(+92) 319 4080233
کالم نگار

محمدسہیل کھتری

محمدسہیل کھتری

پروفائل | تمام کالمز
2026/11/08
موضوعات
اب تو توبہ کر لیں
انسان بھی کتنا عجیب ہے! دنیا کی نظروں سے بچنے کے لیے ہزار جتن کرتا ہے، اپنی غلطیوں پر پردے ڈالتا ہے، اپنے عیب چھپاتا ہے اور اپنی اصل حقیقت لوگوں کے سامنے آنے سے ڈرتا ہے، مگر کبھی یہ نہیں سوچتا کہ جس رب کی نافرمانی میں وہ مصروف ہے، وہ تو ہر لمحہ اسے دیکھ رہا ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ تنہائی میں کیا جانے والا گناہ کسی کے علم میں نہیں آئے گا، لیکن وہ بھول جاتا ہے کہ اس کائنات میں کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں اللہ کی نظر نہ پہنچتی ہو۔ ہماری خاموشیاں، ہماری سرگوشیاں، ہمارے ارادے اور ہمارے چھپے ہوئے اعمال، سب اس کے علم میں ہیں۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں:﴿أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَىٰ﴾(العلق: 14)

ترجمہ: کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے؟

یہ آیت پڑھ کر انسان کو ایک لمحے کے لیے ضرور رک جانا چاہیے۔ اپنے معمولات، اپنی مصروفیات اور اپنی تنہائیوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ آخر ہم کس سے چھپ رہے ہیں؟ کس کو دھوکا دے رہے ہیں؟ جس رب نے ہمیں زندگی دی، رزق دیا، عزت دی اور بے شمار نعمتوں سے نوازا، کیا اسی کی نافرمانی کرتے ہوئے ہمیں ذرا بھی خوف محسوس نہیں ہوتا؟

اللہ تعالیٰ کی کبریائی اور عظمت کا تقاضا ہے کہ انسان اس کے سامنے اپنی بندگی کا اعتراف کرے۔ وہ خالق ہے، ہم مخلوق ہیں؛ وہ مالک ہے، ہم مملوک ہیں؛ وہ بے نیاز ہے، ہم سراپا محتاج ہیں۔ ہماری سانسیں اسی کی عطا ہیں، ہماری زندگی اسی کی امانت ہے، ہماری صحت، ہمارا رزق، ہماری اولاد، ہماری عزت اور ہماری صلاحیتیں سب اسی کی عطا کردہ ہیں۔ اس کے باوجود اگر انسان اسی کے احکام سے بغاوت کرے تو اس سے بڑھ کر محرومی کیا ہوگی؟

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ﴾(المؤمن: 19)

ترجمہ: اللہ آنکھوں کی خیانت کو بھی جانتا ہے اور ان باتوں کو بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔

ذرا اپنے آپ سے سوال کیجیے! کیا ہماری زندگی واقعی ایسی ہے جسے ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرنے میں شرمندگی محسوس نہ کریں؟ ہماری تنہائیوں کا حال کیا ہے؟ ہمارے موبائل فون، ہماری گفتگو، ہمارے معاملات، ہماری کمائی، ہمارے تعلقات اور ہماری روزمرہ مصروفیات کتنی اللہ کی رضا کے مطابق ہیں؟ ہم لوگوں کے سامنے اپنی شخصیت کا کتنا خوبصورت تعارف پیش کرتے ہیں، لیکن ہماری خلوتوں میں ہمارا کردار کیا ہے؟ ہم دوسروں کے سامنے کتنے نیک نظر آتے ہیں، مگر اپنے رب کے سامنے ہمارا باطن کس حال میں ہے؟

لیکن اللہ کی عظمت کے ساتھ اس کی رحمت کو بھی دیکھیے! وہ صرف حساب لینے والا ہی نہیں، معاف فرمانے والا بھی ہے؛ وہ صرف پکڑنے پر قادر نہیں بلکہ بخشنے پر بھی قادر ہے۔ اس کی رحمت کا دروازہ گناہگاروں کے لیے بھی کھلا ہے۔ انسان خواہ کتنی ہی خطائیں کر چکا ہو، اگر وہ سچے دل سے اپنے رب کی طرف پلٹ آئے تو اسے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔

