(+92) 319 4080233
کالم نگار

سعودعثمانی

سعودعثمانی

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/26
موضوعات
پانچ لاکھ امریکی ڈالر
پانچ لاکھ امریکی ڈالر یعنی لگ بھگ 14 کروڑ پاکستانی روپے۔ یہ ہے وہ رقم جس کی وجہ سے ایک معزز، پڑھےلکھے اور برسر اقتدار خاندان کی رسوائی ہورہی ہے۔ اور وہ بھی اسی خاندان کے ایک فرد کے ہاتھوں۔ یعنی اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔ نسب باپ کی طرف سے چلتا ہے۔ لیکن اس سارے معاملے میں نوجوان کے باپ کا نام سنائی نہیں دے رہا، نہ باپ کے خاندان کا نام۔ یقینا" وہ بھی صاحب حیثیت اور پڑھے لکھے لوگ ہوں گے ورنہ ڈار خاندان سے ان کا رشتہ نہ جڑتا لیکن ہر جگہ نام آرہا ہےصرف ننھیال کا۔ کیوں؟ وجہ یہی کہ یہ نامور، مالدار، معزز، اور برسر اقتدار خاندان ہے جو سیاست، تجارت اور صنعت میں ایک عرصے سے آسمان پر ہے۔لیکن 14 کروڑ روپے نے اس خاندان کے نوجوان کا یہ حال کردیا کہ خاندان اس سے وابستگی بھی ظاہرنہیں کرسکتا۔ یقینا" ماں باپ یہی چاہتے ہوں گے کہ ان کا بچہ کسی طرح اس مصیبت سے نکل آئے لیکن نہ وہ کھل کر اپنی تکلیف کا اظہارکرسکتے ہیں ، نہ مدد کرسکتے ہیں کہ دونوں صورتوں میں مزید رسوائی ان کا مقدر ہوگی ۔ہم لوگ جو دور سے اس معاملے پر افسوس کر رہے ہیں۔ وہ لوگ جو اس واقعے میں مرچ مسالہ لگا کر اپنے ڈالروں کا بندوبست کر رہے ہیں، وہ مخالفین جو اپنی سیاسی نفرت کا اظہار اس خاندان کو برا بھلا کہہ کر اپنی بھڑاس نکال رہے ہیں ۔ان سب کے اپنے اپنے خاندان ہیں، اپنے بچے ہیں ، اپنی رشتہ داریاں ہیں۔ خدا کسی پر برا وقت نہ ڈالے ۔برے وقت میں کھل کر کوئی حامی بھی حمایت کرنے سے گریز کرتا ہے کہ وہ بھی لپیٹ میں نہ آجائے۔حمایت علی شاعر کا شعر ہے؎

اس جہاں میں تو اپنا سایا بھی
روشنی ہو تو ساتھ چلتا ہے
لیکن شاید ماں باپ، بھائی بہن(اگر کوئی ہیں ) کو کبھی یہ سوچنے کی فرصت ملے کہ کس چیز نے ان کے عزیز کو اس دلدل میں پھنسایا۔ میں سوچ رہا تھا اور آپ کو بھی یہ سوچنے کی دعوت دیتا ہوں کہ کیا 95 فیصد پاکستانی خواہ وہ غیر ملکوں میں مقیم ہوں اور وہیں کماتے ہوں، اپنے کسی بیس اکیس سالہ بیٹے کے ہاتھ میں چودہ کروڑ روپے کی رقم دے سکتے ہیں کہ بیٹا! تیری مرضی ہے جو چاہے کر۔ جہاں چاہے پیسہ لگا۔ یہ رقم بڑی ہے ۔95 فیصد پاکستانی یہ تصور بھی نہیں کرسکتے۔اکثر پاکستانی تو اس خواب میں ساری عمر مشقت کاٹتے ہیں کہ انہیں اپنی چھت نصیب ہوجائے اور کرائے کے گھروں سے نجات مل جائے ۔ 14کروڑ روپے کے خواب دیکھنا بھی ان کے لیے مشکل ہے۔ اور دوسری طرف پانچ فیصد لوگ وہ ہیں جو بیٹے کے ہاتھ میں کروڑوں روپے تھما کر دوبارہ پوچھتے بھی نہیں کہ بیٹا ! کیا کیا ان پیسوں کا۔

