں نہیں بلکہ اس کے باطن کے اخلاص میں ہے۔**

آئیے! تکلف کا بوجھ اتاریں، سادگی کو اپنائیں، خلوص کو زندہ کریں اور اپنی زندگی کو اُسوۂ رسول اللہ ﷺ کے قریب لے جائیں۔

کالم نگار : مولانا ابنِ انیس شجاع الرحمٰن بہاولپوریؔ
| | |
102     2