آج جمعہ کا مبارک دن تھا، اور اس پر مستزاد یہ سعادت کہ یہ مبارک ساعتیں مدینہ منورہ کی پاکیزہ فضاؤں میں نصیب ہو رہی تھیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ایسا انعام تھا جس پر جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ دل بار بار یہی کہہ رہا تھا کہ واقعی قسمت جاگ اٹھی ہے کہ محبوبِ خدا ﷺ کے شہر میں جمعہ نصیب ہوا۔
ناشتے سے فارغ ہو کر کچھ دیر آرام کرنے کے بعد تقریباً ساڑھے نو بجے ہم اٹھے والد محترم تیار ہوکر بیٹھے تھے، میں بھی جلدی سے جمعہ کی تیاری مکمل کرتا ہوں اور پھر والدِ محترم حفظہ اللہ کے ہمراہ مسجدِ نبوی ﷺ کی طرف ہم روانہ ہوتے ہیں۔
جوں ہی مسجدِ نبوی ﷺ کے مسجد نبوی کے تہہ خانے میں گاڑی پارک کرکے اوپر آئے اور جیسے ہی وسیع صحن میں قدم رکھا، دل کی دنیا ہی بدل گئی۔ ہر طرف عقیدت مندوں کا سمندر تھا۔ کسی کے لبوں پر درود و سلام تھا، کوئی تلاوتِ قرآن میں مشغول تھا، کوئی دعا میں ہاتھ اٹھائے اپنے رب سے سرگوشیاں کر رہا تھا، اور سب کی نگاہیں بار بار گنبدِ خضرا کی طرف اٹھ رہی تھیں۔ اس سبز گنبد کا ایک ہی دیدار ایمان میں ایسی تازگی پیدا کرتا ہے جسے الفاظ میں سمویا نہیں جا سکتا۔
والدِ محترم کے لیے وہیل چیئر کا انتظام کیا گیا تھا۔ ہم مسجد کے دائیں جانب یعنی مغربی سمت میں واقع باب نمبر آٹھ سے داخل ہوئے اور اندر مناسب جگہ دیکھ پر بیٹھ گئے۔ جمعہ کے انتظار میں سورۂ کہف کی تلاوت، درود و سلام اور دعا و مناجات میں وقت گزرتا رہا، یہاں تک کہ اذان کا وقت آ پہنچا۔
پہلی اذان ہوئی، پھر کچھ وقفے کے بعد زوالِ آفتاب کے ساتھ دوسری اذان دی گئی اور امام صاحب خطبے کے لیے منبر پر تشریف لائے۔
اس روز خطبے کا موضوع 'ترویح عن النفس' سیر و تفریح کے تقاضے تھا، چونکہ سعودی عرب میں گرمیوں کی تعطیلات کا زمانہ تھا، اس لیے خطیب نے گفتگو کی کہ انسان اپنی فراغت کے اوقات کو کس طرح مفید بنائے اور ہر ایک سیر و تفریح کا حق رکھتا ہے وہ اس کو کیسے ادا کرے، انہوں نے بیان کیا کہ نفس کو راحت اور جائز تفریح کی ضرورت ہوتی ہے، اور شریعتِ اسلامیہ اس کی اجازت دیتی ہے، بشرطیکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ ہو۔
اپنی گفتگو میں انہوں نے قرآنِ کریم کی ان آیات کی طرف اشارہ کیا جن میں زمین میں سفر کرنے، اللہ کی نشانیوں میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ سے ایسے واقعات بھی ذکر کیے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جائز خوش طبعی، دل جوئی اور مباح تفریح بھی سنتِ نبوی کا حصہ ہے، البتہ ہر حال میں حدودِ شریعت کی پابندی بنیادی شرط ہے۔
خطبہ اختتام کو پہنچا، نمازِ جمعہ ادا ہوئی، اور پھر سنتوں سے فراغت کے بعد مسجد کے صحن میں ایک خوشگوار ملاقات کی محفل لگی۔
والدِ محترم کے کئی سابق شاگرد، جو جامعہ ہدایت اور دارالعلوم ندوۃ العلماء سے فارغ ہو کر مدینہ منورہ میں مقیم تھے، پہلے ہی رابطے میں تھے۔ وہ سب مسجدِ نبوی میں حاضر ہوگئے۔ ان میں ہمارے عزیز بھائی عامر کانپوری، جمیل عباسی صاحب، بھائی کفیل اور حبیب بھائی سمیت کئی احباب شامل تھے۔ تقریباً بیس پچیس منٹ تک مسجدِ نبوی کے سایۂ رحمت میں بیٹھ کر پرانی یادیں تازہ ہوئیں، علمی گفتگو ہوئی، اور استاد و شاگرد کے درمیان محبت اور تعلق کی وہ فضا قائم ہوئی جو صرف اہلِ علم ہی محسوس کر سکتے ہیں۔
اس کے بعد ہم سب بھائی حبیب کی گاڑی سے جمیل عباسی صاحب کی رہائش گاہ پر گئے، جہاں ظہرانے کا اہتمام تھا۔ محبت سے سجی ہوئی اس نشست میں پرانے واقعات بھی یاد آئے، دینی گفتگو بھی ہوئی، اور برسوں بعد اساتذہ و تلامذہ کی یہ ملاقات ایک یادگار مجلس بن گئی۔
