تپتی گرمی، پگھلتی جیبیں
یا کراچی کا عام آدمی کبھی ایسا دن دیکھ پائے گا جب بجلی کا بل دیکھ کر اس کا دل ہولنے کے بجائے اسے سکون کا احساس ہو؟ شاید یہی وہ سلگتا ہوا سوال ہے جو آج اس بے بس شہر کے ہر بند کمرے کی دیواروں سے سر ٹکرا رہا ہے۔
محمدعلی انصاری،شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ بنوریہ عالمیہ
18