قرآن مجید کی ایک نہایت امید افزا آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے گناہگار بندوں کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں:﴿قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ﴾(الزمر: 53)

ترجمہ: آپ کہہ دیجیے کہ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بے شک اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، یقیناً وہی بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔

غور کیجیے! اللہ تعالیٰ نے یہاں گناہگاروں کو بھی اپنے بندے کہہ کر پکارا ہے۔ یہ اس کی رحمت کا کتنا عظیم اظہار ہے! بندہ گناہوں میں ڈوب جائے، اپنی زندگی کی قیمتی ساعتیں نافرمانی میں گزار دے، اپنے نفس کے ہاتھوں بار بار شکست کھائے، لیکن جب وہ ندامت کے ساتھ اللہ کے دروازے پر دستک دیتا ہے تو اس کے لیے امید کا دروازہ بند نہیں ہوتا۔

رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ایک ایسا پہلو بیان فرمایا جو گناہگار انسان کے دل میں امید کی نئی شمع روشن کردیتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں جس کی سواری کسی بے آب و گیاہ صحرا میں گم ہوجائے، اس پر اس کا کھانا پینا بھی موجود ہو، وہ زندگی سے مایوس ہوکر ایک درخت کے سائے میں لیٹ جائے اور اچانک اپنی سواری کو اپنے سامنے کھڑا ہوا پائے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ کو کس قدر پسند فرماتے ہیں۔ انسان تو اپنے بندے سے ایک غلطی پر ناراض ہوجاتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اپنے گناہگار بندے کے لیے بھی واپسی کا راستہ کھلا رکھتے ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ بندہ اپنی سرکشی چھوڑے، اپنے گناہوں سے باز آئے اور اس کی طرف رجوع کرے۔

مگر افسوس!
ہم توبہ کو بھی آئندہ کے لیے مؤخر کرتے رہتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں ابھی عمر پڑی ہے، ابھی جوانی ہے، ابھی دنیا کے کام نمٹا لیں، پھر عبادت شروع کریں گے؛ ابھی کاروبار بن جائے، پھر نماز کی پابندی کریں گے؛ ابھی خواہشات پوری کرلیں، پھر نیکی کی زندگی اختیار کریں گے۔ حالاں کہ کسی کو معلوم نہیں کہ اس کی زندگی کی مہلت کتنی باقی ہے۔ موت نہ عمر دیکھتی ہے، نہ منصب، نہ دولت، نہ صحت اور نہ ہی انسان کے منصوبوں کا انتظار کرتی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾(النور: 31)

ترجمہ: اور اے ایمان والو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔

یہاں اللہ تعالیٰ نے کسی خاص طبقے یا مخصوص گناہگار کو نہیں بلکہ تمام اہل ایمان کو توبہ کا حکم دیا ہے۔ اس لیے توبہ صرف بڑے گناہگاروں کی ضرورت نہیں، ہر انسان کو اپنے اعمال کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے۔ کوئی نماز میں کوتاہی کرتا ہے، کوئی زبان سے دوسروں کو تکلیف پہنچاتا ہے، کوئی غیبت اور بہتان میں مبتلا ہے، کوئی معاملات میں خیانت کرتا ہے، کوئی حرام کمائی کھاتا ہے، کوئی والدین کے حقوق ادا نہیں کرتا، کوئی بیوی بچوں پر ظلم کرتا ہے، کوئی دوسروں کے حقوق پامال کرتا ہے اور کوئی اپنی نگاہوں اور خواہشات کو بے لگام چھوڑ دیتا ہے۔ ہر شخص کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی سمجھنے کی بات ہے کہ توبہ محض زبان سے استغفار کے چند الفاظ دہرا دینے کا نام نہیں، بلکہ سچی توبہ انسان کی زندگی میں تبدیلی کا تقاضا کرتی ہے۔ گناہ پر ندامت ہو، اسے فوراً چھوڑ دیا جائے، آئندہ اس کی طرف نہ لوٹنے کا پختہ عزم کیا جائے اور اگر کسی انسان کا حق پامال کیا ہے تو اس کا حق واپس کیا جائے یا اس سے معافی حاصل کی جائے۔ اللہ تعالیٰ کے حقوق میں کوتاہی ہوئی ہو تو ان کی تلافی کی کوشش کی جائے۔ اگر کسی کی عزت مجروح کی ہے، کسی کا مال ہڑپ کیا ہے، کسی پر تہمت لگائی ہے یا کسی کو ناحق تکلیف پہنچائی ہے تو محض زبانی استغفار کافی نہیں، جہاں ممکن ہو وہاں اصلاح اور تلافی بھی ضروری ہے۔

اللہ تعالیٰ کو توبہ کرنے والے بندے محبوب ہیں۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:﴿إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ﴾ (البقرۃ: 222)

ترجمہ: بے شک اللہ توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے اور پاک صاف رہنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔

یہ آیت انسان کے لیے کتنی بڑی خوش خبری ہے کہ توبہ صرف گناہوں سے نجات کا ذریعہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کا راستہ بھی ہے۔ ہم دنیا میں کسی کی محبت حاصل کرنے کے لیے کتنے جتن کرتے ہیں، اپنے لباس، گفتگو، انداز اور رویے کو بدلتے ہیں، مگر اس ذات کی محبت حاصل کرنے کے لیے کتنی کوشش کرتے ہیں جس کے قبضۂ قدرت میں ہماری پوری زندگی ہے؟

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«يَا أَيُّهَا النَّاسُ تُوبُوا إِلَى اللَّهِ وَاسْتَغْفِرُوهُ، فَإِنِّي أَتُوبُ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ»(صحیح مسلم)

ترجمہ: اے لوگو! اللہ کے سامنے توبہ کرو اور اس سے مغفرت طلب کرو، بے شک میں ایک دن میں سو مرتبہ اللہ کے سامنے توبہ کرتا ہوں۔

یہاں غور کرنے کا مقام ہے کہ رسول اللہ ﷺ، جن کی زندگی پاکیزہ ترین زندگی تھی، امت کو کثرت سے توبہ اور استغفار کی تعلیم دے رہے ہیں۔ پھر ہم جیسے خطاکار انسانوں کو توبہ سے کتنی غفلت برتنی چاہیے؟

البتہ ایک بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ گناہ سے توبہ کرنے کے بعد اگر کبھی انسانی کمزوری کی وجہ سے دوبارہ لغزش ہوجائے تو انسان مایوس ہوکر توبہ کا راستہ نہ چھوڑے۔ دوبارہ اللہ کی طرف رجوع کرے، پھر ندامت کے ساتھ معافی مانگے اور اپنے نفس کی اصلاح کی کوشش جاری رکھے۔ شیطان کی ایک بڑی چال یہ بھی ہے کہ پہلے انسان کو گناہ میں مبتلا کرتا ہے اور پھر اسے یہ احساس دلاتا ہے کہ اب تمہاری بخشش ممکن نہیں۔ حالاں کہ اللہ کی رحمت سے مایوسی بہت بڑی محرومی ہے۔

آئیے! آج اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر خود سے سوال کریں:
کیا ہم واقعی اپنے رب کی رضا کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر مزید انتظار کس بات کا ہے؟ جس نماز کو چھوڑ رکھا ہے، آج سے اس کی پابندی شروع کردیں۔ جس حرام تعلق کو قائم رکھا ہے، اسے ختم کردیں۔ جس ناجائز کمائی کو معمول بنا لیا ہے، اس سے توبہ کریں۔ جس شخص پر ظلم کیا ہے، اس سے معافی مانگیں۔ جس کا حق دبایا ہے، اسے واپس کریں۔ جس زبان سے لوگوں کی عزت اچھالی ہے، اسی زبان کو ذکر، تلاوت اور خیر کی باتوں میں مصروف کریں۔ جس نگاہ کو حرام مناظر دیکھنے کا عادی بنایا ہے، اسے اللہ کے خوف سے جھکانا سیکھیں۔

زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ ہمیں ایک دن اپنے رب کے حضور حاضر ہونا ہے۔ نہ معلوم وہ دن کب آ جائے، کس لمحے زندگی کی مہلت ختم ہو جائے اور ہماری سانسوں کا سلسلہ ٹوٹ جائے۔ ہم میں سے ہر شخص کے پاس کچھ ایسی کہانیاں ہیں جنہیں وہ کسی کے سامنے بیان نہیں کرنا چاہتا، کچھ ایسی غلطیاں ہیں جن پر آج بھی دل ملامت کرتا ہے اور کچھ ایسے گناہ ہیں جنہیں یاد کرکے انسان خود اپنی نظروں میں شرمندہ ہو جاتا ہے۔ لیکن اللہ کی رحمت کا دروازہ ابھی کھلا ہے۔ اس لیے اپنے ماضی کی غلطیوں کو اپنی آئندہ زندگی کی تباہی نہ بننے دیں، بلکہ انہیں اپنی اصلاح کا ذریعہ بنائیں۔

آج بھی وقت ہے کہ انسان اپنے رب کے سامنے جھک جائے، اپنی خطاؤں کا اعتراف کرے اور سچے دل سے معافی مانگے۔ اگر نماز چھوٹ گئی ہے تو اسے دوبارہ اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، اگر کسی کا حق دبایا ہے تو واپس کریں، اگر کسی کا دل دکھایا ہے تو معافی مانگیں اور اگر گناہوں کی عادت نے زندگی کو گھیر رکھا ہے تو اس عادت کے خلاف جدوجہد شروع کردیں۔ اللہ کی طرف واپسی کے لیے کسی خاص دن، کسی خاص عمر یا کسی خاص موقع کا انتظار نہ کریں۔

مجھے لگتا ہے کہ ہم سب کو کبھی نہ کبھی اپنے دل سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ اگر آج اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا پڑ جائے تو ہمارے پاس کیا جواب ہوگا؟ ہم اپنی نمازوں، اپنے معاملات، اپنی زبان، اپنی نگاہوں اور اپنی تنہائیوں کے بارے میں کیا کہیں گے؟ یہ سوال کسی دوسرے سے نہیں، اپنے آپ سے کرنے کا ہے۔

آئیے، آج ہی اپنے رب سے ایک نیا عہد کریں:
اس کی نافرمانی سے بچنے کی کوشش کریں، اس کی نعمتوں کا شکر ادا کریں اور اپنی زندگی کو اس کی رضا کے مطابق گزارنے کا ارادہ کریں۔ ہم سب خطاکار ہیں، کسی کے گناہ ظاہر ہیں اور کسی کے پوشیدہ، لیکن خوش نصیب وہ ہے جو اپنی غلطی کو پہچان کر ضد اور انا چھوڑ دے اور اپنے رب کی طرف پلٹ آئے۔

آخر میں بس اتنی سی گزارش ہے کہ گناہ کرتے ہوئے یہ مت بھولیے کہ اللہ دیکھ رہا ہے، اور مایوس ہوتے ہوئے یہ بھی مت بھولیے کہ اللہ معاف کرنے والا ہے۔اب تو توبہ کر لیں، ابھی مہلت باقی ہے۔ اللہ کی طرف لوٹ آئیں، اس سے پہلے کہ دنیا سے واپسی کا وقت آ جائے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو سچی توبہ، عمل کی توفیق اور خاتمہ بالخیر نصیب فرمائے۔ آمین۔

کالم نگار : محمدسہیل کھتری
| | |
149     1