پہلے 85 ہزار افراد کو مارا گیا۔ پھر ان کے باقیات کو ایک تقریب کے دوران ایک مقام پر دفن کیا گیا۔ یہ وہ اقلیتی لوگ تھے جنہیں حکومت نے 'کاکروچ' کہا تھا۔ یہ ان 8 لاکھ سے زائد لوگوں میں شامل تھے جنہیں انتہا۔پسند۔وں نے 100 دنوں میں ق۔تل کیا تھا۔
1994 کے ق۔تل عا۔م سے قبل روانڈا کی حکومت نے پوری پروپیگنڈا مشینری استعمال کرتے ہوئے توتسی اقلیت کے خلاف نفرت پھیلائی۔ انہیں 'Inyenzi' یعنی کاکروچ کہا جانے لگا۔ یہ لفظ اخبارات کے ہر شمارے اور ریڈیو کے ہر پروگرام میں آنے لگا تھا حتیٰ کہ ایک اداریے کا عنوان 'کاکروچ سے تتلی نہیں نکلتی' تھا۔
ایک اصطلاح ڈی ہیومنائزیشن استعمال ہوتی ہے یعنی انسان کو انسان سے کم تر دکھانا۔۔۔توتسیوں کو اس لیے کاکروچ کہا گیا تاکہ جب قت۔ل کا حکم آئے تو درزی، کسان، استاد، پادری۔۔۔ غرض عام لوگ بھی بے گناہ مردوں، عورتوں، بوڑھوں اور بچوں کو ما۔ر۔نے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔ یہی نفرت تھی جو میڈیا کے ذریعے پھیلائی گئی اور پھر لاکھوں لوگوں کو مو۔ت کے گھا۔ٹ اتارا گیا۔
ماہرین لسانیات اس بات پر متفق ہیں کہ روانڈا میں ق۔تل عام سے پہلے توتسیوں کے خلاف توہین آمیز الفاظ کا استعمال آہستہ آہستہ بڑھتا رہا اور پھر نسل کش۔ی تک بات پہنچی۔۔۔ اسی لیے جب انڈیا کے چیف جسٹس نے نوجوانوں کے لیے لفظ 'کاکروچ' استعمال کیا تو ردعمل آپ کے سامنے ہے کیونکہ دنیا اب اتنی تو جان گئی ہے کہ لفظوں کی کاٹ بہت تیز ہوتی ہے۔
'اگر تمام کاکروچ اکٹھے ہو جائیں تو کیسا رہے؟' یہ سوال بوسٹن یونیورسٹی سے پبلک ریلیشنز میں گریجویٹ 30 سالہ ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر پوچھا۔ سوال پوچھتے ہی انڈیا کی تاریخ بدلنے کی بنیاد رکھ دی گئی۔ کبھی سنا ہے کہ کاکروچوں نے سیاسی تحریک شروع کر دی ہو؟ انڈیا میں ہوا ہے۔ کیسے؟ جانئیے۔۔
15 مئی 2026 کو ایک سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریا کانت نے کہا کہ 'جو نوجوان بے روزگار ہیں، وہ سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ بن جاتے ہیں اور پھر ہر ایک پر تنقید شروع کر دیتے ہیں۔ یہ معاشرے کے کاکروچ (پیراسائیٹ) ہیں۔' بعد میں وضاحت آئی کہ مقصد جعلی ڈگری والوں سے تھا انڈین نوجوانوں سے نہیں لیکن نقصان ہو چکا تھا۔
یہ ریمارکس انڈین نوجوانوں پر گراں گزرے اور یوں دہائیوں کا جمع غصہ چنگاری بنا اور پھر تاریخ بدل گئی۔ پیپرز لیک ہو رہے تھے، ملازمتیں نہیں تھیں، مہنگائی آسمان کو چھو رہی تھی اور اوپر سے ملک کی سب سے بڑی عدالت کے سربراہ نے کہہ دیا۔۔۔ 'تم کاکروچ ہو'اپنی بے عزتی کو جین زی نے ڈیجیٹل دنیا میں تاریخ کی سب سے بڑی تحریک میں بدل دیا۔ ابھیجیت دیپکے نے مذاق کو سنجیدگی میں بدلتے ہوئے 'کاکروچ جنتا پارٹی' کے نام سے ویب سائٹ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنا دیے۔ بظاہر یہ نام بھارتیہ جنتا پارٹی یعنی بی جے پی پر طنز تھا اور پھر وہ ہوا جو شاید دیپکے نے خود بھی نہیں سوچا تھا۔