ظہرانہ کے بعد ہم بھائی طلحہ ندوی صاحب کے گھر واپس آئے اور کچھ دیر قیلولہ کیا۔ عصر کی نماز گھر ہی میں ادا کی تاکہ مغرب سے پہلے دوبارہ مسجدِ نبوی ﷺ حاضر ہو سکیں۔
چنانچہ مغرب سے کافی پہلے دوبارہ مسجدِ نبوی پہنچ گئے۔ اس مرتبہ گنبدِ خضرا کے عقب میں، جہاں سے سبز گنبد نہایت خوبصورتی سے نظر آتا ہے، بیٹھنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ جمعہ کے دن عصر کے بعد قبولیتِ دعا کی ساعتیں شمار ہوتی ہیں، اس لیے یہ وقت ذکر، دعا، تلاوتِ قرآن اور کثرتِ درود و سلام میں گزرا۔
بار بار نگاہیں گنبدِ خضرا کی طرف اٹھتی تھیں، اور دل و زباں درود و سلام کے نذرانے پیش کرتے رہتے تھے۔ اس لمحے ایک عجیب روحانی کیفیت طاری تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے انسان اپنے محبوب ﷺ کے شہر میں ان کی بارگاہِ اقدس کے بالکل قریب بیٹھا، اپنی عقیدت اور محبت کا اظہار کر رہا ہو۔ دل پر قربت، ادب اور شکرگزاری کے ایسے احساسات وارد ہوتے تھے جنہیں الفاظ میں پوری طرح بیان کرنا ممکن نہیں۔
مغرب کی نماز ادا کی۔ اس کے بعد بھی کچھ احباب ملاقات کے لیے آگئے، اور باقی وقت قرآنِ کریم کی تلاوت، اذکار اور درود و سلام میں گزرتا رہا۔
ارادہ تھا کہ عشاء سے پہلے روضۂ اقدس کے سامنے حاضر ہو کر سلام عرض کریں، لیکن اس وقت مواجہہ شریفہ جانے کے راستے بند تھے اور بتایا گیا کہ عشاء کے بعد دوبارہ کھولے جائیں گے۔ چنانچہ ہم اپنی جگہ واپس آکر بیٹھ گئے اور عشاء کی نماز کا انتظار کرنے لگے۔
نمازِ عشاء کے بعد طے ہوا کہ پہلے کھانے سے فارغ ہو لیا جائے، پھر مکمل یکسوئی کے ساتھ بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضری دی جائے۔ بھائی مولانا طلحہ ندوی ہمیں ایک اچھے ہوٹل لے گئے، جہاں عرب پکوان بطور خاص رز بخاری سے ہم لطف اندوز ہوئے۔ اس کے بعد مسجد نبوی کے تہہ خانے میں بنے حمامات میں وضو اور طہارت سے فارغ ہو کر روضہ اطہر پر حاضری کے لیے بڑھے۔
اب وہ گھڑی قریب آ رہی تھی جس کا دل مدت سے منتظر تھا۔ مدینہ کا سفر ہو اور نبی کے سامنے ان کو سلام نہ پیش کیا جائے تو محرومی ہی محرومی ہے، یہ سلام تو حاصل سفر ہے۔
چند ہی لمحوں بعد روضۂ اقدس کے سامنے، مواجہۂ شریفہ پر، رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں سلام عرض کرنے کی سعادت نصیب ہونے والی تھی۔ اس وقت دل کی کیفیت کیا تھی! زبان کس طرح ساتھ دے رہی تھی! اور آنکھیں کن جذبات سے لبریز تھیں! ہم آہستہ آہستہ مسجدِ نبوی ﷺ کے قدیم عثمانی حصہ کی طرف بڑھے۔ ہر قدم کے ساتھ دل کی دھڑکن تیز ہوتی جا رہی تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ یہ زمین پر اٹھنے والے قدم نہیں بلکہ جنت کی طرف بڑھنے والے قدم ہیں اور شاہ کونین کے دربار میں ان کے روبرو عرض نیاز کا وقت ہے۔ دل میں قربت کی ایک عجیب کیفیت تھی، لیکن اسی کے ساتھ اپنے گناہوں، اپنی کوتاہیوں اور اپنے بے مائیگی کا احساس بھی شدت سے ابھر رہا تھا۔ ایک طرف محسنِ اعظم ﷺ کے بے شمار احسانات کا تصور، دوسری طرف ایک خطاکار امتی کی بے بسی اور شرمندگی۔ انہی دو احساسات کے درمیان دل بار بار جھک رہا تھا۔
ہم اس راہداری میں داخل ہوئے ہیں جو دور عثمانی کا محراب والا حصہ تھا، وہاں اب نماز نہیں ہوتی بلکہ اسے صرف سلام پیش کرنے والوں کی گزرگاہ بنادی گئی ہے۔ بائیں جانب ریاض الجنہ کا مبارک حصہ تھا اور اس سے پہلے منبرِ رسول ﷺ۔ ہر قدم تاریخِ اسلام کی زندہ یادوں کے درمیان اٹھ رہا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے یہ دیواریں، یہ ستون اور یہ فضائیں صدیوں سے درود و سلام کی گواہ ہوں، نبی کے قدم مبارک اس جگہ بار بار پڑے ہیں، ایمان و یقین کی باد بہاری یہاں سے چلی ہے، رسول کے خطبات کا امین منبر یہیں نصب کیا گیا ہے، ہواؤں نے اپنے دوش پر نبی کی خوش الحان تلاوت کو مدینہ کی چہار دیواری میں محفوظ کرلیا ہے۔
