(+92) 319 4080233
کالم نگار

مفتی سفیان بلند

مفتی سفیان بلند

پروفائل | تمام کالمز
2026/11/08
موضوعات
امـــام مہدی کـب آئیں گے؟
کیــــا قیـــامت آرہی ہے ؟
آج کل زبانوں پر ایک ہی سوال ہے کہ قیامت آنے والی ہے، کہیں خبروں میں یہ سرگوشی ہے کہ ذخیرہ اندوزی کرلو، مال سمیٹ لو، کل کا کیا بھروسہ؟ ایسے میں ٹھہر کر دیکھنا چاہیئے کہ قرآن و سنت ہمیں کیا سکھاتے ہیں، قیامت کب آئے گی؟ یہ وہ راز ہے جس کا پردہ خود خالقِ کائنات نے اٹھانا گوارا نہ کیا : إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ (لقمان : 34) یعنی بے شک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے۔

يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا ۝ فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَاهَا ۝ إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَاهَا (النازعات : 42 - 44) ی عنی لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ وہ کب واقع ہوگی؟ سو آپ اس کے ذکر سے کس فکر میں ہیں؟ اس کا منتہا (واقع ہونے کا وقت) آپ کے رب کے علم میں ہے۔

جس اہم واقعہ کے وقوع کے علم پر خالقِ کائنات نے مہرِ خاموشی ثبت کردی ہو، اسے بیان کرنے کا دعویٰ کوئی انسان کیسے کرسکتا ہے؟

جب حضرت جبریل امین علیہ السلام نے بارگاہِ نبوت ﷺ میں سوال رکھا "مَتى السّاعَةُ؟" کہ قیامت کب آئے گی ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے جواب میں کوئی تاریخ، کوئی سن، کوئی دن نہیں بتایا بلکہ فرمایا : مَا الْمَسْؤُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ یعنی جس سے پوچھا جارہا ہے، وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔ (بخاری : 50) یعنی ہم دونوں ہی اس کا علم نہیں رکھتے۔

جب خود رسولِ اکرم ﷺ نے کوئی تاریخ نہیں بتائی تو سوشل میڈیا کے ولاگز اور ریلز میں "فلاں سال آخری ہے" کا شور محض مفروضوں کی بنیاد پر کھڑی ناقص عمارت ہے، جس کی کوئی حقیقت نہیں۔

توشہ مادیت نہیں بلکہ خزانہ روحانیت !
فتنوں کے زمانے میں عقل مند وہ ہے جو توشہ آخرت سنوارے، توشہ دنیا نہیں، اگر تین ماہ کا راشن جمع بھی کرلیا تو کیا تین ماہ بعد قیامت نہ آئے گی ؟ اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ اس وقت "توشہ مادیت" نہیں بلکہ "خزانہ روحانیت" کو جمع کیا جائے، ارشاد نبوی ہے :بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، أَوْ يُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا(ترمذی : 2195)

یعنی نیک اعمال میں جلدی کرلو، اس سے پہلے کہ اندھیری رات کے ٹکڑوں جیسے فتنے چھا جائیں، آدمی صبح مؤمن ہوگا تو شام کو کافر، اور شام مؤمن ہوگا تو صبح کافر؛ وہ دنیا کے معمولی سامان کے بدلے اپنا دین بیچ دے گا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جو ایمان دنیا کے چند ٹھیکروں کے عوض بِک جائے، اس کے لئے مال کے انبار کس کام کے؟ اس دور کی سب سے قیمتی متاع "ایمان" ہے، اور سب سے بڑی دانشمندی اس کی حفاظت ہے۔ ہم جس دور سے گذر رہے ہیں، اس میں علاماتِ صغریٰ کا سلسلہ جاری ہے، اور جو حالات ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں وہ اسی کی مختلف کڑیاں ہیں، جب علاماتِ کبریٰ کا آغاز ہوگا اور امام مہدی علیہ الرحمة و الرضوان کی آمد سے ہوگی، تب دنیا کا منظر نامہ بدلے گا اور وہ گھڑی کب آئے گی، یہ اللہ ہی جانتا ہے، ہم اعمال کے مکلف ہیں، نتائج کے نہیں !!

اصل کام یہ ہے کہ امت کو "ایمان و اعمال" سے جوڑا جائے، اس کے دل میں اللہ تعالی اور اس کے وعدوں کا یقین جگایا جائے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم قیاس آرائیوں کے بھنور میں الجھ کر اپنی دنیا بھی گنوا بیٹھیں اور آخرت بھی۔

رسول اللہ ﷺ نے قیامت کی چھوٹی نشانیاں بھی بیان فرمائی ہیں اور بڑی بھی، چھوٹی نشانیوں کو "علاماتِ صغریٰ" اور بڑی نشانیوں کو "علاماتِ کبریٰ" کہا جاتا ہے، ان دونوں کا ذکر حدیث کی کتابوں کے "أشراط الساعة" اور "أبواب الفتن" میں ملتا ہے، یعنی قیامت سے پہلے کیسے کیسے احوال آئیں گے، علماء نے لکھا ہے کہ علاماتِ کبری" کا آغاز "ظہورِ مہدی" سے ہوگا۔

