(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا ابنِ انیس شجاع الرحمٰن بہاولپوریؔ

مولانا ابنِ انیس شجاع الرحمٰن بہاولپوریؔ

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
ہنر کا زوال اور وقت کا سوال
زندگی، مہلتِ عمل کی اس ڈور کا نام ہے جو وقت کے چرخے پر مسلسل کات جا رہی ہے۔ قدرت نے ہر انسان کے اندر صلاحیتوں کی کوئی نہ کوئی شمع فروزاں کر رکھی ہے، لیکن المیہ یہ نہیں کہ انسان بے ہنر ہے—المیہ یہ ہے کہ وہ اپنے ہنر کے لیے کون سا میدان منتخب کرتا ہے۔ انسان کی محنت اگر بے سمت ہو جائے، تو کمال بھی زوال کا روپ دھار لیتا ہے۔

اسی حقیقت کا دلنشین استعارہ ایک قدیم اخلاقی داستان کے پیرائے میں ملتا ہے۔

کہتے ہیں کہ ایک مداری ایک بادشاہ کے سامنے حاضر ہوا۔ اس کے چہرے پر اپنے عجیب و غریب فن کا غرور تھا اور نگاہوں میں داد پانے کی تشنہ تمنا۔ اس نے ہاتھ میں ایک سوئی لی، اسے ہوا میں اچھالا اور پھر ایک فاصلے سے اتنی بلا کی نپی تلی نظر اور مہارت سے دھاگا پھینکا کہ وہ ہوا میں تیرتی سوئی کے باریک ناکے سے پار ہو گیا۔ اس نے یہ حیرت انگیز کرتب بار بار دہرایا۔ دربار میں ہر طرف حیرت کا سکوت چھا گیا اور لوگ اس بے مثال نشانہ بازی پر دنگ رہ گئے۔

کرتب مکمل ہوا تو مداری کی آنکھیں انعام کی چمک سے جگمگانے لگی۔ تبھی بادشاہِ وقت، جو صرف ظاہر کو نہیں بلکہ بات کی تہہ کو دیکھ رہا تھا، نے فیصلہ سنایا:اس شخص کو سو اشرفیاں انعام میں دی جائیں، اور ساتھ ہی سو کوڑے مارے جائیں!

سارا دربار ہکا بکا رہ گیا اور مداری کی آنکھوں سے غرور کا نشہ ہرن ہو گیا۔ اس نے کاپتی آواز میں عرض کیا: *"بادشاہِ سلامت! انعام پر تو میں آپ کا شکر گزار ہوں، لیکن یہ کوڑوں کا عذاب کس قصور کی پاداش میں؟"* بادشاہ نے شفیق مگر سنجیدہ لہجے میں فرمایا:سو اشرفیاں تمہاری اس بے پناہ لگن، ریاضت اور انتھک مشق کا صلہ ہیں جو تم نے اس فن کو حاصل کرنے میں جلا دیں۔ اور سو کوڑے تمہاری اس نادانی کی سزا ہیں کہ تم نے خدا کی دی ہوئی طاقت، وقت اور زندگی کے بیش قیمت سال ایک ایسے بے سود کام میں ضائع کر دیے جس سے نہ تمہاری ذات کو کوئی سچا وقار ملا، نہ کسی انسان کو نفع پہنچا۔

یہ کوئی محض قصہ نہیں، بلکہ ہمارے اپنے دور کا عکس ہے۔

آج ہم ایک ایسے عہد میں سانس لے رہے ہیں جہاں لایعنی مشغولیات کو "کمال" کا نام دے دیا گیا ہے۔ ہم گھنٹوں، دنوں اور سالوں کو ایسی جگہوں پر نچوڑ دیتے ہیں جہاں سے نہ روح کو بالیدگی ملتی ہے اور نہ زندگی کو کوئی پائیدار مقصد۔ ہم محنت تو بہت کرتے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر چمکنے والی شے سونا نہیں ہوتی اور ہر باریک کام کمال نہیں ہوتا۔

مہارت صرف یہ نہیں کہ انسان کسی مشکل کام کو کرنا سیکھ لے، بلکہ حقیقی دانائی یہ ہے کہ وہ یہ سمجھے کہ کون سا کام کرنے کے لائق ہے۔ اگر تیر کمان سے نکل کر کسی فضول ہدف میں جا لگے، تو تیر انداز کی مہارت ستائش کی نہیں، افسوس کی مستحق ہوتی ہے۔اپنے وقت کو، اپنی فکر کو اور اپنی صلاحیت کو ایسے راستے پر گامزن کیجیے جو کل کو پچھتاوا نہ بنے۔ زندگی کا سچا انعام وہی محنت پاتی ہے جو معاشرے میں روشنی پھیلا جائے، روح کو سکون بخشے اور وقت کے صحرا میں کوئی نیک قدم چھوڑ جائے۔

کالم نگار : مولانا ابنِ انیس شجاع الرحمٰن بہاولپوریؔ
| | |
117     8