بالآخر وہ لمحہ آیا جس میں زبان گنگ رہ جاتی ہے اور جذبات باتیں کرتے ہیں، نطق قابو میں نہیں ہوتا جبکہ محبت و عقیدت کو زبان مل جاتی ہے، ہم مواجہۂ شریفہ کے سامنے پہنچے اور نہایت ادب، سکون اور خشوع کے ساتھ عرض کیا:
"السلام عليک يا رسول الله، السلام عليک يا نبي الله۔ السلام عليک يا جدّنا حبيب الله"
آخر الذکر سلام پر جو کیف آتا ہے اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔
اس لمحے زبان سلام پڑھ رہی تھی، لیکن دل کی زبان بے آواز جذباتی باتیں کررہی تھی۔ اپنی طرف سے بھی سلام عرض کیا اور ان تمام احباب، عزیزوں اور متعلقین کی طرف سے بھی جنہوں نے اس مبارک مقام پر سلام پہنچانے کی درخواست کی تھی۔
اس وقت انسان کو اپنی بے مائیگی کا شدید احساس ہوتا ہے۔ آدمی سوچتا ہے کہ میں کون ہوں اور کس دربار میں کھڑا ہوں! دنیا کے بے شمار اعزازات اپنی جگہ، مگر شہنشاہِ کونین ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر سلام عرض کرنے کا شرف ان سب سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اگر دنیا کی تمام سلطنتیں، تمام عزتیں اور تمام جاہ و حشمت ایک طرف رکھ دی جائیں، تب بھی ان چند لمحوں کی نسبت ان کی کوئی حیثیت محسوس نہیں ہوتی۔
خصوصاً جب زبان سے "السلام عليك يا رسول الله" کے الفاظ نکلتے ہیں تو دل میں ایک ایسی کیفیت پیدا ہوتی ہے جسے بیان کرنا ممکن نہیں۔ اور جب محبت و نسبت کے احساس کے ساتھ "السلام عليك يا جدَّنا رسولَ الله محمدًا ﷺ" کہا تو یوں محسوس ہوا جیسے اپنے سب سے عظیم محسن اور اپنے نسبی و روحانی جدِّ امجد کی خدمت میں سلام پیش کرنے کی سعادت نصیب ہو رہی ہو۔ یہ نسبت ہی ہمارا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔
حضور کو سلام پیش کرنے کے بعد ہم نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ، ان رفیقان باصفا کی خدمت میں بھی سلام عرض کیا اور باہر نکل آئے۔
باہر نکل کر ہماری نگاہیں جنت البقیع کی سمت اٹھ گئیں۔ وہاں مدفون سیدنا عثمان بن عفانؓ، ازواجِ مطہرات، اہلِ بیتِ اطہار اور بے شمار صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی یاد تازہ ہوئی۔ ہم نے دور ہی سے سب کے لیے دعا کی، سلام عرض کیا اور اللہ تعالیٰ سے ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق مانگی۔ اسی موقع پر سیدتنا فاطمہ الزہراءؓ، ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ اور دیگر اہلِ بیت و صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی محبت و عقیدت کے ساتھ یاد کیا، اور سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ، اگرچہ وہاں مدفون نہیں ہیں، مگر خلیفۂ راشد، شیرِ خدا اور دامادِ رسول ﷺ کی حیثیت سے ان پر بھی سلام و درود بھیجا اور ان کے لیے دعا کی۔
اللہ تعالیٰ کے حضور یہی دعا ہے کہ اس حاضری کو قبول فرما لے، اس کی برکتیں ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رکھے، اور ہمیں بار بار اس درِ اقدس کی حاضری نصیب فرمائے۔اس ایمانی و روح پرور زیارت سے واپس لوٹے تو جسم قیام گاہ پہنچ گیا، مگر دل وہیں مسجدِ نبوی ﷺ کے صحن میں رہ گیا تھا۔ رات آرام کے لیے لیٹے تو نیند بھی مدینہ ہی کے احساسات میں لپٹی ہوئی تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے یہ سب خواب ہو، لیکن ایسا خواب جسے اللہ تعالیٰ نے حقیقت کا روپ عطا کر دیا ہو۔