(+92) 319 4080233
کالم نگار

محمدسہیل کھتری

محمدسہیل کھتری

پروفائل | تمام کالمز
2026/11/08
موضوعات
توبہ سے ولایت تک
تقویٰ، طہارتِ قلب اور قربِ الٰہی کی منزل:
انسان خطا کا پتلا ہے۔ اس کی زندگی میں لغزشیں بھی آتی ہیں، خواہشات کی کشش بھی اسے اپنی طرف کھینچتی ہے اور بسا اوقات غفلت کے پردے اس کے قلب و ذہن پر اس قدر چھا جاتے ہیں کہ اسے اپنے مقصدِ تخلیق تک یاد نہیں رہتا۔ تاہم ربِ کریم کی رحمت کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا۔ جب کسی بندے کے دل میں ندامت کی کیفیت پیدا ہوتی ہے، جب گناہوں کی تاریکی میں احساسِ بندگی کی کوئی شمع روشن ہوتی ہے اور جب وہ اپنے تمام سہاروں سے مایوس ہوکر اپنے رب کے حضور جھک جاتا ہے تو یہی لمحہ اس کی زندگی کے نئے سفر کا نقطۂ آغاز بن سکتا ہے۔

یہی توبہ ہے؛ محض چند الفاظ کی ادائیگی نہیں، بلکہ فکر و عمل کی تبدیلی، باطن کی تطہیر اور اپنے خالق کے ساتھ تعلق کی تجدید کا نام ہے۔حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب ایک حکایت بیان کی جاتی ہے کہ ایک امیر زادہ اپنی زندگی غفلت اور معصیت میں بسر کر رہا تھا۔ زندگی کے آخری ایام میں اسے اپنی کوتاہیوں کا احساس ہوا، دل میں ندامت پیدا ہوئی اور اس نے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ و استغفار کیا۔ اس حکایت کے مطابق حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ اس کے جنازے میں شرکت اور نمازِ جنازہ پڑھانے کے لیے تشریف لے گئے۔

اس حکایت کو بیان کرنے کا مقصد کسی فرد کے روحانی مرتبے کا تعین یا کسی شخصیت کی غیر معمولی فضیلت کا اثبات نہیں، بلکہ اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ انسان کو اپنے ماضی کی تاریکی کے باوجود اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ اس واقعے کی مستند سند کی تصدیق کے بغیر اسے قطعی تاریخی حقیقت بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم اس کا بنیادی پیغام، یعنی توبہ کی اہمیت اور رحمتِ الٰہی سے امید، قرآن و سنت کی تعلیمات سے پوری طرح ثابت ہے۔

توبہ: بندگی کی طرف واپسی:
قرآنِ مجید نے توبہ کو اہلِ ایمان کی بنیادی ذمہ داری قرار دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا(سورۃ التحریم: 8)

ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ کے حضور سچی توبہ کرو۔

توبۂ نصوح کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے گناہ پر نادم ہو، اسے ترک کرے، آئندہ اس کی طرف نہ لوٹنے کا پختہ ارادہ کرے اور اگر کسی انسان کا حق تلف کیا ہو تو اس کی تلافی کرے۔

یہاں ایک اہم نکتہ قابلِ غور ہے کہ توبہ کا تعلق صرف زبان سے نہیں، دل اور کردار سے بھی ہے۔ زبان استغفار کرے مگر معاملات میں بددیانتی برقرار رہے، نماز ادا ہو مگر حقوق العباد پامال ہوتے رہیں، ظاہری وضع قطع تبدیل ہوجائے مگر باطن میں تکبر اور حسد موجود رہے تو اصلاح کا سفر ابھی نامکمل ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ناامید ہونے والوں کو بھی امید دلائی ہے:لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ

(سورۃ الزمر: 53)

ترجمہ: اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔

یہ اعلانِ رحمت ہر گناہ گار کے لیے پیغامِ امید ہے۔ البتہ امید کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ انسان گناہوں پر اصرار کرنے کے بجائے اصلاح اور اطاعت کا راستہ اختیار کرے۔

ولایت کا معیار: ایمان اور تقویٰ:
ولایت ایک عظیم روحانی نسبت ہے، لیکن اس کا حصول محض دعووں، شہرت، ظاہری لباس یا خاندانی نسبت سے نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کے قرب اور ولایت کی بنیاد ایمان، تقویٰ، اخلاص اور اطاعتِ الٰہی پر ہے۔قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کی پہچان بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ۝ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ(سورۃ یونس: 62-63)

ترجمہ: سن لو! بے شک اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کرتے رہے۔
اس قرآنی ارشاد میں ولایت کا بنیادی معیار نہایت وضاحت سے بیان کردیا گیا ہے: ایمان اور تقویٰ۔تقویٰ کا مفہوم صرف چند ظاہری عبادات تک محدود نہیں۔ یہ ایک ایسی ہمہ گیر کیفیت ہے جو انسان کے عقیدے، عبادات، اخلاق، معاملات اور معاشرتی رویوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ متقی شخص تنہائی میں بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، کاروبار میں دیانت داری اختیار کرتا ہے، اہلِ خانہ کے ساتھ حسنِ سلوک کرتا ہے اور کسی دوسرے انسان کے حقوق پامال کرنے سے اجتناب کرتا ہے۔

گویا ولایت کا سفر کسی غیر معمولی دعوے سے نہیں، بلکہ معمولاتِ زندگی میں اطاعتِ الٰہی کو راسخ کرنے سے طے ہوتا ہے۔ کسی فرد کے باطنی مرتبے کا قطعی فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کے علم میں ہے؛ ہماری ذمہ داری اپنی اصلاح اور تقویٰ کی فکر کرنا ہے۔

