کل جب بلوچستان کوئلہ کان میں جان سے جانے والے مزدوروں کی لا۔شیں فلائنگ کوچ میں لائی جا رہی تھیں تو انہوں نے وہ حالات دیکھے جو شاید ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اس مشکل وقت میں خوازہ خیلہ سے تعلق رکھنے والے امام مسجد، خطیب اور مدرس مفتی اسد اللہ نے وہ کردار ادا کیا کہ جس کی بدولت انسانیت پر یقین مزید پختہ ہوگیا۔
رات گہری ہوتی جا رہی تھی۔ شانگلہ آنے والی سڑک پر خاموشی تھی لیکن خوازہ خیلہ کے ایک گھر میں سب جاگ رہے تھے۔ وہاں لوگ کسی مہمان کے انتظار میں نہیں تھے بلکہ ان قافلوں کے منتظر تھے جو اپنے ساتھ درجنوں مزدوروں کی لا۔شیں لے کر آ رہے تھے۔
بلوچستان کی کوئلہ کان میں پیش آنے والے ا۔لمناک حادثے کے بعد جب شانگلہ کے مزدوروں کی میتیں آبائی علاقوں کی طرف روانہ ہوئیں تو ڈاکٹر اسد جو خود ضلع شانگلہ سے تعلق رکھتے ہیں نے سوشل میڈیا پر ایک مختصر سا پیغام لکھا۔ انہوں نے بتایا کہ میتو۔ں کے ساتھ آنے والے افراد طویل سفر کے بعد خوازہ خیلہ پہنچیں گے اس لیے ان کے لیے کھانے پینے کا انتظام کیا جائے۔
یہ پیغام خوازہ خیلہ بٹئی کے رہائشی مفتی اسد اللہ کی نظر سے بھی گزرا۔ انہوں نے فوراً ڈاکٹر اسد سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ قافلہ اس وقت کہاں تک پہنچا ہے اور کس چیز کی ضرورت ہے؟ ڈاکٹر اسد نے بتایا کہ گاڑیاں مختلف وجوہات کی بنا پر خاموشی سے سفر کر رہی ہیں اور وہ مسلسل ڈرائیوروں سے رابطے میں ہیں۔ قافلے میں شامل افراد سرکاری اور سیاسی لوگوں سے چھپ چھپ کر جا رہے تھے۔ وہ کسی کو پولیٹیکل پوائنٹ سکورنگ کا موقع نہیں دینا چاہتے تھے۔
مفتی اسد اللہ کے مطابق اس کے بعد ان کے گھر میں جیسے ایک امدادی مرکز قائم ہو گیا۔ گھر کی خواتین رات بھر جاگتی رہیں۔ صبح پانچ بجے تک کھانے پینے کی تیاری جاری رہی۔ وہ کہتے ہیں کہ گھر کی خواتین نے اس خدمت کو اپنا فرض سمجھا اور اسی خدمت میں انہیں دلی سکون ملا۔
ادھر قافلے سے مسلسل اطلاعات آ رہی تھیں۔ راستے میں معلوم ہوا کہ میتوں کے ساتھ سفر کرنے والے افراد کو شدید بدبو اور دیگر مشکلات کا سامنا ہے۔ رات کے وقت منگورہ میں روم سپرے تک دستیاب نہیں تھے۔ مفتی اسد اللہ اور ان کے ساتھیوں نے اپنے گھروں سے روم سپرے نکال کر قافلے تک پہنچائے تاکہ سفر کچھ آسان ہو سکے۔
اسی دوران ایک اور ضرورت سامنے آئی۔ حادثے میں جان سے جانے والے کئی مزدوروں کی لا۔شوں کی حالت انتہائی خراب تھی۔ مفتی اسد اللہ، ڈاکٹر نظام، احمد سعید، ان کے گھر کے بچوں اور دیگر رضاکاروں نے سڑک کنارے کھڑے ہو کر قافلے کا انتظار کیا اور میتو۔ں کی حفاظت کے لیے روئی سمیت دیگر ضروری سامان فراہم کیا۔
