قرآنِ کریم نے حصولِ برکت کا سب سے بنیادی اور مضبوط سبب تقویٰ اور ایمان کو قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اگر بستیوں کے باشندے ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو اللہ ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتا (سورۃ الاعراف: 96)۔ اسی طرح نماز کی پابندی، شکرِ الٰہی، توکل اور صبح کے اوقات کی قدر دانی وہ اسباب ہیں جن سے زندگی میں خیر کا اضافہ ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے صبح کے وقت کے لیے خصوصی دعا فرمائی کہ اے اللہ، میری امت کے لیے اس کے صبح کے اوقات میں برکت عطا فرما (سنن ابی داؤد، حدیث: 2606)۔ معاشی زندگی میں برکت کا راز حلال رزق، سچائی اور امانت داری میں پوشیدہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ خرید و فروخت کرنے والے دونوں کو اختیار حاصل ہے جب تک وہ جدا نہ ہوں، پھر اگر دونوں نے سچ بولا اور صاف صاف بیان کیا تو ان کے سودے میں برکت ڈال دی جاتی ہے، اور اگر انہوں نے جھوٹ بولا اور چھپایا تو ان کے سودے کی برکت ختم کر دی جاتی ہے (صحیح بخاری، حدیث: 2079)۔ مزید برآں، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور صلہ رحمی، یعنی رشتہ داروں سے اچھا برتاؤ، رزق اور عمر میں وسعت کا یقینی ذریعہ ہیں۔ حضورِ اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ اس کے رزق میں وسعت کی جائے اور اس کی عمر دراز کی جائے، تو اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے (صحیح بخاری، حدیث: 2067)۔ اسی طرح صدقہ و خیرات بظاہر مال کم کرتے ہیں، مگر حقیقت میں وہ مال کو پاک کر کے اس میں برکت الٰہی کا سبب بنتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا کہ اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے (سورۃ البقرہ: 276)۔ اس کے برعکس، جب ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے برکت سے محرومی کے تمام اسباب خود اپنے ہاتھوں سے سمیٹ رکھے ہیں۔ آج ہماری کمائیوں میں جھوٹ، دھوکا، ملاوٹ اور سب سے بڑھ کر سود جیسا مہلک گناہ شامل ہو چکا ہے، جس کے بارے میں قرآنِ کریم نے واضح الفاظ میں تنبیہ فرمائی ہے۔ جب سود اور حرام کمائی معاشرے کا جزو بن جائے، تو وہاں سے برکت کا اٹھ جانا مادی قوانین کے تحت نہیں بلکہ خدائی فیصلے کے تحت ہوتا ہے۔ نماز سے غفلت، گناہوں پر اصرار، قطع رحمی، ناشکری اور حقوق العباد کی پامالی نے ہمارے گھروں کو بے سکونی کا گہوارہ بنا دیا ہے۔ بندہ گناہ کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس کا کچھ نقصان نہیں ہوا، حالانکہ گناہ کا سب سے پہلا وار انسان کی برکت پر ہوتا ہے۔ اکابرِ علماءِ دیوبند نے ہمیشہ اپنے مواعظ اور تحریروں میں اسی اصلاحی منہج پر زور دیا ہے کہ مادی تدابیر کے ساتھ ساتھ باطنی اعمال کی درستگی لازم ہے۔ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ اپنی تحریروں میں برکت کی حقیقت کو یوں واضح کرتے ہیں کہ برکت کے معنی کثرتِ مقدار کے نہیں بلکہ کثرتِ مقصود کے ہیں، یعنی جب دین داری ہوتی ہے تو تھوڑا مال بھی بڑے بڑے کاموں کے لیے کافی ہو جاتا ہے اور دل کو سکون میسر رہتا ہے، اور جب دین داری نہ ہو تو مال کی کثرت کے باوجود پریشانی اور بے برکتی مسلط رہتی ہے۔ لہٰذاضرورت اس امرکی ہے کہ ہم اپنی روش پر نظرِ ثانی کریں۔ اللہ تعالیٰ سے برکت کی دعائیں مانگنا یقیناً مومن کا شیوہ ہے اور ہمیں یہ دعائیں مانگتے رہنا چاہیے، لیکن ان دعاؤں کے ساتھ اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا بھی ناگزیر ہے۔ ہم اکیلے میں بیٹھ کر سوچیں کہ کیا ہم نے برکت کے مآخذ کو خود تو نہیں بند کر رکھا؟ اگر ہم سچی توبہ کریں، اپنے رزق کو حرام اور مشتبہ چیزوں سے پاک کریں، نمازوں کی پابندی کو اپنا شعار بنائیں، اپنے اخلاق و معاملات کو درست کریں اور صبح کے بابرکت اوقات کو غفلت کی نیند میں گنوانے کے بجائے ذکر و محنت سے آباد کریں، تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے گھروں میں کھویا ہوا سکون اور ہماری زندگیوں میں حقیقی برکت لوٹ نہ آئے۔ اللہ سے برکت ضرور مانگیں، مگر ان اسباب کو بھی اختیار کریں جن میں ربِ کریم نے برکت کا وعدہ فرمایا ہے۔
کالم نگار جامعہ بنوریہ عالمیہ کے فاضل اور شعبہ ابلاغ عامہ کے طالب علم ہیں۔
کالم نگار : محمد عثمان انصاری