مجھے یقین ہے کہ احمد رضا ڈار کے ہاتھ میں یہ واحد رقم نہیں ہوگی جو اس کی صوابدید پر ہو، اس کے علاوہ بھی بڑی رقوم اس کے پاس ہوں گی ۔ 21 سالہ لڑکے کی تو ابھی تعلیم بھی پوری نہیں ہوتی ۔وہ نوجوان جو ابھی زمانہ طالب علمی گزار رہا ہے ، اس کے ہاتھ میں کروڑوں روپے دے کر بھول جانے والے گھرانے نے اس کے ساتھ بھلائی کی ہے یا برائی؟ بات صرف کروڑوں روپے دے کر نوجوان کو آزمائش میں ڈال دینے کی نہیں، تربیت کی بھی ہے۔ جو گھرانہ آج آزمائش سے گزر رہا ہے کیا کبھی غور کرے گا کہ اس نے اپنے بچوں کی تربیت کیا کی ہے ؟اچھے برے کی تمیز کیا سکھائی ہے ؟کوئی شک نہیں کہ زیادہ سے زیادہ پیسے کمانے کا لالچ ہر انسان کو گھیر لیتا ہے۔ہر انسان تیزترین ، آسان ترین طریقے سے پیسہ کماناچاہتا ہے اور اس میں بہت کم استثنائی مثالیں ملیں گی ۔لیکن یہیں تو خاندانی تربیت کام آتی ہے۔

یہیں تو ماں باپ بچوں کو بتاتے ہیں کہ سب سے اہم بات تیز ترین، آسان ترین نہیں ، اہم ترین بات حلال رزق ہے۔جائز طریقے سے کمایا ہوا مال ہے۔ جس کی برکت بھی نظر آتی ہے اور خدانخواستہ دوسری صورت میں نحوست بھی نسل در نسل نمایاں ہوتی ہے۔ جب یہ اہم ترین بات نہ سکول ، کالج، یونی ورسٹی میں بتائی جائے ، نہ گھر میںتو ایک ایسے نوجوان کو یہ کیسے معلوم ہوسکتی ہے جس نے عملی زندگی میں نیا نیا قدم رکھا ہواور اس کے ہاتھ میں کروڑوں روپے تھما دئے گئے ہوں۔ احمد رضاڈار یقینا اس معاملے کا مرکزی کردار ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ بڑے ذمے دار اس کے وہ بڑے ہیں جنہوں نے اسے برے بھلے کی پہچان نہیں سکھائی ۔

چلیے آپ نے نازو نعم میں پالے نوجوان کوکروڑوں روپے بھی دے دئیے اور اسے حلال حرام کے بارے میں بھی نہیں بتایا۔ کیا کوئی ماں باپ اس بات سے غافل ہوسکتے ہیں کہ اس کے بیٹے کا اٹھنا بیٹھنا کن دوستوں میں ہے؟یہ فکر تو ہمارے معاشرے میںمعاشی لحاظ سے نچلے اور متوسط گھرانوں تک کو ہوتی ہے۔ ہر ماں اور باپ سے یہ چھپا نہیں رہتا کہ ان کا بچہ کن لوگوں میں اٹھتا بیٹھتا ہے ۔بے شمار بار بچے کوپیار سمجھایا جاتا ہے ، مار پیٹ بھی ہوتی ہے اور ناراضگیاں بھی ۔ کسی بچے کے غلط اور بد کردار حلقے کی وجہ سے بیٹے کو عاق کرنے تک کی نوبت آجاتی ہے ۔ اخبارات ان اشتہارات سے بھرے ہوتے ہیں جس میںمحض اسی وجہ سے بیٹے کو عاق کرنے، قطع تعلق کرنے اور جائیداد سے محروم کردئے جانے کے آخری قدم بھی اٹھا لیے جاتے ہیں۔

