سدرہ ملک
مجھے پاروشنی یاد آتی ہے، وہ پاروشنی جو دریا کی بیٹی تھی جس نے آخری دم تک دریا کو نہ چھوڑا اگرچہ دریا کی ریت بھی اڑ کر آنکھوں میں گھسنے لگی اور جلد کی رنگت جلن سے بدلنے لگی۔ناول’’بہاؤ‘‘کے طرز پرایک ادبی تحریر