میری پیدائش 1932ء کو اعظم گڑھ میں ہوئی۔ میرے والد ماجد علامہ سید سلیمان ندوی قدس سرہ کا تعلق بہار سے تھا، مگر ہماری بہنوں اور بھائیوں کی پیدائش وہیں اعظم گڑھ میں ہوئی۔ اعظم گڑھ وہ علاقہ ہے جو علامہ شبلی نعمانی رحمہ اللہ علیہ کا علاقہ تھا۔ اعظم گڑھ میں ہی میری مکتب اور مدرسہ کی تعلیم ہوئی۔ اس کے بعد میں دارالعلوم ندوة العلماء لکھنؤ چلا گیا، جہاں میں نے چھ سال دینیات، تفسیر حدیث، فقہ وغیرہ کی تعلیم حاصل کی۔ ندوة العلماء عام مدارس سے تھوڑا مختلف قسم کا مدرسہ تھا، اس لحاظ سے کہ وہاں جدید اور عصری علوم بھی پڑھائے جاتے تھے۔ میں نے انگریزی پڑھنا اور فزکس ریاضی جیسے دیگر سب فنون وہیں سیکھے۔ 1946ء میں والد صاحب کو نواب آف بھوپال نے بھوپال بلوالیا تھا، وہاں وہ قاضی القضاء تھے اور ایک مدرسہ کے وائس چانسلر بھی تھے۔ 1946ء سے لیکر 1949ء تک تقریباً میں بھوپال میں رہا۔ وہاں میری تعلیم کی تکمیل ہوتی رہی۔ مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمة اللہ علیہ سے میں نے حدیث کے اسباق پڑھے۔ مولانا اشفاق الرحمن کاندھلوی رحمة اللہ علیہ سے میں نے فقہ کی تعلیم حاصل کی۔
یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان اور مسلم لیگ کا دور دورہ تھا۔ ہم لوگ تو تب نوجوان تھے۔ ہم جب باہر نکلتے تو ”پاکستان میں ہوگا کیا، لاالہ الااللہ، سینے پہ گولی کھائیں گے، پاکستان بنائیں گے” نعرے لگاتے ہوئے گھوما کرتے تھے۔ ہم 1950ء جون کے مہینے میں پاکستان آگئے تھے۔میں نے مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ علیہ، مولانا سیدحسین احمد مدنی رحمہ اللہ علیہ اور جواہر لعل نہرو کو بہت دیکھا۔ 1946ء کو جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں ایک تقریب تھی جہاں پر میں نے کانگریس اور مسلم لیگ کے لیڈروں کو ایک جگہ دیکھا، یہ میرے لیے ایک عجیب چیز تھی۔ والد صاحب کا سیاسی لحاظ سے نہ کانگریس سے تعلق تھا اور نہ ہی مسلم لیگ سے، بلکہ ان کے متعلق مشہور تھا کہ وہ ایک پل کا کردار ادا کرتے تھے۔ میں نے مسلم لیگ کے سارے لیڈروں کو دیکھا تھا۔ 1947ء میں پاکستان بنا تو اس وقت میری عمر تقریباً پندرہ سولہ سال تھی اور مجھے ہوش تھا۔
