(+92) 319 4080233
کالم نگار

سدرہ ملک

سدرہ ملک

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
دریاکی بیٹی
مجھے پاروشنی یاد آتی ہے، وہ پاروشنی جو دریا کی بیٹی تھی جس نے آخری دم تک دریا کو نہ چھوڑا اگرچہ دریا کی ریت بھی اڑ کر آنکھوں میں گھسنے لگی اور جلد کی رنگت جلن سے بدلنے لگی۔مجھے پاروشنی یاد آتی ہے، وہ پاروشنی جو دریا کی بیٹی تھی جس نے آخری دم تک دریا کو نہ چھوڑا اگرچہ دریا کی ریت بھی اڑ کر آنکھوں میں گھسنے لگی اور جلد کی رنگت جلن سے بدلنے لگی۔

وہ پاروشنی جس کے پیچھے شہد کی مکھیاں آتی تھیں ، وہ پاروشنی جو پورے علاقے کی جان تھی، وہ پاروشنی جو گندم کوٹتی تھی تو پورا گاؤں جان جاتا تھا کہ شام ہوگئی ہے، وہ اپنی نسل کا مخصوص قد بت لیے ہوئے تھی مگر مجھے یوں لگتا ہے جیسے کسی یونانی دیوتاؤں کے دور سے ایک طاقتور دیوی اٹھ کر انسانوں کے درمیان بسنے لگ گئی تھی۔ وہ جس کے گھر کے کنویں کا پانی سب سے میٹھا تھا۔

پھر ایک رات سب بدل گیا ، جب وہ پیدا ہوا جسے رونا چاہیے تھا مگر رو نہ سکا ، اور پاروشنی کا پسینہ زمین میں جذب ہوتا رہا جس پاروشنی نے زبان سے ایک لفظ نہ نکالا نہ آنکھ سے آنسو اگرچہ اس کے جسم کو درد دو حصوں میں کاٹ رہا تھا، ہر وقت می آؤں کرنے والا خوشنما مور بھی اس کے غم کے احترام میں خاموش رہا اور دریا کے اس کنارے پر جہاں زندہ انسانوں کا جانا منع تھا اور وہاں وہ لوگ ہوا کرتے تھے جو کبھی دریا کے دوسرے کنارے پر چلا پھرا کرتے تھے، پاروشنی کے غم میں وہ بھی یوں چپ رہے کہ انہیں بھول گیا کہ وقت کے کسی حصے میں وہ بھی کبھی سانس لیا کرتے تھے۔

اس پاروشنی نے جس کا دل جان گیا تھا غم کی ایک صدی اس پر طاری ہونے والی ہے اسلیے شاید وہ ہار سنگھار کر کے سارے زیور پہن کر گئی ، سرمے سے آنکھیں بھور کالی بنائیں ، پاؤں میں جھانجھر پہنے، ناک میں کیل اور گلے میں حمیل پہنی، کیونکہ وہ جانتی تھی اس رات کے بعد وہ کبھی زندگی کو زندگی کی طرح محسوس نہ کر سکے گی۔ اس کے پاس سمرو بھی تھا اور ورچن بھی مگر وہ ایسی گہری اور مضبوط نکلی کہ کوئی مرد اس کے غم کا مداوا نہ کر سکا بس مامن ماسا کہتا رہا جو آگیا وہ آگیا۔ غم کی دنیا بھی ایسی ہوتی ہے اور یاد کی دنیا بھی، جو آگیا بس آگیا۔ اس کے بعد باہر کی دنیا سے ربط ختم کر دینا چاہیے جس طرح مامن ماسا چیوا کو کہتا تھا تمہارا دل ابھی بھی بستی کے لوگوں کے ساتھ جڑا ہوا ہے، تم مکمل طور پر رکھوں کے اندر نہیں آئے۔

