خواتین وبچوں بچوں کی تربیت، خطباء اور دیگر علما کی جدید فکری تربیت، تھنک ٹینک کا قیام ، ریسرچ یونٹ اور تجدیدی فورمز ، اجتماعی شوریٰ اور فیصلہ سازی کا کلچر جیسے اہم امور میں بھی تجدیدی کام کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹرامیرجان حقانی
گلگت بلتستان کے بچے بھی حق رکھتے ہیں کہ انہیں ملک کے بڑے اور معتبر دینی مراکز کے علمی ذوق، فکری تربیت، تحقیقی مزاج اور دینی بصیرت سے براہ راست استفادہ کرنے کا موقع ملے۔
ڈاکٹرامیرجان حقانی
آج میں ان والدین سے مخاطب ہوں جو اپنے بچوں کو دینی تعلیم (درس نظامی) دلوا رہے ہیں یا مستقبل میں دلوانا چاہتے ہیں۔ آپ اس کو آرٹ آف پیرنٹنگ ہی سمجھیں۔
ڈاکٹرامیرجان حقانی
آپ خاموشی سے اپنا جائزہ لیجیے، اپنی سمت متعین کیجیے، اہداف مقرر کیجیے اور آج ہی اپنے سفر کا آغاز کردیجیے۔ یقین جانیں، اگر آپ نے اپنی ملازمت کے ساتھ اپنے علم، کردار، تحقیق، تصنیف، تربیت اور خدمت کو جوڑ لیا تو ایک وقت آئے
ڈاکٹرامیرجان حقانی
امام غزالی، ابن تیمیہ، ابن رشد، شاہ ولی اللہ دہلوی، علامہ اقبال اور دیگر اکابر نے اپنے اپنے دور کے متعدد علوم سے استفادہ کیا، پھر کسی ایک میدان میں غیر معمولی تخصص حاصل کیا۔ اسی جامعیت نے ان کی فکر کو دوام بخشا۔
ڈاکٹرامیرجان حقانی
ادارے ہوں یا محکمے، تنظیمیں ہوں یا جماعتیں، ہر نظام کی مضبوطی چند ایسے لوگوں کی مرہون منت ہوتی ہے جو انتہائی مخلص، باصلاحیت، صاحب وژن اور غیر معمولی اہلیت کے حامل ہوتے ہیں۔ یہی لوگ درحقیقت اس عمارت کے بنیاد کے پتھر ہوتے
ڈاکٹرامیرجان حقانی
اس عظیم شاہکار کی تعمیر پاکستان اور چین کے مابین دوستی، تعاون اور انجینئرنگ مہارت کی ایک زندہ و جاوید مثال ہے۔
ڈاکٹرامیرجان حقانی