ایک بزرگ کہتے ہیں کہ میرا ایک جاننے والا سمجھدار انسان تھا لیکن وہ عورتوں کو بڑی عجیب اور بری نظر سے دیکھتا تھا اور اس کا کام بھی عورتوں کے زاتی استعمال کا سامان بیچنے کی دکان پر تھا۔ میں نے اس سے کہا کہ مجھے پتہ ہے تم بدنظری کا شکار ہو۔ میرے پاس اللہ کے حکم سے اس بیماری کا ١۰۰ ٪ مکمل علاج ہے۔
کہنے لگا مجھے علاج بتائیے۔
میں نے کہا سنو ! تم اس بات کا ارادہ کر لو کہ جتنی دفعہ بھی بدنظری کا شکار ہو گے اتنی دفعہ وضو کر کے دو رکعات نماز پڑھو گے۔
کہنے لگا یہ تو بہت زیادہ ہے۔ہر دفعہ دو رکعات ادا کرنا بہت مشکل کام ہے۔
میں نے کہا جنت چاہیے یا جہنم ؟
کہنے لگا مجھے تو جنت چاہیے۔
میں نے کہا بس پھر صرف ہر بدنظری پر دو رکعات ادا کرنے کا ارادہ کرو۔ شیطان خود تمہاری نظروں کو نیچے رکھے گا۔ صرف دو رکعات پڑھنے کی وجہ سے شیطان تمہیں بدنظری پر نہیں ابھارے گا کیونکہ اس کے نزدیک اللہ کو سجدہ کرنا بدنظری سے کہیں زیادہ بھاری ہے۔ صرف دو رکعات ادا کرنے سے اللہ تمہاری مدد فرمائے گا۔
کہنے لگا اچھا ٹھیک ہے۔
میں نے پھر ایک ماہ بعد اس سے بات کی اور پوچھا اب بتاؤ کیسا رہا علاج ؟
ہنستے ہوئے کہنے لگا۔ پہلے ہفتے ١۰ دفعہ دو رکعات ادا کیں اور دوسرے ہفتے ۵ دفعہ اور تیسرے ہفتے دو دفعہ اور چوتھے ہفتے ایک دفعہ۔ واللہ اب تو ایسا کچھ ہو گیا ہے کہ میں کسی غیر عورت کی طرف بری نظر سے دیکھوں تو ایسا لگتا ہے جیسے کوئی مجھے بدنظری سے منع کر رہا ہے کہ دیکھو گے تو دو رکعات ادا کرنی پڑھیں گی۔ وضو کرنا پڑے گا۔ نہ دیکھو نہ دیکھو ۔اسے دیکھنے سے کون منع کر رہا ہے ؟ شیطان ۔۔۔۔کیوں؟؟کیونکہ شیطان انسان کو نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