علاماتِ کبریٰ کے تذکروں میں سب سے پہلے امام مہدی علیہ الرحمة و الرضوان کے ظہور کا تذکرہ کیا جاتا ہے، روایات میں ہے کہ مکہ مکرمہ میں لوگ انہیں پہچانیں گے اور ان کے ہاتھ پر بیعت کرلیں گے۔مگر آج کے حالات میں ایسا منظر نامہ قائم کرنے ہی بات کی جاتی ہے کہ جیسے اب ان کے آنے کا وقت ہوگیا ہے۔

اس سے قبل پندرھویں صدی کی دہلیز پر لوگ کہتے تھے کہ دنیا اب زوال کی طرف بڑھ رہی ہے اور امام مہدی جلد ظاہر ہوں گے، آج مزید 48 برس بیت چکے ہیں، اگر ظہور کو ہونا ہوتا تو شاید ہوچکا ہوتا۔

کچھ عرصہ پہلے ایک محقق عالم نے مختلف روایات میں تطبیق دے کر یہ احتمال ظاہر کیا کہ 2012ء میں قیامت آجائے گی، وہ احتمال بیت گیا۔ پھر 2016ء اور 2026ء کی توجیہیں سنائی دینے لگیں، یہ سب اندازے اور تخمینے تھے، کسی نے دعویٰ نہیں کیا، اور کر بھی نہیں سکتا تھا، کیونکہ قیامت کب آئے گی، اس کا علم صرف اللہ رب العالمین کو ہے۔

راقم کو اپنی طالبعلمی کا زمانہ یاد ہے، سنہ 2000ء میں ایک ساتھی نے کہا کہ میں نے فلاں بزرگ عالم سے خود سنا ہے کہ امام مہدی کی پیدائش ہوچکی ہے، اب وہ جلد ظاہر ہوں گے، پھر نائن الیون کا واقعہ ہوا تو بعض لوگ اسے اسی سے جوڑ کر آمدِ قیامت کی باتیں کرنے لگے۔

سنہ 2018ء میں ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی تو وہ ایک بڑے بزرگ عالم کی بات سنانے لگے کہ انہوں نے 38 سال پہلے کہا تھا کہ امام مہدی کی پیدائش ہوچکی ہے، سو اب دو سال باقی ہیں، 2020ء میں کورونا آیا تو پھر یہی کہا گیا کہ اب دنیا کا زوال ہے اور ظہورِ مہدی کا وقت ہے، آج 2026ء ہے، اور ہم ابھی تک منتظر ہیں۔

ایک بزرگ کا قول سننے میں آیا کہ یہ 2026ء دنیا آخری سال ہوگا، یہ سب باتیں رجماً بالغیب ہے یعنی اندھیرے میں تیر چلانا، یہ سب اندازے اور تخمینے مزاجِ شریعت کے خلاف ہیں، جس بات کو رب العالمین نے پردہ راز میں رکھا ہے، کوئی اسے بڑے دعوے کے ساتھ کیسے کہہ سکتا ہے؟ آج کے سوشل میڈیا واریئرز اس بات کو بیان کرکے مایوسی پیدا کرنا چاہتے ہیں اور یہ روش درست نہیں ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ جب کسی کی موت آ جاتی ہے تو اس کی "انفرادی قیامت" اسی لمحے شروع ہوجاتی ہے، ایک ضعیف روایت میں یہ مضمون وارد ہوا ہے :«إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمْ فَقَدْ قَامَتْ قِيَامَتُهُ، فَاعْبُدُوا اللَّهَ كَأَنَّكُمْ تَرَوْنَهُ، وَاسْتَغْفِرُوهُ كُلَّ سَاعَةٍ»(حلیة الأولیاء لأبی نعیم: 6/ 268)

یعنی جب تم میں سے کوئی مرجاتا ہے تو اس کی قیامت قائم ہوجاتی ہے، پس اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور ہر گھڑی اس سے مغفرت مانگتے رہو۔

اور جب انسان کو اپنی "انفرادی قیامت" یعنی موت کی گھڑی کا علم نہیں ہے تو پوری کائنات کی آخری گھڑی "اجتماعی قیامت" کا علم کیسے ہوسکتا ہے؟ عجیب بات ہے کہ ہم وہ علم جاننا چاہتے ہیں جو ہمارے اپنے اختیار میں ہی نہیں ہے، اصل سوال یہ نہیں کہ "امام مہدی کب آئیں گے؟

" اصل سوال یہ ہے کہ "دنیا اس وقت جتنے سخت حالات سے گزر رہی ہے، اس میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟"

زوالِ کائنات اور قربِ قیامت کے دور میں عمل کیا ہو؟ یہی وہ سوال ہے جو ہمیں پوچھنا چاہے!!

کالم نگار : مفتی سفیان بلند
| | |
33