پاکستان کی تاریخ جو آپ کو معلوم ہونا چاہیے وہ یہ ہے کہ اصل میں علامہ اقبال نے جو تصور دیا اور قائداعظم نے اسے لے لیا اور وہ ہندوستان آگئے، جس کے بعد پھر جب مسلم لیگ کی تحریک شروع ہوئی اور اس وقت انہوں نے جو تصور پیش کیا تھا کہ ہندوستان میں ایک قوم نہیں ہے بلکہ دو قومیں ہیں تو اس کو سمجھنے کے لیے آپ کو تاریخی طور پر بہت پیچھے جانا پڑے گا۔ ہندوستان پر حکومت تو مسلمانوں کی تھی مگر جب انگریز آئے ہیں تو انہوں نے حکومت مسلمانوں سے چھینی۔ ہندو، غیرمسلم بھی تھے اور سکھوں کا ہونا نہ ہونا برابر تھا مگر اصل چیز قوموں میں یہ تھی کہ یا ہندو تھے یا مسلمان تھے۔ جب حکومت انہوں نے مسلمانوں سے لی تو ان کی ٹکر بھی مسلمانوں سے ہی تھی اور اس لیے مسلمانوں کا انگریزوں کے خلاف ری ایکشن بھی بڑا تھا۔ اس کا اندازہ اس سے کیجیے کہ یوپی علاقے کے علماء نے انگریزوں کی آمد پر ان کا مقابلہ کیا تھا۔ متدین علماء کو انگریزوں سے سخت نفرت تھی، جس کا اثر مسلمانوں پر ہوا، اسی لیے انگریزوں کا دباؤ بھی مسلمانوں پر ہی تھا، جس سے بچاؤ کے لیے مسلمانوں کی جانب سے مختلف ری ایکشنز سامنے آئے، تین ری ایکشنز تو فوری طور پر سامنے آئے۔
پہلا علی گڑھ کی شکل میں ظاہر ہوا جس کو سر سید نے شروع کیا، جس میں یہ تھا کہ جب تک معاصر تعلیم حاصل نہیں کریں گے تب تک ہم انگریزوں کے مدمقابل نہیں ہوسکیں گے مگر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دینی تعلیم دب گئی اور عصری تعلیم مقصد بن گیا، مسئلہ حل نہیں ہوا اور اس تعلیم سے سیکولر ذہن بننے لگا، لیکن اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جو مدرسہ قائم کریں اس میں دینی تعلیم بھی ہو اور عصری تعلیم بھی ہو اور نصاب کا معیار اعلیٰ ہو۔ دوسرا ری ایکشن دیوبند کی صورت میں ظہور پذیر ہوا، جہاں عصری تعلیم ختم ہوگئی جس سے دو الگ راہیں ہموار ہوئیں۔ دونوں ایک دوسرے سے الگ۔ تیسرا ری ایکشن ندوة العلماء لکھنؤ کی شکل میں پیدا ہوا جہاں پر دینی اور عصری تعلیم دونوں ساتھ ساتھ دی جاتی تھیں۔ والد صاحب کی رائے یہ تیسرا ری ایکشن تھا۔ بہرحال دو قومیں تھیں، انگریز جب یہاں آئے تو ان کا مشہور اُصول ڈیوائڈ اینڈ رول تھا، جو آج بھی قائم ہے۔ اکبر کا شعر ہے؎
یوں قتل سے بچوں کے، وہ بدنام نہ ہوتا
افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی
آپ کو اگر کسی قوم کا کلچر بدلنا ہے تو ان کی تعلیم بدل دیجیے، کلچر خودبخود بدل جائے گا۔ ہمارے ہاں یہی صورتحال پیدا کی گئی جو آج بھی قائم ہے۔ جب انگریزوں کے نکالنے کی تحریک شروع ہوئی تو ہندؤوں کی اکثریت تھی اور ان کی نفسیات مسلمانوں کو دباؤ میں رکھنے کی تھی۔ کلچر کا تعلق مذہب سے ہوتا ہے۔ قائد اعظم نے کلچرل اختلافات کو ظاہر کیا۔ جب دھیرے دھیرے تحریک چلی تو خیال ہوا کہ اگر یہ صورتحال رہی تو مسلمان سیاسی طور پر پِس جائیں گے۔ جب سیاسی تناؤ بڑھ گیا تو جمعیت علمائے اسلام قائم ہوئی جس کی سربراہی علامہ شبیر احمد عثمانی کررہے تھے، مسلم لیگ کو جمعیت علمائے اسلام سے تقویت ملی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب مسئلہ معاشی وسیاسی نہیں تھا بلکہ دینی بھی تھا۔ مسلمانوں کی فطرت میں دین کی محبت ہوتی ہے۔ میرے والد ماجد کہا کرتے تھے کہ آپ جوش میں ایک پہاڑ کو بھی ہٹا سکتے ہیں۔ جب مسلم لیگ میں یہ تحریک شروع ہوئی کہ پاکستان بنایا جائے تو اس کے خلاف بڑا ری ایکشن پیدا ہوا۔ مسلمانوں کو یہ یقین دلایا گیا تھا کہ پاکستان محض معاشی سیاسی بنیاد پر نہیں بنایا جارہا بلکہ مسلمان اپنے قدیم تشخص کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ اسی پر حکومت قائم کرسکیں۔
ہم بھوپال میں پاکستان کا جھنڈا لہرایا کرتے تھے۔ آپ کو اندازہ نہیں کہ اُس وقت مسلمانوں کا کیا جوش ہوتا تھا۔ آپ اِس جوش کا یوں اندازہ کیجیے کہ قائد اعظم اُردو میں تقریر نہیں کرتے تھے مگر لوگ اسے بڑی توجہ سے سنتے تھے۔ مسلمانوں کو صرف یہ معلوم تھا کہ ایک اسلامی ملک بننے جارہا ہے اور وہ اس کے لیے جان دینے کو بھی تیار تھے اور انہیں یقین تھا کہ یہ چیز قائداعظم ہی کرسکتے ہیں۔ قائد اعظم ہندؤوں سے مرعوب نہیں تھے۔ قائدِاعظم میں منافقت نہیں تھی۔ وہ مسلمانوں کی فطرت سے واقف تھے کہ مسلمانوں کو صرف اسلام پر ہی جمع کیا جاسکتا ہے کسی اور چیز پر انہیں جمع نہیں کیا جاسکتا، اسی لیے انہوں نے ہمیں اسلامی ریاست اور پاکستان کا نعرہ دیا اور محض نعرہ نہیں دیا بلکہ انہوں نے ایسا کرکے دکھایا۔
قائدِاعظم کی کوئی ایک بھی تقریر ایسی ثابت نہیں کی جاسکتی جس میں انہوں نے پاکستان کے لیے لفظ سیکولر یا سیکولرازم استعمال کیا ہو۔ قائدِاعظم کا خیال تھا کہ پاکستان اِسلامی اصولوں پر بنایا جائے گا اور انہوں نے اس کا جگہ جگہ حوالہ دیا ہے۔ جب وہ علی گڑھ گئے تو لڑکوں نے پوچھا کہ پاکستان کا دستور کیا ہوگا؟ تو قائدِاعظم نے ان کو قرآن دکھا کر کہا کہ یہ ہوگا۔ پاکستان بننے کے بعد کراچی میں پاکستان کا جھنڈا کس نے لہرایا تھا؟ قائدِاعظم نے نہیں لہرایا تھا، علامہ شبیر احمد عثمانی نے لہرایا تھا اور ڈھاکہ میں مولانا اشرف علی تھانوی کے بھانجے مولانا ظفراحمد عثمانی نے لہرایا تھا۔ قائدِاعظم بھی لہرا سکتے تھے مگر انہوں نے خاموشی سے ہمیں علماء کی قیادت کا پیغام دیا۔ قائدِاعظم کی ایک ہی تقریر کا عام طور پر حوالہ دیا جاتا ہے جو انہوں نے اسمبلی بننے کے بعد کی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان بن گیا ہے، سب پاکستانی ہیں اور ہر کوئی برابر ہے فلاں فلاں، تو اس کا تعلق ملکی سیاست اور باہمی حقوق سے ہے، لیکن حقیقت میں قائدِاعظم نے ہمیشہ یہ کہا کہ پاکستان کی بنیاد اسلامی اصولوں پر ہوگی۔ اگر اس طرح تھا تو خلیق الزماں صاحب، عبدالرب نشتر اِن کے علاوہ اور بھی جو لوگ قائداعظم کے قریبی ساتھی تھے تو انہوں نے پاکستان بننے کے بعد کیوں نہیں کہا کہ پاکستان کو سیکولر بنادو؟
