(+92) 319 4080233
کالم نگار

محمد عثمان انصاری

محمد عثمان انصاری

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/26
موضوعات
موبائل سے قربت اپنوں سے دوری
رات کے کھانے کی میز پر پورا خاندان بیٹھا ہے، مگر خاموشی ایسی گہری کہ برتنوں کی جھنکار بھی اجنبی لگتی ہے۔ ہر ہاتھ میں ایک چمکتی ہوئی اسکرین ہے، ہر نظر اسی میں گڑی ہوئی، اور ہر دل کسی اور دنیا میں بھٹک رہا ہے۔ جسم اتنے قریب کہ ہاتھ بڑھائیں تو چھو لیں، اور دل اتنے دور کہ برسوں گزر جائیں تب بھی ایک دوسرے کا حال معلوم نہ ہو۔ یہی وہ المیہ ہے جسے چند لفظوں میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے: موبائل قریب، اپنے دور۔ یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اسلام نہ ٹیکنالوجی کا دشمن ہے، نہ موبائل فون یا انٹرنیٹ کے جائز استعمال کا مخالف۔ اصل خرابی آلے میں نہیں بلکہ اس کے استعمال کی ترجیح میں ہے، جب یہی آلہ انسان کو فرائض سے غافل کر دے اور رشتوں سے بیگانہ بنا دے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ صحت اور فراغت دو ایسی نعمتیں ہیں جن میں اکثر لوگ خسارے میں رہتے ہیں (صحیح بخاری)۔ آج یہی فراغت کے قیمتی لمحات، جو رشتوں کی آبیاری کے لیے استعمال ہونے چاہئیں، اسکرین کی نذر ہو رہے ہیں۔

سب سے پہلا زخم والدین اور اولاد کے رشتے پر لگتا ہے۔ وہ ماں باپ جنہوں نے راتوں کو جاگ کر اولاد کی پرورش کی، آج اسی اولاد کی توجہ کے لیے ترستے ہیں، جبکہ بچے بھی والدین کی محبت کے پیاسے اسی اسکرین کی روشنی میں اپنا بچپن گنوا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے والدین کے حق کو کیسی تاکید سے بیان فرمایا کہ ان کے سامنے اُف تک کہنے کی اجازت نہیں، بلکہ نرمی اور عزت سے بات کرنے کا حکم ہے (سورۃ الاسراء: 23)۔ سوچنے کا مقام ہے کہ کیا وہی اولاد اپنے والدین کے سامنے بیٹھ کر بھی موبائل کو ترجیح دے سکتی ہے؟

میاں بیوی کا رشتہ، جسے اللہ تعالیٰ نے سکون، محبت اور رحمت کی بنیاد پر قائم فرمایا (سورۃ الروم: 21)، وہ بھی اسی بے جا مصروفیت کی نذر ہوتا جا رہا ہے۔ رات گئے تک ایک دوسرے کے قریب لیٹے ہوئے میاں بیوی، مگر دونوں کی نظریں اپنی اپنی اسکرین پر۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ سب سے بہتر ہو (سنن الترمذی، حسن صحیح)، مگر افسوس کہ آج توجہ وہاں لٹائی جا رہی ہے جہاں حقیقی حق نہیں۔

بہن بھائیوں کی محبت بھی ایک ہی کمرے میں بیٹھ کر اجنبیت کا شکار ہو چکی ہے، اور صلہ رحمی، جو دین کا عظیم مطالبہ ہے، اسی بے احتیاطی کی نذر ہو رہی ہے۔ حالانکہ نبی کریم ﷺ نے صلہ رحمی کو رزق اور عمر میں برکت کا ذریعہ قرار دیا (صحیح بخاری)۔

اس آلے کا ایک اور المناک پہلو یہ ہے کہ یہ نامحرموں سے بے جا تعلق، فحش مواد، تجسس، بدگمانی اور غیبت کا دروازہ بھی بن جاتا ہے، جن سے اللہ تعالیٰ نے سختی سے منع فرمایا ہے (سورۃ الحجرات: 12)۔ یہ زوال کسی بیرونی حملے کا نتیجہ نہیں، ہماری اپنی غفلت کا ثمر ہے، اور جس بیماری کی جڑ ہمارے ہاتھوں میں ہو، اس کا علاج بھی ہمارے ہی ہاتھوں میں ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم موبائل اور انٹرنیٹ کو غلام بنائیں، آقا نہ بننے دیں۔ کھانے کی میز پر، خاندانی نشستوں میں، والدین کی مجلس میں، میاں بیوی کی تنہائی میں، یہ اسکرین ایک طرف رکھ دی جائے اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی جائے، ہاتھ تھام کر حال پوچھا جائے، اور دل سے دل جوڑا جائے۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب ہم مڑ کر دیکھیں گے تو معلوم ہو گا کہ جن سے سب سے زیادہ قریب ہونا تھا، ہم نے انہیں سب سے زیادہ اکیلا چھوڑ دیا، اور جس اسکرین کو ہم نے اپنا ساتھی بنایا، وہ نہ قبر میں ساتھ جائے گی نہ قیامت کے دن کام آئے گی۔ اپنے پیاروں کی طرف لوٹ آئیں، جب تک وقت ہاتھ میں ہے، کیونکہ موبائل ہمیشہ قریب رہے گا، مگر اپنے، شاید اتنا وقت نہ دیں۔

کالم نگار : محمد عثمان انصاری
| | |
45