کبھی کبھی لگتا ہے میں اس لمحے کو دن میں کئی مرتبہ دل ہی دل میں دہراتی ہوں کہ پکلی ایسا مرتباں کہاں سے لائے گی جس میں وہ اس نہ رونے والے کو محفوظ کر سکے۔ "پکلی تو میرا ساتھ دے، اور اس کے لیے اتنا بڑا برتن بنا دے کہ میں بھی اس کے ساتھ ہی مٹی میں دابی جاؤں"۔ یہ جملہ مجھے دن میں کئی مرتبہ یاد آنے لگتا ہے، اور میں بھی مرتبان ڈھونڈنے لگتی ہوں اپنے دل کے لیے۔

میں صرف کتاب نہیں پڑھتی اس کے کرداروں کے ساتھ جیتی ہوں، پھر ان کے ساتھ ہی مر جاتی ہوں، میرے دل میں پڑھی جانے والی ہر عورت کا غم اپنی اپنی قبر میں جا کر دفن ہوجاتا ہے اور پھر میں رہ رہ کر اس غم کو جگاتی ہوں اور اس سے حال پوچھتی ہوں۔ میرے دل میں ہر عورت کی اداسی ہے جو اس زمین پر اداس ہوتی ہے خواہ وہ کتابوں میں ہی کیوں نہ رہ گئی ہو۔ غم تو غم ہوتا ہے، وہ دریا کے اِس پار والوں کا ہو یا اُن کا جو کبھی ہوا کرتے تھے مگر اب نہیں ہیں۔

ویانا بستی کی طرح ، گھاگھرا کے کنارے آباد بستی کے لوگوں کے مرتبان، پکلی کے آوے کے پکے برتن اور اس کی ٹھیکریاں بھی اسی طرح حیثیت رکھتی ہیں جس طرح ہم اب اس زمین پر چلتے پھرتے ہیں۔تو میں بات کر رہی تھی اس ہرن کی جو پاروشنی نام کے ایک غار کے اندر تھوڑے عرصے کے لیے آباد ہوا، کچھ وقت ٹھہرا اور پھر چلا گیا، ساتھ ہی اس کی روح بھی لے گیا۔اسی طرح ہم سب کے غم ہوتے ہیں، ہمارے اندر رہتے ہیں، لگتا ایسا ہے کہ چلے گئے ہیں مگر جاتے نہیں ہیں۔ اپنے وقت پر واپس لوٹ کر آتے ہیں پھر ہمیں زخمی کرتے رہتے ہیں اور ہم کسی پکلی سے کہہ بھی نہیں پاتے کہ ہمارا ساتھ دو اور وہ برتن بناؤ ، جس میں ہم بھی ساتھ ہی مٹی میں دابے جائیں۔

سمرو پاروشنی کو یاد دلاتا ہے وہ چیتر کی ایک چاندنی رات تھی اور وہ کہتی ہے اس کو تو بہت برس ہوگئے، سمرو کہتا ہے اتنے برس گزرے نہیں ہیں پاروشنی جتنے تم نے گزار دیے۔ اور وہ کہتی ہے ، "بے انت برس گزرے ہیں تم کو ان کی خبر نہیں کہ وہ گزر گئے ہیں اور مجھے ہے"۔