دیکھتے ہی دیکھتے ان کے اکاؤنٹ پر لوگ جمع ہونا شروع ہوئے۔ لاکھوں لوگوں نے انسٹاگرام پر انہیں فالو کیا اور ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے گوگل فارم کے ذریعے ممبرشپ حاصل کی۔ اسمبلی اور پارلیمان کے ارکان بھی شامل ہوئے۔ اس وقت ان کے انسٹاگرام پر حکمران سیاسی جماعت بی جے پی سمیت گانگریس سے زیادہ فالورز ہوگئے ہیں۔دیپکے نے الجزیرہ کو شکاگو سے بتایا 'اقتدار میں بیٹھے لوگ سمجھتے ہیں کہ شہری کاکروچ ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کاکروچ سڑی ہوئی جگہوں میں پیدا ہوتے ہیں اور آج انڈیا کا یہی حال ہے۔'
یہاں ایک بات سمجھنا ضروری ہے۔ یہ جو نوجوان اس وقت خود کو کاکروچ کہلوانے پر فخر کر رہے ہیں مجھے لگتا ہے وہ کاکروچ کی اصل طاقت جانتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ کاکروچ وہ جاندار ہے جسے 32 کروڑ سال پہلے زمین پر آنے کا موقع ملا تھا۔۔ ڈائنوسار آئے اور چلے گئے لیکن کاکروچز اب بھی زندہ ہیں اور صرف اس لیے نہیں کہ قسمت نے ساتھ دیا بلکہ اس لیے کہ یہ مخلوق ناقابل یقین حد تک لچکدار ہے۔
سائنس بتاتی ہے کہ کاکروچ کا سر کا۔ٹ دیں تو بھی وہ ہفتوں زندہ رہتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس کا سانس لینے کا نظام جسم کے چھوٹے چھوٹے سوراخوں سے چلتا ہے۔ ا۔یٹم بم کی تابکاری سے بھی تقریباً دس فیصد کاکروچ بچ جاتے ہیں۔
اب انڈیا میں کاکروچ جنتا پارٹی ایک بڑی تحریک بن گئی ہے۔ ایک ایسی تحریک جو نہ صرف انڈین نوجوانوں کے غصے کی عکاسی کر رہی ہے بلکہ یہ ایک بڑے سوال کا جواب بھی ہے۔ ہر سال انڈیا سے 80 لاکھ سے زائد طلباء گریجویٹ ہوتے ہیں لیکن نوکریاں نہیں ہیں۔۔ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 29 فیصد سے زائد ہے۔ اس لیے یہ مذاق اب اپنی زندگی خود جینے لگا ہے۔
ابھیجیت دیپکے بتاتے ہیں ' لوگ متبادل سیاسی تجربات چاہتے ہیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی ایک طنزیہ تحریک ہے لیکن پھر بھی لوگ اسے حقیقت سے بہتر متبادل سمجھتے ہیں۔' اس تحریک کے منشور میں پانچ مطالبات ہیں، 'ججز کی ریٹائرمنٹ کے بعد سرکاری عہدوں پر تعینات نہ کرنے پابندی، امتحانی کرپشن پر احتساب، پارلیمان میں خواتین کا 50 فیصد کوٹہ، آزادی اظہار رائے اور سیاسی خرید و فروخت پر بیس سال کی پابندی۔۔۔۔'
دنیا بھر میں جنریشن زی نے ثابت کیا ہے کہ نوجوانوں کے ہاتھ میں موبائل کی صورت میں ایک زبردست طاقت آگئی ہے۔ بنگلہ دیش میں 2024 میں طلبہ نے 15 سال سے اقتدار میں بیٹھی شیخ حسینہ کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ انڈیا میں کاکروچ جنتا پارٹی نے چند ہی دنوں میں ملک کی سب سے بڑی پارٹیز کو شکست دی۔۔۔ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو صفائیاں دینے پر مجبور کر دیا اور اب وزیر تعلیم بھی ان کے مطالبے پر استعفیٰ دے بیٹھے ہیں۔
ادیب یوسفزئی