سوشل میڈیا پر کثیر ترین علماء اسلام کی آمد کے بعد تمام اکابر کو اس امر کا شدت سے احساس ہوچکا ہے کہ علماء کو ادب اختلاف سکھانے کی اشد ضرورت ہے ۔ مختلف اکابر و اصاغر اس طرف بارہا متوجہ کر چکے ہیں اور وقتاً فوقتاً متوجہ کرتے رہتے ہیں۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ درس نظامی کے نصاب میں ادب اختلاف شامل ہی نہیں ہے، تخصص میں جاکر کہیں ادب اختلاف اور اسباب اختلاف پڑھائے جاتے ہیں۔۔ اب تخصص سب تو نہیں کرتے ۔
لہذا اختلاف کی صورت میں مخالف کو "فتح" کرنا زندگی کے عظیم مقاصد میں شامل ہوتا ہے اور "فاتح فلاں فلاں" کا ٹائٹل نشان حیدر کے برابر سمجھا جانے لگتا ہے۔ مد مقابل کی ذاتی تذلیل و اہانت ایک گر اور "مہذب" دشنام طرازی سامان لطف اندوزی سمجھا جاتا ہے۔
آٹے میں نمک برابر ہو تو کسی قدر قابل تحمل ہوسکتا ہے لیکن جب سوشل میڈیا بھرا ہوا ہو اور ہر طرف سے بدتہذیبی کی آگ برس رہی ہو تو سلیم الطبع انسان کے لئے یہ ماحول ناقابل برداشت ہو جاتا ہے۔
ذمہ داران حضرات خصوصاً مجمع العلوم اور وفاق المدارس کے کارپردازان کو اگلی نسل کی تربیت کے لئے ادب الاختلاف اور اسباب اختلاف کو نصاب کا لازمی حصہ بنانا چاہیے۔
فقہی اختلاف کی تفصیلی کتابیں شروع کرنے سے قبل اس موضوع کو شامل درس کرلینا بہتر ہے تاکہ فقہی اختلافات کے بیان کے وقت اس کی عملی تربیت بھی ہوتی رہے۔
اس سے اچھے سے ذہن نشین ہو جائے گا کہ اختلافات کتنے خوبصورت ہوا کرتے ہیں اور اختلافات رکھنے کے باوجود کیسے محبت،الفت اور احترام کے جذبات قائم رہتے ہیں۔