استغفار: تزکیۂ نفس کا مستقل معمول:
انسان کی زندگی میں گناہوں کی آلودگی مختلف صورتوں میں داخل ہوتی ہے۔ کبھی زبان غیبت اور بہتان کا ذریعہ بن جاتی ہے، کبھی نگاہ بے احتیاطی کا شکار ہوتی ہے، کبھی دل میں حسد اور کینہ جگہ بنا لیتا ہے اور کبھی دنیا کی محبت انسان کو فرائض سے غافل کردیتی ہے۔ایسے میں استغفار محض ایک وظیفہ نہیں، بلکہ محاسبۂ نفس اور رجوع الی اللہ کا مستقل عمل ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:وَاللَّهِ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ مَرَّةً(صحیح البخاری: 6307)

ترجمہ: اللہ کی قسم! میں ایک دن میں ستر مرتبہ سے زیادہ اللہ سے استغفار کرتا اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔

اس فرمانِ نبوی ﷺ سے استغفار کی اہمیت اور کثرتِ توبہ کی ترغیب واضح ہوتی ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے روزمرہ معمولات میں استغفار کو جگہ دیں اور اس کے ساتھ اپنے کردار کی اصلاح کا اہتمام کریں۔

أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ(میں اللہ سے بخشش مانگتا ہوں اور اسی کی طرف توبہ کرتا ہوں۔)

درود شریف اور اتباعِ رسول ﷺ:
توبہ و استغفار کے ساتھ محبتِ رسول ﷺ اور اتباعِ سنت بھی ایک مسلمان کی زندگی کا بنیادی وصف ہونا چاہیے۔اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا(سورۃ الأحزاب: 56)

ترجمہ: بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھیجو۔

درود شریف کی کثرت ایک عظیم عبادت اور باعثِ اجر عمل ہے۔ تاہم محبتِ رسول ﷺ کا عملی تقاضا یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ کو سمجھا جائے، آپ کے اخلاق کو اپنایا جائے، معاملات میں دیانت داری اختیار کی جائے اور سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کی جائے۔محبت کا حقیقی اثر کردار میں ظاہر ہوتا ہے۔ اگر زبان پر درود شریف ہو لیکن معاملات میں دھوکا، رویوں میں سختی اور حقوق العباد میں کوتاہی برقرار رہے تو ہمیں اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

اصلاحِ معاشرہ کا آغاز اصلاحِ نفس سے:
ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کے عیوب تلاش کرنے میں غیر معمولی دلچسپی رکھتے ہیں، مگر اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے میں غفلت برتتے ہیں۔ ہم کسی کے روحانی مرتبے پر گفتگو کرتے ہیں، کسی کے ماضی کو موضوعِ بحث بناتے ہیں، لیکن اپنی نماز، اپنے معاملات اور اپنے اخلاق کی اصلاح کی طرف مطلوبہ توجہ نہیں دیتے۔

دین کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ انسان سب سے پہلے اپنی اصلاح کی فکر کرے۔ کسی گناہ گار کو حقیر سمجھنے کے بجائے اس کے لیے ہدایت کی دعا کرے، کسی کی لغزش کو اچھالنے کے بجائے خیرخواہی کا راستہ اختیار کرے اور اپنی نیکیوں پر غرور کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی اختیار کرے۔اس مضمون کا مقصد بھی کسی شخصیت کی فضیلت بیان کرنا یا کسی کے روحانی مقام کا فیصلہ کرنا نہیں، بلکہ ایک عام مسلمان کی حیثیت سے اپنے اور اپنے قارئین کے دلوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ اگر اس تحریر کے مطالعے سے کسی شخص کے دل میں توبہ کی رغبت پیدا ہو، کوئی نماز کی پابندی شروع کردے، کسی کو استغفار کی توفیق مل جائے یا کوئی سیرتِ رسول ﷺ کی روشنی میں اپنے اخلاق کی اصلاح کرلے تو یہی اس کا حقیقی مقصد اور حاصل ہے۔

اللہ کی طرف لوٹنے میں تاخیر کیوں؟:
زندگی کی مہلت محدود ہے اور موت کا وقت کسی کو معلوم نہیں۔ اس لیے توبہ کو مستقبل کے کسی غیر متعین دن پر مؤخر کرنا دانش مندی نہیں۔ آج ہی اپنے اعمال کا جائزہ لیجیے، آج ہی حقوق العباد کی ادائیگی کا عزم کیجیے، آج ہی نماز کی پابندی اختیار کیجیے اور آج ہی اپنے رب کے حضور عاجزی کے ساتھ جھک جائیے۔یاد رکھیے! تقویٰ کے بغیر ولایت کا تصور ادھورا ہے، اخلاص کے بغیر عبادت بے روح ہے اور اتباعِ سنت کے بغیر محبتِ رسول ﷺ کا عملی اظہار نامکمل ہے۔ہمیں لوگوں کی نگاہوں میں بڑا بننے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول ہونے کی فکر کرنی چاہیے۔ ہمارا مقصد یہ نہ ہو کہ لوگ ہمیں نیک، متقی یا ولی کہیں، بلکہ ہماری دعا یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے پسندیدہ اور فرمانبردار بندوں میں شامل فرما لے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توبۂ نصوح، تقویٰ، پرہیزگاری، اخلاص اور اتباعِ سنت کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمارے دلوں کو حسد، کینہ، تکبر اور ریاکاری سے پاک فرمائے، ہمیں کثرتِ استغفار اور درود شریف کی سعادت نصیب فرمائے اور ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے۔آمین یا رب العالمین!

کالم نگار : محمدسہیل کھتری
| | |
95