(+92) 319 4080233
کالم نگار

سونیاکنول

سونیاکنول

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
سفید پوش گھرانوں کا المیہ
سفید پوش طبقہ… یا ورکنگ مڈل کلاس جن کے آباؤ اجداد ان کے لیے نہ کوئی جما جمایا کاروبار چھوڑ کر گئے، نہ جائیدادیں، نہ کرایوں پر چلنے والی دکانیں…ان کی پروگرامنگ میں کچھ چیزیں پیدائشی طور پر فٹ ہوتی ہیں۔ اعتدال پسندی… میانہ روی… بچت… آمدنی اور خرچ کا حساب… پورے مہینے کے خرچے کو ہفتہ وار یا عشرے کے حساب سے تقسیم کرنا… اور ہر حال میں بیماری، ایمرجنسی اور آنے والے وقت کے لیے کچھ نہ کچھ بچا کر رکھنا۔ہم نے یہ سب اپنی امیوں کو کرتے دیکھا ہے… اور انہوں نے اپنی امیوں کو۔گویا یہی ایک وراثت نسل در نسل منتقل ہوئی ہے۔

اماں اپنا سارا حساب کتاب ہماری پچھلی جماعت کی ادھوری کاپیوں پر لکھتی تھیں۔ کہاں کتنا خرچ ہوا… کس کو کتنے پیسے واپس کیے… کس سے کتنا ادھار لیا… ایک ایک روپے کا حساب محفوظ رہتا تھا اور ابا کے پاس ایک چمڑے کے کور والی ڈائری ہوتی جن میں ان کے دوستوں کے فون نمبر ان کے گھر کے پتے اور یہ سارا حساب کتاب لکھا ہوتا تھا۔۔ہفتہ وار سبزی،موسم کا سب سے سستا پھل اور مرغی کا گوشت منڈی یا جمعہ بازار سے خریدا جاتا۔ بچوں کے کپڑے اکٹھے صدر بازار سے آتے۔ پردے، بیڈ شیٹس اور گھریلو سامان کے لیے اسٹیشن والا بازار مخصوص تھا۔باورچی خانے کے مصالحے، اور دوسری خام اشیاء کے لئے یتیم خانے بازار جایا جاتا تھا۔۔آنے جانے کے لیے بس (پیلی ویلوو کی بسیں) یا صدر(نانی کا گھر) سے گڑھی شاہو(بڑی خالہ کا گھر) تک ٹانگا… اور قریب کا فاصلہ؟ ہمیشہ پیدل۔

رکشہ اس زمانے میں ضرورت نہیں، عیاشی سمجھا جاتا تھا۔پرانے گھی کے ڈبے… ردی… ٹوٹی پلاسٹک کی اشیاء … کاپیاں… چھان… بورے…کچھ بھی فوراً نہیں پھینکا جاتا تھا۔ مہینے کے آخر میں ردی والے کو بیچ کر جو پیسے ملتے، وہ بھی ایک طرح کا بونس ہوتے تھے۔

گرمیوں میں مغرب کے بعد پورا گھر صحن یا دالان میں منتقل ہو جاتا تھا۔ وہیں کھانا… وہیں گپ شپ… وہیں چارپائیاں… وہی چھوٹے میز پر رات کے ڈرامے کے لئے ٹی وی اور تھوڑا پرے اماں کا چولہا جس پر ایک طرف ہنڈیا دم پر رکھی ہوتی اور دوسری طرف فٹا فٹ پھلکے اترتے جاتے۔۔اور یوں بجلی کی بھی بچت ہو جاتی۔

اسکول یا ٹیوشن چھوڑنے اور لینے کے لیے کسی وین کا کوئی تصور نہیں تھا۔ یہ ذمہ داری اماں اور دادی آپس میں بانٹ لیا کرتی تھیں۔ ایک چھوڑنے جاتی، دوسری واپس لے آتی۔باہر سے کھانا منگوانا تو دور کی بات، اس کا خیال بھی نہیں آتا تھا۔ ہاں، کبھی موسم کے حساب سے سموسے، جلیبیاں یا شبِ برات اور بارہ ربیع الاول پر میٹھی بوندی اور نمک پارے ضرور آ جاتے۔ اور اس پر بھی دادی کا تبصرہ یہی ہوتا… "یہ گھر میں بھی تو بن سکتے ہیں۔"