پہلے تین گاڑیاں خوازہ خیلہ پہنچیں تو ان کے مسافروں کو ڈیرے پر بٹھا کر کھانا پیش کیا گیا لیکن کھانے کے فوراً بعد وہ جلدی جلدی چائے پینے لگے۔ جب وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے بتایا کہ گاڑیوں میں موجود میتو۔ں کی حالت خر۔اب ہو رہی ہے اور انہیں مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ اس پر میزبانوں نے برتن، کھانا اور دیگر سامان خود سڑک کنارے منتقل کیا، چٹائیاں بچھائیں تاکہ باقی آنے والے افراد بھی بغیر وقت ضائع کیے کھانا کھا سکیں اور دوبارہ سفر شروع کر دیں۔
کچھ دیر بعد مزید دس گاڑیاں پہنچیں۔ ہر گاڑی میں تقریباً 8 افراد سوار تھے۔ ان میں میتوں کے ساتھ آنے والے لواحقین، رضاکار اور ڈرائیور شامل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان سے نکلنے کے بعد خوازہ خیلہ تک انہوں نے صرف پانی پیا تھا جبکہ تب تک کھانا نہیں کھایا۔ مسلسل سفر، بھوک اور ذہنی دباؤ کے باعث ان کے ہاتھ پاؤں کانپ رہے تھے۔
ان تمام گاڑیوں میں موجود افراد کے لیے کھانے اور مشروبات کا انتظام کیا گیا۔ پنجاب اور ہزارہ سے تعلق رکھنے والے ڈرائیور بھی شدید تھکن اور بھوک کا شکار تھے۔ مفتی اسد اللہ اور ان کے ساتھیوں نے انہیں مالی مدد کی بھی پیشکش کی اور ساتھ چلنے کی خواہش ظاہر کی لیکن انہوں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے صرف ایک درخواست کی کہ انہیں کھانا دے دیا جائے اور ان کے سامنے سیاسی لوگوں کو نہ لایا جائے۔ چنانچہ مقامی لوگوں نے کسی قسم کی سیاسی تشہیر یا سرکاری نمائندے کو اس امدادی سرگرمی کا حصہ نہیں بننے دیا۔
خوازہ خیلہ بٹئی سے تعلق رکھنے والے مفتی اسد اللہ نے دینی تعلیم کراچی کے بنوری ٹاؤن سے حاصل کی ہے۔ ان کے والد سرکاری سکول کے استاد ہیں۔ وہ جامعہ مسجد لوئی جمات کے امام و خطیب ہیں۔ اپنے کئی مدارس کے مہتمم ہیں جہاں طلباء و طالبات کو دینی تعلیم دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی جرگوں میں شرکت اور سماجی خدمت بھی ان کی سرگرمیوں کا اہم حصہ ہے۔
ہر معاشرے کی اصل طاقت وہ لوگ ہوتے ہیں جو کسی صلے، شہرت یا سیاسی فائدے کی امید کے بغیر مصیبت زدہ انسانوں کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ بلوچستان سے اپنے پیاروں کی میتیں لے کر آنے والے یہ لوگ شاید زندگی بھر اس رات کو نہ بھول سکیں جب خوازہ خیلہ میں چند گھروں کے دروازے ان کے لیے کھلے تھے، گرم کھانا ان کا منتظر تھا اور اجنبی لوگ اپنے دکھ کو ان کا دکھ سمجھ کر خدمت کر رہے تھے۔ مفتی اسد اللہ، ان کے اہل خانہ اور ساتھیوں نے ثابت کیا کہ انسانیت کا سب سے خوبصورت چہرہ وہی ہے جو غم کے اندھیروں میں خاموشی سے دوسروں کا سہارا بن جائے۔ ایسے لوگ معاشرے کا سرمایہ ہوتے ہیں اور ان کی خدمات اس بات کی یاد دلاتی ہیں کہ مشکل ترین حالات میں بھی ہمدردی، ایثار اور اخلاص زندہ رہتے ہیں۔