اللہ تعالیٰ نے ازدواجی رشتے کی بنیاد بیان فرمائی:وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً(سورۃ الروم: 21)
’’اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہی میں سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان سے سکون پاؤ، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔‘‘
میری بہنو! ذرا ٹھہر کر سوچو۔ رشتے کی بنیاد سکون، محبت اور رحمت ہے، میٹھے جملے نہیں۔ سکون وہ ہے جو مشکل وقت میں بھی ساتھ نہ چھوڑے۔ محبت وہ ہے جو ذمہ داری اٹھائے، اور رحمت وہ ہے جو کمزوری میں بھی عزت قائم رکھے۔ کل ہم نے بھائیوں سے بات کی تھی کہ گھر کو ان کے رویے کی ضرورت ہے۔ آج تم سے بھی دل کی بات کرنی ہے، کیونکہ گھر کا سکون دونوں کے ہاتھ سے بنتا ہے۔اور آج یہ بات پہلے سے زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔
بدقسمتی سے ہماری زندگیوں میں ایک ایسا دروازہ کھل گیا ہے جس سے اجنبی لوگ بلا روک ٹوک ہمارے دل تک پہنچ جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر کوئی کہتا ہے کہ تم میری زندگی ہو، میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا، میں تمہارے بچوں کو اپنے بچوں کی طرح رکھوں گا۔ مجھے فکر اس بات کی ہے کہ ہم ان جملوں کو سچی محبت سمجھ بیٹھتی ہیں۔ بات کرنا آسان ہے، ساتھ نبھانا مشکل۔ جو شخص آج گھنٹوں تم سے باتیں کر رہا ہے، ضروری نہیں کہ وہ کل تمہاری عزت، تمہارے بچوں اور تمہاری ذمہ داریوں کو بھی قبول کرے۔ اور ہر وہ شخص جو تمہاری تعریف کرتا ہے اور فکر ظاہر کرتا ہے، ضروری نہیں کہ تمہارا خیرخواہ بھی ہو۔
بہن! کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ وہ تمہیں اتنا اچھا کیوں لگتا ہے؟ اس کے پاس تمہارے لیے وقت ہی وقت ہے، مگر اس نے تمہاری بیماری کی راتیں نہیں دیکھیں، گھر کے بل نہیں بھرے، بچوں کی فیسوں کی فکر نہیں اٹھائی اور تمہاری تھکن میں تمہارا ہاتھ نہیں بٹایا۔ اسے تمہاری زندگی کا صرف وہی حصہ دکھائی دیتا ہے جو تم دکھاتی ہو، اور تمہیں اس کی زندگی کا صرف وہ حصہ جو وہ دکھاتا ہے۔ جو ہمدردی کے لیے رات کی تنہائی چنتا ہو، ذرا سوچو، اس کی نیت میں حلال کی کتنی گنجائش ہے؟ سچا اور نیک آدمی دروازہ چھپ کر نہیں، گھر والوں کے سامنے کھٹکھٹاتا ہے۔
اب ذرا اپنے شریکِ حیات کو دیکھو۔ وہ شاید میٹھے الفاظ کا ماہر نہ ہو، مگر اس کی محبت اس کی روزمرہ ذمہ داریوں میں چھپی ہے۔ صبح کی دوڑ دھوپ میں، گھر کے خرچ کی فکر میں، تمہاری اور بچوں کی ضرورتوں کے لیے اٹھائے گئے بوجھ میں۔ ہو سکتا ہے وہ تھکن میں چڑچڑا ہو جاتا ہو، ہو سکتا ہے وہ جذبات کا اظہار نہ کر پاتا ہو، مگر وہ تمہارے ساتھ دکھ سکھ کی پوری داستان رکھتا ہے۔
مگر میری بہن! ہم اس کے بدلے کیا کر بیٹھتی ہیں؟ اس کی خاموشی کو بے حسی اور اس کی تھکن کو بے رخی سمجھ لیتی ہیں۔ پھر اس کا موازنہ ایک ایسے اجنبی سے کرنے لگتی ہیں جس نے کوئی ذمہ داری اٹھائی ہی نہیں۔ ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتاؤ، جو شخص کسی بوجھ کے بغیر صرف اچھی باتیں کر رہا ہو، اس کی کوئی بات آزمائش میں کب پرکھی گئی؟ چھوٹی چھوٹی ناراضگیاں، معمولی اختلافات اور وقتی غصہ ہمیں کسی تیسرے شخص کی طرف نہ لے جائیں، کیونکہ یہی راستہ گھروں کو اجاڑتا ہے۔
یہ سوچ کر دل دکھتا ہے کہ ہماری نظریں دور کی روشنی پر جمی ہیں، جب کہ اپنے گھر کا چراغ ہماری بے توجہی سے مدھم ہو رہا ہے۔اجنبی کی میٹھی باتیں بغیر ذمہ داری کے ہوتی ہیں، اور بغیر ذمہ داری کی محبت دراصل محبت نہیں، وقتی دل بہلاوا ہوتی ہے۔
اگر تمہارا شوہر تم پر ہاتھ اٹھاتا ہے، تمہاری عزت نہیں کرتا یا ظلم کو معمول بنا چکا ہے تو تم پر لازم نہیں کہ ساری زندگی صبر کے نام پر ظلم سہتی رہو۔ تمہیں عزت، تحفظ اور سکون کے ساتھ جینے کا پورا حق ہے۔ اپنے خاندان کے سمجھ دار افراد، قابلِ اعتماد لوگوں اور ضرورت پڑے تو قانونی مدد سے ضرور رجوع کرو۔ مگر ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا: تکلیف دہ رشتے سے نکلنے کا فیصلہ اپنی حفاظت اور بہتری کے لیے کرنا، کسی اجنبی کے وعدوں اور خوابوں کی بنیاد پر نہیں۔ اتنا بڑا فیصلہ کسی ایسے شخص کے ہاتھ میں مت دینا جسے تم نے صرف موبائل کی اسکرین پر دیکھا ہو۔
اور اگر تمہارے بچے ہیں تو ان کا چہرہ ہر فیصلے سے پہلے سامنے رکھ لو۔ ان کا مستقبل، ان کی تعلیم، ان کی تربیت اور ان کا ذہنی سکون کسی کے وعدے پر داؤ پر لگانے کی چیز نہیں۔
اگر تم چاہتی ہو کہ تمہارا رشتہ سنورے تو بات کرنے کا آغاز اپنے گھر سے کرو۔ اپنے شوہر سے اپنی ضرورت اور اپنا دکھ صاف الفاظ میں کہو، شکوہ طعنے کے بجائے اپنائیت سے کرو، اور اس کی چھوٹی چھوٹی کوششوں کو بھی سراہو۔ جس مرد کی قدر کی جاتی ہے، وہ زیادہ نرم، زیادہ ذمہ دار اور زیادہ محبت کرنے والا بنتا جاتا ہے۔ ضرورت ہو تو مسئلے کو عزت، گفتگو، مشاورت اور سمجھ داری کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کرو، اور ایسے بزرگ یا مشیر کا سہارا لو جو دونوں کا بھلا چاہتا ہو۔
آج ہی اپنے شوہر کی کوئی ایسی خوبی زبان سے بیان کر دو جسے تم نے مدت سے نہیں سراہا۔ اس ہفتے کچھ وقت صرف اس کے ساتھ گزارو، بغیر موبائل کے، بغیر کسی مصروفیت کے۔ اور جب کبھی دل میں کسی اجنبی کی میٹھی بات سر اٹھائے تو رک کر وہ تین چیزیں گن لینا جن کے لیے تم اپنے شریکِ حیات کی شکر گزار ہو۔
میری بہن! تمہاری عزت، تمہارا وقار اور تمہاری خودداری بہت قیمتی ہیں۔ انہیں اس شخص کے حوالے مت کرنا جس کی نیت اور کردار تمہارے سامنے واضح نہ ہو۔ حلال راستہ اختیار کرو، صبر سے کام لو اور اللہ پر بھروسا رکھو۔ دنیا میں کوئی انسان تمہارے مستقبل کی ضمانت نہیں دے سکتا، اصل بھروسا اسی رب پر ہے جس نے نکاح کو عہد اور ذمہ داری بنایا۔
اگرآپ پہلے ہی کسی دھوکے کا شکار ہو چکی ہیں توحوصلہ نہ ہاریں۔ غلطی انسان سے ہو سکتی ہے، مگر غلطی کے بعد خود کو سنبھالنا بھی ہمت ہے۔ اپنے بچوں کو اپنی کمزوری نہیں، اپنی طاقت بنانا۔ حوصلہ رکھو اور اللہ سے مدد مانگو، وہ کسی اچھی امید رکھنے والے کو مایوس نہیں کرتا۔
ڈرو اس دن سے جب تم پلٹ کر دیکھو گی اور احساس ہو گا کہ جس شخص نے مشکل دنوں میں تمہارا ساتھ دیا تھا، تم نے اس کی جگہ ایک سراب کو دے دی۔ وقت گزر جاتا ہے، میٹھی باتیں ختم ہو جاتی ہیں، مگر گھر ایک بار بکھر جائے تو اسے سمیٹنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ آج کی چند لمحوں کی خوشی کل زندگی بھر کا پچھتاوا بن جائے۔
اس لیے آج ہی فیصلہ کر لو۔ اپنی عقل کو دل سے پہلے اور اپنے مستقبل کو جذبات سے پہلے رکھو۔ اور یہ بات مرد و عورت دونوں کے لیے ہے: کسی کی زندگی میں آنے سے پہلے سوچ لو کہ اگر تم اسے اپنا نہیں سکتے تو کم از کم جھوٹے خواب دکھا کر اس کی زندگی مزید مشکل نہ بناؤ۔ یاد رکھو!سراب سے کبھی پیاس نہیں بجھتی، پیاس بجھانے کے لیے اپنے ہی گھر کے کنویں پر لوٹنا پڑتا ہے!