(+92) 319 4080233
کالم نگار

محترمہ وریشہ فیضی،بھارت

محترمہ وریشہ فیضی،بھارت

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
بل أحياء
کتابیں صرف معلومات کا ذخیرہ نہیں ہوتیں، بعض اوقات وہ ایک عہد کی گواہی بھی بن جاتی ہیں۔ جب ظلم اپنی انتہا کو پہنچ جائے، سچائی کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے اور مظلوموں کی آواز عالمی شور میں گم ہونے لگے، تب اہلِ قلم کی ذمہ داری صرف تاریخ لکھنا نہیں رہتی بلکہ تاریخ کو محفوظ کرنا بھی ہوتی ہے۔ ایسے ہی احساسِ ذمہ داری کا مظہر مولانا عبدالعلیم الاعظمی کی تازہ تصنیف "بل أحياء" ہے۔

*وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ* (سورۂ آلِ عمران: 169)

"اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے، انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انہیں رزق دیا جاتا ہے۔"

یہ آیتِ مبارکہ ان خوش نصیب بندوں کے بلند مقام کی بشارت سناتی ہے جنہوں نے اللہ کی رضا کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ دنیا کی نگاہ میں اگرچہ وہ اس فانی زندگی سے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ زندہ ہیں، عزت و اکرام کے ساتھ رزق دیے جاتے ہیں اور ہمیشہ کی نعمتوں سے سرفراز رہتے ہیں۔

اسی عظیم بشارت کی مناسبت سے زیرِ مطالعہ کتاب "بل أحياء" قرآنِ کریم کے اسی ابدی اعلان سے اخذ کیا گیا ہے کہ اللہ کی راہ میں شہید ہونے والے مردہ نہیں بلکہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں۔ عنوان نہایت بامعنی، مؤثر اور کتاب کے مرکزی مضمون کا بہترین عکاس ہے۔ یہ صرف ایک نام نہیں بلکہ پوری کتاب کے فکری پس منظر کی نمائندگی کرتا ہے۔

بل أحياء" فلسطین کے باون ایسے شہداء کے حالاتِ زندگی پر مشتمل ایک منفرد تصنیف ہے جنہوں نے اپنے ایمان، وطن اور آزادی کی خاطر جانوں کا نذرانه پیش کیا۔ مصنف نے ان شخصیات کے حالات، خدمات، جدوجہد اور قربانیوں کو مستند معلومات کے ساتھ اس انداز میں قلم بند کیا ہے کہ قاری ان کے کردار سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ یہ کتاب صرف سوانح کا مجموعہ نہیں بلکہ فلسطین کی مزاحمت، استقامت اور قربانیوں کی ایک معتبر تاریخی دستاویز ہے۔

فلسطین کے وہ مرد، عورتیں اور بچے جنہوں نے ظلم و جبر کے باوجود اپنے ایمان، صبر اور استقامت کی روشن مثال قائم کی، امتِ مسلمہ کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ ان کی قربانیاں ہمیں حق پر ثابت قدم رہنے، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے اور مظلوموں کے ساتھ ہمدردی اور دعا کا رشتہ مضبوط رکھنے کا درس دیتی ہیںوفانِ اقصیٰ کے بعد دنیا بھر میں فلسطین کے حالات زیرِ بحث رہے، لیکن ان عظیم شخصیات کی مکمل زندگی اور قربانیوں کو یکجا کرنے کا کام بہت کم ہوا۔ مصنف نے اس کمی کو محسوس کرتے ہوئے ان شہداء کی یادوں کو محفوظ کرنے اور آنے والی نسلوں تک پہنچانے کے لیے یہ کتاب تصنیف کی، تاکہ وہ صرف خبروں کا حصہ نہ رہیں بلکہ تاریخ کا روشن باب بن جائیں۔۔فلسطین پر اردو میں متعدد مضامین اور تجزیاتی کتابیں لکھی جا چکی ہیں، لیکن شہداءِ فلسطین کی منتخب شخصیات کو اس جامعیت، ترتیب اور تحقیقی انداز کے ساتھ یکجا کرنا ایک منفرد علمی خدمت ہے۔ یہی امتیاز اس کتاب کو محض ایک تصنیف نہیں بلکہ ایک زندہ تاریخی امانت بنا دیتا ہے۔اس کتاب کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں شہداء کو محض اعداد و شمار کا حصہ نہیں بنایا گیا بلکہ ان کے ایمان، کردار، عزم، علمی خدمات اور انسانی پہلوؤں کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والی شخصیات کا انتخاب کتاب کے دائرۂ کار کو مزید وسیع بناتا ہے۔ کتاب میں تحقیقی انداز، مستند معلومات اور دل نشین اسلوب کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔

