(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانامحمداکبر

مولانامحمداکبر

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
تین جگہوں میں ٹھہراؤ کی عادت بنائیے
سکون عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے ٹھہر جانا، رک جانا۔ٹھہراؤ کی ہماری زندگی میں بہت اہمیت ہے۔ دل، دماغ اور پورے جسم کو ٹھہراؤ چاہیے۔ ٹھہرے بغیر صرف آگے بڑھتے چلے جانے والا انسان مشین بن جاتا ہے، اس کے اندر سے احساس نام کی چیز مٹ جاتی ہے۔ کوئی مر جائے، کسی کی شادی ہو جائے، کوئی بیمار ہو جائے، کوئی پریشانیوں میں گرا ہو، کسی کا مالی نقصان ہو جائے، مشینی انسان کو کچھ فرق نہیں پڑتا کیونکہ اسے تو آگے جانا ہے۔ وہ رشتہ داروں اور دوستوں کی خبر گیری کے سارے اسلامی فریضے چھوڑ دے گا کیونکہ اسے بس صرف مشین کی طرح چلتے رہنا ہے۔

جو انسان تین جگہوں میں اپنے آپ کو سکون یعنی ٹھہرنے کا عادی بنا لیتا ہے، اسے بقیہ کاموں کو بھی سکون سے مینیج کرنا آجاتا ہے کیونکہ ان تین جگہوں میں ٹھہرنا اور سکون پانا آج کے بھاگتے انسان کےلیے بہت مشکل ہے۔ ان تین جگہوں میں سے پہلی جگہ گھر ہے۔ اللہ تعالی نے گھر کے بارے میں فرمایا:وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْۢ بُیُوْتِكُمْ سَكَنًا (سورت نحل: 80)

اور اللہ نے تمہارے لیے تمہارے گھروں کو سکون کی جگہ بنایا۔

اللہ تعالی نے گھر کو نفسیاتی اطمینان ، شعوری ٹھہراؤ اور جذباتی سکون کی جگہ بنایا ہے، گھر جا کر انسان خوش ہوتا ہے اور ساری تھکان اتر جاتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ باہر زیادہ وقت گزار لیا جائے اور گھر میں تھوڑا۔ ہم سوچتے ہیں کہ گھر جا کر کیا کریں گے؟ وہاں تو شور ہوگا، بیوی یا ماں کی طرف سے سوالات کی بھرمار ہوگی، بچوں کے چیخنے چلانے کی آوازیں ہوں گی تو اس سے بہتر ہے کہ آفس یا دکان ہی میں بیٹھے رہو، گھر اس وقت جاؤ جب کھانا تیار ہو اور کھا کر فورا سو جاؤ یا گھر والے سو جائیں تاکہ موبائل چلا سکو۔لیکن جس انسان کا سکون گھر سے وابستہ ہو جائے ، وہ تو باہر کے ماحول میں مچھلی کی طرح تڑپتا رہتا ہے کہ کب ڈیوٹی کا وقت پورا ہو اور میں گھر کی طرف بھاگوں۔ یہ شخص جب گھر پہنچتا ہے تو اس کی پھولی ہوئی سانس ٹھہر جاتی ہے، اس کی بے قرار روح کو قرار مل جاتا ہے اور ایسے لگتا ہے جیسے دشمن (شیطان) کے حملے سے بچ کر اپنے حفاظتی اور پر امن مورچے میں آ چکا ہے۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھیں کہ گھر کو پُرسکون بنانا ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ اسلام یہی چاہتا ہے کہ گھر میں کوئی ایسا کام نہ کیا جائے جس سے سکون ختم ہو اور بات نفرت یا جھگڑے تک جا پہنچے۔ اس کےلیے مرد و عورت دونوں کو کردار ادا کرنا چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ جب گھر میں داخل ہوتے تو مسکرا کر داخل ہوتے۔ مسکراہٹ گھر میں سکون قائم رکھنے کےلیے پہلی اینٹ ہے۔ ایسے میں عورت کو بھی مسکرا کر ہی استقبال کرنا چاہیے تاکہ مرد کو گھر جانے کی طلب رہے اور وہ بیوی کی مسکراہٹ دیکھنے کےلیے راستے کے ہوٹلوں میں اُلجھے بغیر سیدھا گھر جانے کو ترجیح دے۔

گھر کے سکون کےلیے کسی بہن بھائی کی پرائیویسی میں دخل نہ دینا، کسی کی ٹوہ میں نہ لگنا، کسی کی چیز کو بغیر اجازت کے نہ اٹھانا، کسی کی چھوٹی غلطی کو برداشت کرنا، کسی کے کمرے میں بتائے بغیر نہ گھسنا وغیرہ بہت ساری چیزیں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ گویا ہر فرد میں ایک دوسرے کےلیے سامانِ سکون بننے کا جذبہ موجود ہو۔

