(+92) 319 4080233
کالم نگار

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
سسٹم کی تبدیلی ناگزیر ہے
لیاقت خانزادہ، اسم بامسمٰی تھا،اس کی یاداشت کمال کی اور بلا کا حاضر جواب تھا، کلاس میں لیکچر کے دوران سب کے قلم رجسٹر کاپیوں پر گھسٹ رہے ہوتے اور وہ چیونگم چبائے ٹیچر کو دیکھتا رہتا، اس کے اس طرح دیکھنے سے ایک ٹیچر چڑ گئے ایک دن تپ کر کہنے لگے:

لیاقت! میں یہاں کیا بکواس کرنے آیا ہوں؟

لیاقت نے کاندھے اچکاتے ہوئے جواب دیا:سر! یہ آپ کی رائے ہوسکتی ہے جس کا احترام بھی کیا جا سکتا ہے...سر تپ گئے، کلاس چھوڑ کر کالج پرنسپل کے دفتر میں گئے بات بتائی، لیاقت کی پیشی ہوگئی پرنسپل نے پوچھا:

"آپ نے سر سے کہا کہ وہ بکواس کررہے ہیں؟

" سر! یہ ان کی رائے تھی میں تو ان کا لیکچر سن رہا تھا"

" سر اس سے پوچھیں لکھ کیوں نہیں رہا تھا؟" ٹیچر نے دانت کچکچاتے ہوئے کہا:

" کیوں بھئی لکھ کیوں نہیں رہے تھے"

لیاقت نے برجستہ جواب دیا"سر میں سنی ہوں نا"

یہ ٹیچر صاحب کے اس مسلکی جھکاؤ پر طنز تھا جس کی کئی شکایات کی جاچکی تھیں۔

پرنسپل نے ڈانٹ دیا اور کہا ماں باپ کا پیسہ برباد کرنے آتے ہو، کلاس روم کو کیفے ٹیریا سمجھ رکھا ہے وغیرہ وغیرہ، پرنسپل صاحب جھاڑ چکے تو لیاقت نے نرمی سے کہا "سر میں گھر جا کر نوٹس بنا لیتا ہوں....مجھے پواینٹس یاد رہتے ہیں"

سر نے طنزیہ انداز میں کہا" اچھا! یہاں بیٹھو اور لکھ کر دکھاؤ"

لیاقت نے بیس منٹ میں لیکچر لکھ کر سامنے رکھ دیا حیرت انگیز طور پر کوئی غلطی نہ تھی بس الفاظ اور ترتیب آگے پیچھے تھی۔

لیاقت کی ایک اور حیرت انگیز خوبی باڈی لینگویج کو نوٹس کرنا تھا، ایک دن میتھمیٹکس کے ٹیچر لیکچر دینے آئے تو لیاقت نے کہا "آج شاہ صاحب لیکچر پورا نہیں دیں گے"

اور حیرت انگیز طور پر ایسا ہی ہوا، سیلانی نے حیرت سے پوچھا کہ یار تجھے کیسے پتہ چلا تو ہنس کر بولے سر کا پیٹ خراب لگ رہا تھا شرٹ بھی ٹھیک سے پینٹ میں نہیں تھی اور چہرے پر بھی تناؤ سا تھا، طبیعت ٹھیک نہ تھی.سیلانی لیاقت کا معترف تھا وہ غیرمعمولی نوجوان تھا لیکن وہ ڈاکٹر بنا نہ انجینیئر، سسٹم اس سے استفادہ نہ کرسکا اس کی جگہ ہی نہیں تھی کئی برس دھکے کھانے کے بعد وہ بھی ملک چھوڑ گیا، آخری بار اس کی فرانس سے کال آئی تھی وہ وہاں بزنس انٹیلی جنس قسم کا کوئی کام کررہا تھا اور مزے کر رہا تھا۔

پاکستان بھی لیاقت ہی ہے، قدرت نے سمندر دریا پہاڑ صحرا چاروں موسم کھیت کھلیان سب کچھ دے رکھا ہے لیکن سسٹم نے پاکستان کے آگے گڑھے کھود رکھے ہیں جج جرنیل سیاست دان بیوروکریسی صحافی سرمایہ کار ہم سب اس کے اس حال پر پہنچنے کے ذمہ دار ہیں، پاکستان کا 78واں سال ختم ہونے میں 13 دن ہیں اور ہم ابھی تک سسٹم سسٹم کھیل رہے ہیں پھر کہا جارہا ہے کہ کنواں ناپاک ہے خالی کرو،ہم نے پھر ڈول اٹھا لینا ہے کہ کہنے والا تگڑا اور ڈاڈا ہے پھر سے پانی نکالنا ہے نکال ہی لیں گے اور کنویں میں گرا کتا چھوڑ دیں گے۔

کالم نگار : احسان کوہاٹی
| | |
14