نئے کپڑے صرف عید پر بنتے… یا موسم شروع ہونے سے پہلے، وہ بھی اکثر پچھلی سیل میں کم قیمت پر خریدے ہوئے کپڑے سے۔اگر کسی ایک بچے کے لیے مہنگا سوئیٹر، فراک یا کھلونا لیا جاتا تو پوری کوشش ہوتی کہ وہ آخری بچے تک استعمال ہو۔ اس کے بعد بھی اسے پھینکنا فضول خرچی سمجھا جاتا، کسی قریبی رشتہ دار کے بچے کو دے دیا جاتا۔

مہمان نوازی کبھی مہمان کی حیثیت دیکھ کر نہیں کی جاتی تھی۔ اپنی جیب، اپنی استطاعت اور اپنی بساط کے مطابق کی جاتی تھی۔ گھر میں جو موجود ہوتا اسی سے تواضع کی جاتی اور مہمان بھی اتنے ہی ظرف والے ہوتے تھے کہ کبھی منہ نہیں بناتے تھے کہ "ہم تو یہ نہیں کھاتے" یا "ہمیں تو یہ پسند ہی نہیں۔"

دودھ سے دہی جمانا… ملائی سے دیسی گھی بنانا… سستے ہوئے ٹماٹروں کی چٹنی تیار کرنا… لیموں کا رس محفوظ کرنا… سال بھر کی لی گئی گندم اور چاول سنبھال کر رکھنا… یہاں تک کہ دیسی صابن بھی گھر میں بنتا تھا۔ ہماری نسل کے بچوں کو یہ سب آتا تھا۔ کیونکہ نہ موبائل تھے… نہ ہوٹلنگ کا رواج… نہ ہر ہفتے آؤٹنگ… اور نہ ہی ان شوقوں کے لیے اضافی سرمایہ۔ہماری امیاں، خالائیں، ممانیاں، پھوپھیاں، چاچیاں اور تائیاں… ان کا ایک مضبوط نیٹ ورک تھا۔اگر کسی ایک کو کہیں سے اچھی، معیاری اور سستی چیز مل جاتی تو پورا خاندان اس دکان کا گاہک بن جاتا۔ سوچ یہی ہوتی تھی… اگر ہمارا فائدہ ہوا ہے تو باقیوں کا بھی ہونا چاہیے۔ہر دکاندار سے…ہر رکشے والے سے… ٹیوشن والی استانی سے… ڈاکٹر سے…بھاؤ تاؤ کیے بغیر پوری رقم ادا کرنے والے کو رئیس سمجھا جاتا تھا۔

اور امیوں کا ایک عالمی ڈائیلاگ جو ہمیں ازبر ہوتا۔۔(ویخ لے نکے ویر۔۔اسی تیرے پرانے گاہک آں۔۔)

(چھوٹے بھائی دیکھ لیں ہم آپ کے پرانے گاہک ہیں )

میری دادی بہت اعلیٰ سلائی کرتی تھیں۔ احمد کی پیدائش کے بعد بھی میرے کپڑے… پردے… بیڈ شیٹس… سب وہی سیتی تھیں۔

تو ان کو دیکھ دیکھ کر ہمیں بھی سلائی ،کروشیا… ٹائی اینڈ ڈائی… پرانے کپڑوں اور چادروں کو رنگ کر نئی جان دینا… آ گیا تھا اور پھر اپنی محنت کا خوبصورت نتیجہ دیکھ کر خوشی سے نہال ہو جانا…یہ سب ہماری نسل کی تربیت کا حصہ تھا۔

اسی لیے ہم لوگ چاہ کر بھی فضول خرچ نہیں ہو سکتے۔ یہ ہمارے مزاج میں ہی نہیں۔ ہم نے محنت سے کمائے ہوئے ایک ایک روپے کی قدر اپنے بڑوں سے سیکھی ہے۔

کالم نگار : سونیاکنول
| | |
64