جتنا معزز، وجیہہ اور صاحب حیثیت گھرانہ ہوتا ہے ، اسے اپنی عزت ، آبرو اور احترام کی فکر مال اور جائیداد سے بڑھ کر ہوتی ہے۔ ہم تو وہ لوگ ہیں جنہیں دستار اپنے سر سے زیادہ عزیز ہوتی تھی ۔ لیکن وقت نے چلن ایسا بدلا ہے کہ بڑے بڑے معزز خاندان اور گھرانے اس وقت تک ہوش میں نہیں آتے جب تک پانی سر سے اونچا نہ ہوجائے ۔ آپ اسی نوجوان کے دوست دیکھ لیجے جو ان غیر ملکی خواتین کے حبس بے جا، جنسی زیادتی اور انسانیت سوز سلوک میں ملوث ہیں،سب کے سب بد کردار، دھوکے باز اور جرائم پیشہ نظر آتے ہیں۔ ایک دو پر تو پہلے بھی ایف آئی آرز درج ہیں ۔ کیا احمد رضا ڈار کا کوئ ایک دوست بھی ایسا نہیں تھا جو اسے سمجھا سکے کہ تم یہ سب غلط کر رہے ہو۔ابھی تو 5 لاکھ ڈالرز کا نقصان ہوا ہے، اگلا نقصان عزت و آبرو کا ہوگااور تم ایک دلدل میں پھنس جاؤگے جس سے نکلنے کا راستہ نہیں ملے گا۔

مجھے نہیں لگتا کہ نوجوان کا کوئی ایک دوست بھی ایسا تھا۔ سارا کھیل تیز ترین ، آسان ترین پیسے کے لالچ سے شروع ہوا۔ اور واقعے کےسارے کردار اسی لالچ کے گرد گھومتے نظر آتے ہیں۔ دونوں غیر ملکی خواتین اسی کاروبار سے متعلق ہیں جو آج کل عام ہے ، جس میں زیادہ سے زیادہ اور جلد سے جلدمنافع کے لالچ دے کر شہد سے بنے جال یعنی ہنی ٹریپ میں پھنسایا جاتا ہے۔ڈار گھرانے کا یہ نوجوان بھی اسی لالچ میں پھنسا تھا۔ پھنسنے کے بعد رقم واپس حاصل کرنے کے لیے وہ دھوکے کا جال بچھاتا ہے اور غیرملکی خواتین کو جھانسہ دیتا ہے کہ اس کے کچھ جاننے والے مزید سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں ۔ اس کے لیے پاکستان کا دورہ کریں۔خواتین اس لالچ میں پاکستان آتی ہیں۔ جن دھوکے بازوں سے انہیں ملوایا جاتا ہے وہ بھی یقینا کسی مالی لالچ میں انہیں یہ دھوکہ دے رہے ہیں۔ جو لوگ خواتین کو حبس بے جا میں رکھتے ہیں، انہیں بھی لاکھوں روپے کا لالچ ہے ۔ یعنی لالچ سے سارا کھیل شروع ہوااور ہر ہر قدم پر یہی حرص ہر کردارکے ساتھ چلتی ہے۔ خواتین کے ساتھ ان کے ملک کیا کریں گے ، معلوم نہیں ،لیکن بظاہر پاکستان کے اندر انہوں نے کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا ۔لیکن باقی سب کردار اسی حرص میں سلاخوں کے پیچھے آکھڑے ہوئے ہیں۔ ایک کردار کی ٹانگیں ٹوٹ چکی ہیں لیکن اس کا جرم بدستور قابل سزا ہے۔

کالم نگار : سعودعثمانی
| | |
24     2