(+92) 319 4080233
کالم نگار

ڈاکٹرامیرجان حقانی

ڈاکٹرامیرجان حقانی

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
بنیادی علوم کے ساتھ تخصص ضروری ہے
اس میں دو رائے نہیں کہ یہ تخصصات (Specializations) کا دور ہے۔ آج علم کی دنیا اس قدر وسیع ہوچکی ہے کہ کسی ایک شخص کے لیے تمام علوم میں مہارت حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ اسی لیے ہر شعبۂ علم میں ماہرین پیدا ہورہے ہیں اور ہر میدان میں تخصص کو ترجیح دی جارہی ہے۔ تاہم اس حقیقت کے ساتھ ایک اور حقیقت بھی اتنی ہی اہم ہے کہ تمام بنیادی علوم کی اصطلاحات، مفاہیم اور ابتدائی مبادیات سے واقفیت بھی بے حد ضروری ہے، ورنہ انسان اپنی علمی اور عملی زندگی میں بارہا رکاوٹوں کا سامنا کرتا ہے اور بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔

آپ کو ایک مثال کے ذریعے اپنی بات کی وضاحت کرتا ہوں۔

میں ہمیشہ کسی نہ کسی مفکر، محقق یا اسکالر کا مطالعہ کرتا رہتا ہوں۔ اگر وہ مفکر قدیم اسلامی، سماجی یا فلسفیانہ علوم سے تعلق رکھتا ہو تو اس کی تحریر اور تحقیق میں دینی دلائل کے ساتھ علم منطق اور فلسفے کی اصطلاحات بھی کثرت سے استعمال ہوتی ہیں۔ میری بنیادی منطق اور فلسفہ بہت کمزور ہے، اس لیے بار بار اس مفکر کا درست مفہوم سمجھنے میں دقت ہوتی ہے۔ ہر مرتبہ مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ اگر علم منطق اور فلسفہ کی بنیادیں مضبوط ہوتیں تو سماجی اور دینی علوم کی توضیحات کے درمیان استعمال ہونے والی ان بحثوں سے پریشان نہ ہونا پڑتا۔

یہی المیہ مجھے جدید مفکرین کی کتب اور تحریروں کے ساتھ بھی پیش آتا ہے۔ وہ انہی سماجی علوم کو بیان کرتے ہوئے جدید سائنسی نظریات، پیور سائنس کی مثالیں اور تکنیکی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں۔ ان کو سمجھنے میں بھی دقت ہوتی ہے، کیونکہ میری بیسک سائنس بھی بہت کمزور ہے۔ میٹرک بھی آرٹس میں کیا تھا، اس لیے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ پیور سائنس کی بنیادی اصطلاحات اور تصورات سے بھی میری واقفیت محدود ہے۔

میں آپ سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم کی کسی آیت کی تفسیر اگر منطقی اور فلسفیانہ انداز میں پڑھنے کو ملے، یا جدید و قدیم سائنسی علوم کی روشنی میں بیان کی گئی تفسیر سامنے آئے، تو دونوں صورتوں میں اس کے دقیق مفہوم تک پہنچنے میں دشواری محسوس ہوتی ہے۔ وجہ صرف یہ ہے کہ ان علوم کی بنیادی زبان اور اصطلاحات سے خاطر خواہ واقفیت نہیں۔

میرے خیال میں آج کے طالب علم، محقق، استاد اور قلم کار کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ وہ کم از کم اہم قدیم و جدید علوم کی بنیادی واقفیت ضرور حاصل کرے۔ منطق، فلسفہ، نفسیات، سماجیات، معاشیات، تاریخ، سیاسیات، اسلامیات، ریاضی، طبیعیات، حیاتیات اور جدید ٹیکنالوجی جیسے علوم کی ابتدائی سطح کی سمجھ انسان کی فکری وسعت میں غیر معمولی اضافہ کرتی ہے۔ اس سے نہ صرف مختلف النوع کتابوں کا مطالعہ آسان ہوجاتا ہے بلکہ مختلف مکاتب فکر کے درمیان مکالمہ بھی زیادہ بامعنی بن جاتا ہے۔

اسلامی علمی روایت بھی اسی حقیقت کی گواہ ہے۔ امام غزالی، ابن تیمیہ، ابن رشد، شاہ ولی اللہ دہلوی، علامہ اقبال اور دیگر اکابر نے اپنے اپنے دور کے متعدد علوم سے استفادہ کیا، پھر کسی ایک میدان میں غیر معمولی تخصص حاصل کیا۔ اسی جامعیت نے ان کی فکر کو دوام بخشا۔

لہٰذا اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میرا کہنا ہے کہ انسان کو ان اہم قدیم و جدید علوم کی بنیادی ضرورت پوری کرتے ہوئے کسی ایک فن میں ضرور متخصص ہونا چاہیے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ بنیاد وسیع ہوگی تو عمارت بھی مضبوط ہوگی؟، اگر ایسا ہوگا تو تخصص کی منزل بھی زیادہ مستحکم، متوازن اور مؤثر ثابت ہوگی۔ شاید یہی وہ راستہ ہے جو ایک طالب علم کو صرف معلومات کا ذخیرہ نہیں بلکہ صاحب بصیرت انسان بناتا ہے اور اپنے منتخب فن میں باکمال بھی۔

کالم نگار : ڈاکٹرامیرجان حقانی
| | |
56