اگر دینی مدارس کے فضلائے کرام قرآن کریم سے اپنا تعلق مضبوط کر لیں تو ان کے اندر ایسی ایسی صفات پیدا ہو جائیں گی کہ وہ خود حیران ہو جائیں گے کہ اتنی قیمتی چیز کو ہم نے کیسے اگنور کیے رکھا۔
یہاں چند صفات کا ذکر کیا جاتا ہے:
1: اپنی دعوت و خطابت یا تحریر و تحقیق پر کسی انسان سے تعریف کے متمنی نہیں رہیں گے۔
2: جو بات بولیں گے، شرح صدر کے ساتھ بولیں گے۔
3: صرف واقعات بیان کرنے کے بجائے معاشرتی مسائل کا تجزیہ اور ان کا حل پیش کرنے لگیں گے۔
4: فتنے، تفرقے اور نفرت کے بجائے وحدت، حکمت اور خیر خواہی کے علمبردار بن جائیں گے۔
5: بیانات میں ہدایت کا پہلو سب سے غالب ہوگا۔
6: مصنوعی بناؤٹ و تکلف کے بجائے تقوی و طہارت کو ترجیح دینے لگیں گے۔
7: حق بات کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں رہے گی۔
8: فکر آخرت سے دل کو زندگی کی موٹیویشن ملے گی اور اپنا وقت امت کے فائدے میں لگانا مقصد بن جائے گا۔
9: فضول و لایعنی باتوں سے اجتناب آسان ہو جائے گا۔
10: اُس نور کے حامل ہو جائیں گے جس نور کو رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک پر قرآن کی صورت میں نازل کیا گیا۔
11: مجالس، ذکر و حکمت کا سرچشمہ بن جائیں گی، جہاں آنے والا ہر فرد کچھ نہ کچھ سیکھ کر اور اپنی روحانی حالت کو بہتر کر کے اٹھے گا۔
12: شہرت، مقبولیت اور دنیاوی تمجید کی خواہش دلوں سے مٹ جائے گی اور صرف اللہ کی رضا کے طالب بن جائیں گے۔
13: غیر ضروری تقلید کے خول سے نکل کر تدبر کے میدان میں اتریں گے اور نئی نسل کے لیے فکری رہنمائی کا ذریعہ بنیں گے۔
14: قرآن کے ساتھ زندگی گزاریں گے، اسی کے ساتھ بات کریں گے، اسی سے جواب لیں گے، اسی کو اپنی ہر علمی، فکری، اصلاحی اور تحریکی جدوجہد کا مرکز بنا لیں گے۔
15: حلال لقمے کو اللہ کا فضل جان کر تلاش کرنے کی فکر کریں گے۔
16: انبیاء کرام علیھم السلام کی صفات (صبر، انابت، علم و حلم، خشیت و تقوی وغیرہ ) کے وارث بن جائیں گے۔
17: امت کی بیماریوں کی درست تشخیص اور علاج کر پائیں گے۔
18: وقت کی قدر ، نظم و ضبط کا شعور اور مطالعہ کا شوق پیدا ہو جائے گا۔
19: کامیابی و ناکامی، دین داری و دنیا داری، عزت و ذلت کے معیارات بدل جائیں گے۔
20: دل محبت الہی کی مٹھاس پا لے گا جس کے سبب تہجد میں تلاوت آسان ہو جائے گی۔
اس طرح کی سینکڑوں صفات ہیں جو قرآن کے ذریعے سے پیدا ہوتی ہے اور اہل علم کے سینوں میں آیات بینات بن کر چمکتی ہیں۔
هُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَؕ
یہ قرآن تو ان لوگوں کے سینوں میں کھلی ہوئی نشانیاں ہے جنہیں علم دیا گیا ہے۔ (سورت عنکبوت: 49)