اس لمحے سے جب وہ کشتی کے اندر تھی اور آسمان پر بے تحاشا پکھیرووں نے رات کے اندر ایک اور رات کر رکھی تھی، ہر گزرتے لمحے تک ایک ایک برس گزرتا گیا۔ کیسا پاگل تھا سمرو جو اس پہاڑ جیسی اونچی اور سمندر جیسی گہری عورت کو کہتا تھا، اتنے برس گزرے نہیں تھے، جبکہ وہ جانتی تھی وہ لمحہ جس کا اس نے کبھی ذکر نہیں کیا اس پر کیسے تمام عمر بیتتا رہا۔بس جس کا غم ہوتا ہے وہی جانتا ہے کتنے برس ہوئے اور کتنی صدیاں بیت گئی ہیں، ہر انسان کا ایک ذاتی غم ہوتا ہے جس پر وہ یوں نظریں ڈال کر بیٹھتا ہے جس طرح بستی والے سر شام دریا کنارے نظریں جما کر بیٹھ جاتے گویا ان کے دیکھنے سے بڑے پانی جلد آ جائیں گے۔ کبھی کبھی پاروشنی کی یاد آتی ہے تو ان تمام خساروں کی بھی یاد آتی ہے جو اس یونانی دیوی جیسی لڑکی کے حصے میں آئے، پھر ورچن بھی یاد آتا ہے جب وہ پاروشنی کو چولہے کے پاس دیکھ کر سوچتا ہے، مجھے سرشام اس چولہے سے اٹھنے والی اپلووں کی خوشبو، اور آگ کی روشنی میں لشکنے والا مہاندرہ یاد آتا تھا اور پھر وہ کہہ اٹھتا ہے میں بستی کے لیے نہیں تمہارے لیے آیا ہوں مگر وہ پاروشنی تھی جس کی آنکھیں ابھی بھی نم تھیں اور دل ابھی بھی خاموش تھا۔

میرا دماغ بھٹک کر بھکشو کی بات پر کیوں جاتا ہے جو اسے کہتا تھا ، جو شے تمہیں سب سے بھلی لگتی ہے وہ گھاگھرا کو دے دو۔ وہ جس کو یہ بات کہہ رہا تھا اس نے تو برسوں پہلے اپنی سب سے قیمتی چیز گھاگھرا کو دے دی تھی ، اور تو اس نے اپنے پاس کچھ رکھا ہی نہیں۔

بہاؤ سے پاروشنی نکال دیں تو پیچھے بس گھاگھرا کا خشک ہوتا پانی، ختم ہوتی مچھلیاں، آک کے پودے، می آؤں کرتے مور کا پنجر، بے بسی سے مرتے ہوئے پوتر بیل اور پکلی کے آوے سے اٹھنے والا دھواں اور برتنوں کی ٹھیکریاں رہ جاتی ہیں، وہ اس کی جان ہے، اس پانچ ہزار سال پرانی داستان کی روح ہے، تارڑ صاحب کہتے ہیں وہ پاروشنی کے جانے کے بعد اس کے معدوم ہونے کے سوگ میں اتنے ڈپریس ہوگئے کہ کئی ماہ تک اپنی سٹڈی ٹیبل کے قریب نہ جا سکے، اور میں اس کے جانے کے بعد دریا کے اس ممنوع کنارے پر رہ گئی اور سوچتی رہی اس کے پاس تو کوئی بھی ایسا نہ تھا جس کو وہ بتاتی کہ وہ رات گزرتی کیوں نہیں ہے، اس رات جسم کو دو حصوں میں کرنے والا درد بھی کیوں نہ اسے رلا سکا اور پھر اس کے بعد کیوں کوئی چیز اس کے دل کو بھلی نہ لگ سکی اور وہ جسے رونا چاہیے تھا وہ رویا کیوں نہ تھا۔

مامن ماسا نے کہا ، جو آگیا وہ آگیا تو بس پاروشنی زندگی میں آجاتی ہے اور پھر وہ جا کر بھی نہیں جاتی اس کا غم ساتھ ہی رہتا ہے اور اس کی مٹھی میں موجود چند دانوں کو کوٹنے سے پیدا ہونے والی آواز دھم ہو، دھم ہو، رہ جاتی ہے اور پوری بستی خالی ہونے کے باوجود پاروشنی کے چولہے سے اٹھنے والا دھواں بتاتا ہے کہ شام کا وقت ہے اور کوئی نہ بھی ہو تو پاروشنی تو ہے ناں ، اور اس کے ہوتے ہوئے کسی کے نہ ہونے کا کیا غم۔

کالم نگار : سدرہ ملک
| | |
43