دوسری جگہ جہاں جا کر انسان کو ٹھہر جانا چاہیے، وہ ہے بیوی کے پاس۔ بیوی کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا:وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا(سورت روم: 21)

اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم میں سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان کے پاس جا کر سکون حاصل کرو۔

مرد کےلیے بیوی اطمینان، سکون اور استقرار (یعنی ٹھہر جانے) کی جگہ ہے۔ بیوی کے پاس بیٹھ کر دنیا کے سارے غم بھول جانے چاہئیں۔حیرانی ہوتی ہے کہ لوگ سکون کے چشمے (یعنی بیوی) کے پاس جا کر بھی بے سکونی کی پیاس میں بلکتے رہتے ہیں۔ بیوی کے پہلو میں لیٹ کر یا بیٹھ کر بھی ان کے ہاتھوں میں موبائل رہتا ہے اور وہ سکون کی تلاش میں براؤزنگ یا سکرولنگ کر رہے ہوتے ہیں۔

ارے ! سکون تمہارے ساتھ ہے، بیوی کا ایک جملہ یا ایک لمس تمہارے جسم، روح اور اعصاب کو ٹھہراؤ اور سنجیدگی دے سکتا ہے۔ اسے چھیڑ کر تو دیکھو۔ لیکن ہمارے ہاں میاں بیوی پر لطیفے ہی اتنے زیادہ بنا دیے گئے کہ انسان لا شعوری طور پر عورت کو ایک مصیبت اور بے سکونی کا اہم ذریعہ گردانتا ہے۔ یہ آیت جہاں مرد کو متوجہ کرتی ہے کہ وہ عورت سے سکون پائے، اس کے پاس جا کر ٹھہر جائے اور محبت و مودت کی باتیں کرے، وہی عورت کو بھی سکون بننے کا ذمہ دار بناتی ہے۔ اگر عورت کو یہ فکر دامن گیر ہو جائے کہ مجھے ہر اعتبار سے اپنے میاں کو سکون پہنچانا ہے تو کسی مرد کا باہر لڑکیوں کے ساتھ فلرٹ کرنے کا جی ہی نہ چاہے۔

تیسری جگہ جہاں انسان کو ٹھہرنا سیکھنا چاہیے، وہ ہے رات۔ اللہ تعالی نے فرمایا:هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ (سورت یونس: 67)

وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ اس میں سکون حاصل کرو۔

یہ آیت بتاتی ہے کہ رات سکون کےلیے ہے، رات سے طبیعت کو تروتازگی ملتی ہے، دن کی محنت سے جو تھکن ہوئی، رات سے اس تھکان کو آرام ملتا ہے۔ رات کو آنکھیں نیند کی مٹھاس پاتی ہیں۔مصنوعی بجلیوں کی کوند نے ہمیں رات کے سکون سے دور کر دیا۔ دن بارہ ایک بجے تک سونے والے کیا جانیں کہ عشاء کے بعد سو کر صبح تہجد کے وقت جاگنے کی کیا لذت ہے؟ رات ایک بجے تک ہوٹلوں اور سینما ہاؤسز میں دوستوں کے ساتھ گپ شپ لگانے والے کیا جانیں کہ رات کی پُرسکون فضا میں کھلے آسمان تلے چارپائی بچھا کر تاروں کو تکتے تکتے نیند کی وادی میں اتر جانے کا کیا لطف ہے؟

یہ تین جگہیں (گھر، بیوی، رات) ایسی ہیں جہاں سے سکون کے چمشے رواں ہوتے ہیں اور جو انسان کوشش کر کے اپنے آپ کو ان تین جگہوں سے جوڑ لیتا ہے، اِن سے سکون حاصل کرتا ہے ، اُس کی پوری زندگی میں ٹھہراؤ آجاتا ہے۔

اُس کے اعمال میں وقار کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ اُسے بھاگنے کی ریس سے نفرت ہونے لگتی ہے ، وہ ٹھہر کر چیزوں کو انجوائے کرتا ہے اور ذوق جمالیات کے اعلی مرتبے پر پہنچ جاتا ہے۔

اسے چائے کا کپ ہاتھ میں پکڑ کر موبائل چلانا چائے کی توہین لگتی ہے، وہ ہر دینی یا دنیاوی کام کو یکسوئی کے ساتھ کرنا چاہتا ہے کیونکہ اس کے پاس وقت ہے اور جس کھلاڑی کے پاس پچ پر ٹھہرنے کا وقت ہو، وہ کنگ کہلاتا ہے اور عموما وہ میچ ختم کر کے ہی آتا ہے۔

کالم نگار : مولانامحمداکبر
| | |
68