ہندوستان کی تقسیم سے پہلے میرے والد ماجد کی سربراہی میں اسلامی نظام کتاب مرتب کی گئی تھی جس میں واضح کیا گیا کہ اسلامی نظام کیسا ہوگا؟ سیاسی مقام کیا ہوگا؟ بتانا یہ ہے کہ پاکستان صرف معاشی لحاظ سے حاصل نہیں کیا گیا اور اصل بات جو سمجھنے کی ہے وہ یہ کہ جمعیت علمائے ہند نے جو اختلاف کیا تھا وہ آپ کو اب سمجھ میں آ جائے گا جس پر مولانا ابوالکلام آزاد نے بھی تقریر کی تھی، مسئلہ یہ ہے کہ ‘توقع جس سے کرتے ہیں غمخواری کی، وہ کرتے ہیں عیاری۔’ مطلب یہ تھا کہ جن سے ہم توقع کرتے ہیں کیا وہ اسلامی نظام نافذ کرسکتے ہیں؟ آپ کو 1951ء کا ایک واقعہ بتاتا ہوں۔ پاکستانی حکومت نے ایک ادارہ تعلیماتِ اسلامیہ بنایا تھا۔ اسی کی دوسری شکل آج اسلامی نظریاتی کونسل ہے۔
بورڈ تعلیماتِ اسلامیہ کے چیئرمین کے لیے والد صاحب کو بلایا جا رہا تھا، بہت لوگ پیچھے لگے ہوئے تھے تو والد صاحب نے ان سے پوچھا کہ اس کا ٹرمس آف ریفرنس کیا ہوگا؟ اس وقت ایک مولوی کی زبان سے یہ انگلش الفاظ سننا ہی بڑی بات تھی اور پوچھا کہ اس کا کام کیا ہوگا تو اس طرح ایک سال تک قبول نہیں کیا، جب مسائل طے ہو گئے تو پھر قبول کیا۔ مسائل یہ طے ہوئے کہ جو اسلام کا پورا نظام اور قانون ہے اس پر بورڈ تعلیماتِ اسلامیہ بحث کرے گی۔ والد صاحب اس کے صدر تھے اور مولانا ظفر انصاری سیکریٹری تھے اور ڈاکٹر حمید اللہ صاحب اس کے ممبر تھے، کچھ دوسرے حضرات بھی ممبرز تھے۔اسمبلی میں ان کے لیے باقاعدہ ایک جگہ مقرر کی گئی تھی، جہاں وہ بیٹھتے تھے۔ طے یہ کیا گیا تھا کہ بورڈ تعلیماتِ اسلامیہ کی جو سفارشات ہیں وہ پارلیمنٹ میں جائیں گی۔ پارلیمنٹ اس پر بحث کرے گی، اگر پارلیمنٹ کو اس کی کسی شق پر اعتراض ہوگا تو وہ بورڈ تعلیماتِ اسلامیہ کو واپس بھیجے گی، تاکہ دوبارہ اس پر غور کیا جائے۔ دوبارہ غور کرنے کے بعد بھی کوئی چیز قابلِ اصلاح ہے تو اس کو لیا جائے گا پھر دوبارہ واپس بھیج دیا جائے گا اور جب دوبارہ واپس بھیج دیا جائے گا تو پارلیمنٹ کو اس کا رد کرنے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔
