(+92) 319 4080233
کالم نگار

پیشکش: طارق علی عباسی

پیشکش: طارق علی عباسی

پروفائل | تمام کالمز
2026/11/08
موضوعات
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ کا عالمی فیض اور خلفاء کی خدمات
نَحْمَدُهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ الْكَرِيمِ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَكُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ. (التوبۃ 119)
یہاں خانقاہ میں حاضری میری سعادت ہے، ایک تو یہاں کی حاضری اللہ تعالی کی نعمت ہے، یہاں کی خیرات و برکات اللہ رب العالمین ہمیں مرحمت فرمائے۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ کو اللہ رب العالمین نے ایک عجیب اور حیران کن قسم کی محبوبیت عطا کی تھی اور قبولیت عطا کی۔ اللہ رب العالمین نے ایسی محبوبیت اور قبولیت عطا کی تھی کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔

خلفائے شیخؒ کا باہمی مثالی تعلق اور آفاقی فیض:
شیخ زکریاؒ کے جتنے خلفائے کرام تھے، آپس میں ان کی محبت اور ان کا تعلق بھائیوں سے بڑھ کر تھا، یہ ہم سب کا مشاہدہ ہے اور سب ایک دوسرے کا دلی احترام کرتے تھے اور ایک دوسرے پر قربان ہوتے تھے۔ شیخ زکریاؒ کا کیا دردِ دل تھا اور کیا اللہ نے ان کو محبوبیت دی تھی اور کیسی قبولیت دی تھی کہ یہاں مکہ مکرمہ میں بیٹھ گئے، اللہ رب العالمین نے ایسا کام لیا کہ اگر کسی ملک میں کسی کی تشکیل کی تو وہ ملک کے لیے کافی ہوگیا۔ ہم آپ دنیا کے جس شہر اور جس براعظم میں جاتے ہیں، وہاں شیخ زکریاؒ کے خلفاء کرام موجود ہیں اور اس میدان میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے کام لے رہا ہے۔

حضرت مولانا عبد الحفیظ مکی صاحبؒ کی خدمات اور کربوغہ شریف کے اسفار:
حضرت مولانا عبد الحفیظ مکی صاحبؒ کو اللہ رب العالمین نے عجیب قسم کی صفات عطا کیں، مکہ مکرمہ یہاں ان کی رہائش ہے، یہاں ان کی خدمت ہے۔ ابھی کربوغہ شریف میں جو اجتماع ہوا، جہاں دارالایمان والتقویٰ مرکز ہے تو حضرت مکی صاحبؒ اپنی حیات میں وہاں تشریف لاتے تھے، انہوں نے اس کی بنیاد رکھی تھی، اس وقت یہ ٹنل بھی نہیں بنا تھا اور کوہاٹ سے اب ہنگو تک ڈبل روڈ ہے، وہ بھی سنگل تھا اور وہ بھی بہت خراب۔ اتنے دور تک، کہاں مکہ مکرمہ اور کہاں کربوغہ شریف کے پہاڑ اور دور دراز دیہات میں جانا، وہاں کے سفر کی انہوں نے مشقتیں اٹھائیں اور اپنے سلسلہ کے جتنے رفقاء تھے، ان کا ساتھ دیا۔ عجیب ان کے آپسی تعلقات ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ جل جلالہٗ کا فضل ہے کہ ہر جگہ ان خلفاء حضرات سے کام بھی بہت لیے۔

کربوغہ شریف مرکز کا سادہ نظام اور عالمی اثرات:
کربوغہ شریف کے اندر والد صاحب کی حیات میں بہت بڑھ کر لوگوں کی آمد و رفت تھی، کافی دور دراز سے لوگ آتے تھے اور دنیا کا کوئی ایسا براعظم نہیں کہ وہاں کے لوگ نہیں آئے تھے اور ابھی اجتماع تھا، بہت بڑا مجمع تھا، لوگ حیران تھے، مختلف شخصیات آتی ہیں، سادہ سا نظام ہوتا ہے، جیسے کہ تبلیغی جماعت کا سادہ سا نظام اور سادہ طریقہ ہوتا ہے۔ کہاں کربوغہ کے پہاڑ اور کہاں مکہ مکرمہ اور کہاں امریکہ، کہاں کہاں نہیں شیخ زکریاؒ کا فیض پہنچا ہے۔ کیسے شیخ زکریاؒ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت کا شعلہ موجزن تھا اور کیسے اس کے خلفاء کرام سے اللہ تعالیٰ نے کام لیا۔

علمِ حدیث، تصنیف اور خانقاہی نظام میں امتیازی کام:
خاص طور پر دو میدانوں میں کام لیا، اس لائن میں اللہ تعالیٰ نے جیسا کام لیا اور دوسری طرف پھر علم کے میدان میں اور خصوصی طور پر احادیثِ مبارکہ کے میدان میں۔ اس میں بہت بڑا حصہ تمام علماء میں امتیازی طور پر حضرت مولانا شاہد صاحبؒ، حضرت مولانا عبدالحفیظ مکی صاحبؒ کا رہا۔ شیخ زکریا کاندھلویؒ کی خدمت میں یہ پوری طرح رہے۔ اللہ تعالیٰ جل شانہٗ نے مدارس میں بھی ہیں اور خانقاہ کے نظام میں بھی پوری دنیا میں شیخ زکریاؒ کے خلفاء سے کام لیا۔

نسل در نسل محبت کا تسلسل:
پھر اس کے بعد بھی ایک عجیب معاملہ یہ ہے کہ شیخ زکریاؒ کے سلسلہ کے جو خلفاء کرام تھے، ان کے جو بیٹے ہیں، ان میں بھی آپسی تعلقات اور محبت ہے۔ یہ تیسری نسل ہے۔ دوسروں کو اگر آپ ایک نظر دیکھ لیں تو اس کی مثالیں کم ملتی ہیں، لیکن یہاں اللہ تعالیٰ کا عجیب نظام ہے کہ ہمارے اکابر چلے گئے، ہمارے لیے سب کے لیے یہ ایک سبق ہے، ہم سب نے جانا ہے۔

اکابر کا رخصت ہونا اور موجودہ صورتحال:
بہرحال ہم سب نے اس طرح جانا ہے، چونکہ شیخ زکریاؒ کا پورا قافلہ دیکھو آہستہ آہستہ چلے گئے، پاکستان میں اس کے مولانا شاہد صاحب جو ہیں، وہ تو بہت کمزور ہیں، میں گیا تھا کراچی تو وہ صاحبِ فراش ہیں، وہ ابھی کسی کو پہچان بھی نہیں سکتے اور مولانا احسان صاحبؒ کو پیارے ہوگئے، چند رہ گئے انگلینڈ میں۔ ان سب نے بہت کام کیا ہے، اللہ تعالیٰ ان سب کو بہترین جزائے خیر دے، اللہ تعالی جل شانہ اس کی تمام خدمات قبول فرمائے۔

اکابر کے مشن کو جاری رکھنے کی ذمہ داری:
ان بزرگوں نے ہم سب کو یہ کام دیا ہے کہ ہم یہ کام کریں، یعنی کام بھی دیا اور اس کے لیے مراکز بھی دیے اور اس کے لیے انہوں نے مشقتیں اٹھائیں، مشکلات اٹھائیں، بھوک برداشت کی، صبر کے ساتھ مشکلات برداشت کیں، لیکن ہمارے لیے راستے کھول کے دیے، چلے، اللہ رب العالمین ہم سب کو توفیق دے۔ آمین!

کالم نگار : پیشکش: طارق علی عباسی
| | |
18