مصنف کا اسلوب نہایت سادہ، رواں، شستہ اور مؤثر ہے۔ عبارت میں غیر ضروری تصنع یا ثقیل پن نہیں بلکہ ایسی سلاست ہے جو عام اور خاص دونوں قارئین کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ ہر شخصیت کا تعارف اختصار کے باوجود جامع ہے اور واقعات کی ترتیب قاری کی دلچسپی کو آخر تک برقرار رکھتی ہےاور ہر شہداء کے نام کے ساتھ ایک لائن ایسی لکھی گئی ہے جو دل کو چھو لیتا ہے۔ مصنف نے ان شخصیات کو صرف تاریخی حوالوں کے طور پر پیش نہیں کیا، بلکہ ان کے افکار، جدوجہد، احساسات اور قربانیوں کو ایسے اسلوب میں قلم بند کیا ہے کہ قاری ان کے ساتھ ایک قلبی تعلق محسوس کرنے لگتا ہے۔بل أحياء" محض ایک کتاب نہیں بلکہ فلسطین کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے والی ایک مؤثر علمی دستاویز ہے۔ اس کا مطالعہ قاری کے دل میں شہداء کی عظمت، حق کی سربلندی، صبر، استقامت اور قربانی کے جذبے کو تازہ کرتا ہے۔ مصنف نے نہ صرف شہداء کی یادوں کو محفوظ کیا ہے بلکہ امتِ مسلمہ کے اجتماعی شعور کو بھی جھنجھوڑنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ بلاشبہ یہ کتاب ہر اس شخص کے لیے قابلِ مطالعہ ہے جو فلسطین کے مسئلے کو محض خبروں کے بجائے اس کے حقیقی کرداروں اور ان کی لازوال قربانیوں کے تناظر میں سمجھنا چاہتا ہے۔

زیرِ نظر کتاب کے مصنف برادر مولانا عبدالعلیم الاعظمی ایک با صلاحیت نوجوان قلم کاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے فلسطین کے مسئلے کو وقتی خبر کے بجائے ایک تاریخی اور انسانی ذمہ داری کے طور پر پیش کیا ہے۔مصنف کی گذشتہ کتاب اور ان کی تحریروں میں اہلِ فلسطین اور انکی قیادت پر تحقیق، اعتدال، سادگی اور اثر انگیزی نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔مصنف کی یہ کاوش اس بات کی آئینہ دار ہے کہ سچا قلم ظلم کے اندھیروں میں حق کا چراغ بن جاتا ہے۔ مزید قابلِ تحسین پہلو یہ ہے کہ مصنف نے عمر کے ابتدائی مرحلے اور دورانِ تعلیم ہی ایسے حساس، اہم اور بین الاقوامی موضوع پر قلم اٹھایا، جو عموماً وسیع مطالعے، تحقیقی بصیرت اور فکری پختگی کا متقاضی ہوتا ہے۔ یہ ان کی علمی سنجیدگی، غیر معمولی ذوقِ تحقیق اور امتِ مسلمہ کے مسائل سے گہری وابستگی کا واضح ثبوت ہے۔قلم اللہ تعالیٰ کی عظیم امانت ہے، اور خوش نصیب ہیں وہ اہلِ قلم جو اپنے علم اور فکر کو امت کے مسائل، مظلوموں کی ترجمانی اور حق کی سربلندی کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔ "بل احیاء" مصنف کی علمی بصیرت، دینی غیرت، فکری پختگی اور امتِ مسلمہ کے اجتماعی شعور سے قلبی وابستگی کا روشن مظہر ہے، اور امید کی جا سکتی ہے کہ وہ آئندہ بھی اسی طرح امت اور ملت کے اہم موضوعات پر اپنی علمی خدمات پیش کرتے رہیں گے آمین!

کالم نگار : محترمہ وریشہ فیضی،بھارت
| | |
48