اِس حوالے سے سنہ 1951ء میں لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد خواجہ ناظم الدین سے والد صاحب کی ایک یادگار ملاقات ہوئی، جس میں خواجہ ناظم الدین سے والد صاحب نے کہا کہ آپ کے فیصلے کی رات آج ہے، اگر آپ پاکستان کو اسلامی ریاست بنانا چاہتے ہیں تو اس کا یہ طریقہ اور اس کی یہ قیمت دینی ہوگی۔ اگر آپ پاکستان کو سیکولر بنانا چاہتے ہیں تو اس کا یہ راستہ ہے اور یہ قیمت دینی ہوگی، مگر اس کے لیے جو بھی فیصلہ کریں اس فیصلے کی رات آج ہے، کل بہت دیر ہوجائے گی، مگر ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جو بات میرے والد صاحب نے کہی تھی وہ حق ثابت ہوئی کہ آج (قریباً اَسی سال) گزرنے کے بعد بھی آپ پاکستان کے نظریات ڈھونڈ رہے ہیں کہ کیا ہوں گے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے بہت دیر کردی… بہت دیر کی مہرباں آتے آتے۔ وقت گزرتا چلا گیا اور جو سیکولرز ہیں وہ قابض ہوتے چلے گئے اور ایسے افراد باقی نہیں رہے جو اس حوالے سے مؤثر کردار ادا کرسکیں۔ آپ یہ بات محسوس کر سکتے ہیں کہ پاکستان کی فوج یا مسلمان، اسلام کے نام پر ہی جان دے سکتا ہے، کسی معاشی نعرے پر جان نہیں دے گا۔ میرے والد ماجد نے 1916ء میں ایک نظم قائد اعظم پر لکھی، اس کا ایک شعر یوں ہے؎
ہر مریضِ قوم کے جینے کی ہے کچھ کچھ اُمید
ڈاکٹر اس کا اگر، مسٹر علی جناح رہا
علماء کو قائد اعظم کے سلسلے میں کوئی غلط فہمی نہیں تھی، انہوں نے قرآن پڑھا تھا، سیرت اور کتابوں کا مطالعہ کیا ہوا تھا۔ انہیں معلوم تھا کہ اسلام کا ایک سیاسی نظام ہے اور اسی لیے انہوں نے ایک کمیٹی بھی قائم کروائی تھی جس نے اسلامی نظام کتاب مرتب کی تھی۔ مسلم لیگ کا یہ کمال تھا کہ انہوں نے سمجھا کہ اسلام سیاسی اور درسیاتی نظام بھی ہے، آپ ہی بتائیں کہ آج اسلامی بینکنگ کا نظام کیوں چل رہا ہے؟ یعنی اس کی تڑپ ہے کہ اسلامی اقدار کو قائم کیا جائے مگر سیکولرازم کا اتنا ہوّا بنا ہوا ہے کہ اس کے خلاف سوچنے پر ہم تیار ہی نہیں ہوتے۔ مفتی اعظم مفتی محمد شفیع عثمانی سے کسی نے سوال کیا کہ یورپ اقتصادی سیاسی اور ہر لحاظ سے کیوں کامیاب ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اسلام ایک ڈاکٹر یا حکیم کے نسخے کی مثال ہے، وہ نسخہ جو بھی استعمال کرے گا اسے صحت ملے گی، انہوں نے تو استعمال کیا ہم نے نہیں کیا، ہم نے اپنی مجالس سے معاملات اور اخلاق کو نکال دیا ہے۔ سیکولرازم کو بڑھانے میں جہاں دیگر عناصر کا ہاتھ ہے، وہیں میڈیا کا بھی حصہ ہے۔ فضول فضول چیزوں پر بحثیں ہوتیں ہیں، ہر ایک فرد کا ایک مزاج اور کردار ہوتا ہے، جو پھر مجموعی سطح پر پوری قوم کا مزاج اور کردار بنتا ہے۔ آج ہم ایک پاکستانی قوم کا تصور کیوں پیش نہیں کرتے؟ ہم کیوں مرعوب ہیں؟ ہم جب تک اپنے کردار پر فخر نہیں کریں گے تب تک کوئی نہیں پوچھے گا؟ اس کے لیے ضروری ہے کہ ایمان کو ایمان سمجھا جائے اور اس کے لیے محنت کی جائے۔ صدر ضیاء الحق مرحوم کے دور میں خواتین کس قدر ڈھکے چھپے انداز میں ٹی وی پر آتی تھیں، اب ایسا ہے؟ اگر آپ کو عورت کا اخلاق و کردار دیکھنا ہے تو اندرونِ سندھ اور دوسرے صوبوں میں جائیے، آپ کو معلوم ہوجائے گا، ہماری تعلیم گلستان بوستان، اکبر الہ آبادی اور اقبال اسماعیل میرٹھی کی نظموں سے شروع ہوئی تھی۔ اس سے ذہن بنتا تھا؎
چین و عرب ہمارا، ہندوستاں ہمارا
مسلم ہیں ہم وطن ہیں، سارا جہاں ہمارا
‘لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری’ آج جو تعلیم مل رہی ہے اس سے شروع ہی سے سیکولر ذہن بن رہا ہے تو کیسے کام بنے گا؟ اگر ہمیں بحیثیت قوم کے زندہ رہنا ہے تو اپنے کردار کو قائم کرنا ہوگا، پھر جاکر دوسرے آپ کی عزت کریں گے۔ یورپ آپ کا دانا دشمن ہے وہ نادان نہیں، یورپ ہمارے اور آپ کے اسلام سے لرزاں ہے۔ وہ آپ کی تاریخ سے واقف ہے، اس کے برعکس اگر آپ اپنا معیار بدلتے رہیں گے تو آپ کا کردار بدلتا رہے گا، پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ رہا ہے کہ اس نے اسلام کا معیار برقرار نہیں رکھا، اس نے یورپ کی اقدار کو قائم رکھا ہے اور ان کا معیار بدلتا رہتا ہے۔ میرے والد ماجد کہا کرتے تھے کہ نہ تو ہر نئی چیز اچھی ہے اور نہ ہر پرانی چیز بری ہے۔ آپ اپنی قوم، اپنے مزاج و کردار میں قابلِ فخر چیزیں پیدا کریں، قرآنی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں اور اپنے آپ کو سیرتِ طیبہ کے مطابق بنائیں۔ حضرات صحابہ کرام علیہم الرضوان کی سوانح سے سیکھیں، کتنے لاکھوں لوگوں نے پاکستان کے لیے جانیں دی ہیں، ان کو خیال میں لائیں کہ انہوں نے کس لیے اپنی جانیں قربان کیں؟
جان دے دے کے خریدار بنے ہیں انصار
قربانیوں سے مسلمانوں کی تاریخ بھری پڑی ہے۔ وہ پڑھ کر دیکھیں کہ کس طرح قسطنطنیہ اور بیت المقدس کو فتح کیا گیا؟ ہمیں چاہیے کہ ہم چار دیواریوں سے باہر نکل آئیں، خیال تو کریں کہ آج ہم نے خود کو کتنے حصوں میں تقسیم کررکھا ہے؟ یورپ اپنی تاریخ نہیں بھولا، ہم بھول گئے ہیں۔ ہم جنگِ بدر، جنگِ اُحد، جنگِ خندق بھول گئے ہیں۔ ہم بیت المقدس کے سلطان صلاح الدین ایوبی کو بھول گئے ہیں۔ ہم قسطنطنیہ کی فتح کو بھول گئے ہیں۔ یہ معجزے (کمالات) ہر وقت پیدا ہوسکتے ہیں، اگر آپ کی نظر خالق پر رہے مخلوق پر نہ رہے۔ پاکستان کے لیے تین چیزیں تعلیم، کردار، اخلاق بہت اہم ہیں، اگر یہ نہ بدلیں تو کچھ بھی نہیں بدلے گا:
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو