(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولاناسمیع اللہ سالم

مولاناسمیع اللہ سالم

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
حدیث میں مؤمن کی تشبیہ اور اس کی حکمت
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کو کھجور کے درخت سے تشبیہ دی ہے،جس کا ہر حصہ نفع بخش ہوتا ہے۔ اس اشارے میں یہ حقیقت پوشیدہ ہے کہ ایک سچا مسلمان جہاں بھی ہو، وہ خیر، رحمت اور بھلائی کا ذریعہ بنتا ہے۔ چند ماہ قبل سیالکوٹ کے ایک گاؤں میں میرا بیان رکھا گیا تھا۔نماز ظہر کے فوراً بعد پروگرام شروع ہوا۔تلاوت اور نعت کے بعد بیان کا آغاز ہوا۔اسی دوران ایک عالم دین جبہ و دستار کے ساتھ پوری شان و شوکت سے مجلس میں تشریف لائے۔ بیان کے اختتام پر میں نے اسٹیج سیکریٹری سے کہا: "اگر دعا حضرت سے کرا لی جائے تو کیسا رہے گا؟ انہوں نے فورا جواب دیا: نہیں، دعا بھی آپ ہی کریں۔ بہرحال، پروگرام کے اختتام پر ایک کھلی جگہ میں پورے محلے کے لوگوں کےلئے کھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔وہ صاحب بھی میرے ساتھ کھانے میں شریک رہے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے اپنا تعارف کروایا۔معلوم ہوا کہ وہ پاکستان کے ایک نامور دینی ادارے کے فاضل اور متخصص ہیں،نیز اس علاقے کے ایک دینی ادارے کے مہتمم بھی ہیں۔ مجھے حیرت ہو رہی تھی کہ جب علاقے میں اتنے بڑے عالم دین موجود ہیں تو پھر مجھے اتنی دور ڈسکہ سے بلانے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔دیہات کے سادہ دل لوگ علماء سے بے حد محبت اور عقیدت رکھتے ہیں، لیکن اس دن ایک عجیب منظر دیکھنے کو ملا۔ لوگ مجھ سے بڑی محبت اور عقیدت سے مل رہے تھے، مگر موصوف کے ساتھ ایک غیر محسوس اجنبیت اور بے رغبتی نمایاں تھی۔اس وقت اس کیفیت کی وجہ میری سمجھ میں نہ آ سکی۔ واپسی پر میرے ساتھ آنے والے ایک مقامی دوست نے حقیقت بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ مولانا صاحب کو درس نظامی سے فارغ ہوئے تقریبا آٹھ سال ہو چکے ہیں، مگر اس عرصے میں دس مساجد انہیں چھوڑنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔ان کے عالم بننے سے پہلے اس علاقے کے لوگ باہمی محبت، تعاون اور اخوت کے ساتھ زندگی گزارتے تھے۔ ایک دوسرے کی خوشی اور غم میں شریک ہوتے تھے، لیکن اب حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ لوگ ایک دوسرے کے جنازوں میں شرکت سے بھی گریز کرتے ہیں۔مسلکی منافرت نے دلوں کو اس طرح تقسیم کر دیا ہے کہ سلام کرنے میں بھی تردد محسوس کیا جاتا ہے۔ اب تک میں یہی سوچ رہا ہوں کہ اس علم کا کیا فائدہ، جس کے نتیجے میں لوگوں کے درمیان دوریاں پیدا ہو جائیں، بھائی کو بھائی کا دشمن بنا دیا جائے، اور محبت و اخوت کی جگہ نفرت اور تقسیم لے لے۔

کالم نگار : مولاناسمیع اللہ سالم
| | |
32