(+92) 319 4080233
کالم نگار

ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب

پروفائل | تمام کالمز
2026/11/08
موضوعات
مردوں سے کھری کھری باتیں
رسول اللہ ﷺ نے ازدواجی زندگی کا ایک جامع معیار بیان فرمایا:خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ(جامع الترمذی)

’’تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے لیے بہتر ہو۔‘‘

یہاں بہترین انسان کی کسوٹی نہ دولت ہے، نہ عہدہ، نہ شہرت۔ کسوٹی یہ ہے کہ جو لوگ تمہارے ساتھ شب و روز گزارتے ہیں، وہ تمہارے ہوتے ہوئے کتنے مطمئن، محفوظ اور باعزت ہیں۔ گھر کی فضا بنانے میں سب سے بڑا حصہ مرد کے رویے کا ہوتا ہے، اور کامیابی کا اصل امتحان دفتر یا بازار میں نہیں، تمہارے اپنے دروازے کے اندر ہوتا ہے۔آج میراروئے سخن ان مردوں کی طرف ہے جواپنی شریکِ حیات کو سوشل میڈیاکی سجی سنوری خواتین کے ساتھ موازنہ کرکے ان کی تحقیرکرتے ہیں۔

کبھی سوچا ہے کہ جن چہروں کا حسن، لباس اور مہنگے شوق تمہیں متاثر کرتے ہیں، ان کے پیچھے کیا ہے؟ ممکن ہے وہ چمک دمک ان کی اپنی محنت کا نتیجہ ہو، کسی کی مالی سرپرستی کا ثمر ہو، یا محض ایک خاص تاثر قائم کرنے کی کوشش۔ تمہیں صرف وہ دکھائی دیتا ہے جو دکھانا مقصود ہے۔ کسی کی مسکراہٹ اس کے اطمینان کی ضمانت نہیں، مہنگا لباس خوش حالی کا مکمل ثبوت نہیں، اور کسی کی دل کش تصویر اس کے کامیاب ازدواجی تعلق کی گواہی نہیں۔ کیا خبر ان کی زندگی میں وہ سکون، اعتماد اور خلوص ہی نہ ہو جو تمہاری شریکِ حیات تمہیں دیتی ہے۔

اب ذرا اپنی شریکِ حیات کو دیکھو۔ وہ آج جیسی ہے، اس کے پیچھے تمہاری مشترکہ زندگی کی ایک پوری داستان ہے۔ وہ تمہارے محدود وسائل میں تمہارے ساتھ کھڑی رہی۔ تمہارے خوابوں کو اپنا خواب سمجھا۔ تمہاری مشکلوں میں تمہارا سہارا بنی۔ اپنے کتنے ہی شوق مؤخر کیے اور دل میں یہ امید سنبھالے رکھی کہ ایک دن حالات بہتر ہوں گے اور تم دونوں مل کر کچھ خوب صورت خواب پورے کرو گے۔مگراس کے بدلے ہم اسے کیا دیتے ہیں؟ اسے ان خواتین کے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں جنہیں ہم جانتے تک نہیں۔ اس کے لباس میں پرانا فیشن اور اس کی سادگی میں بے رونقی ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ بعض مردوں کو تو بیوی کے ساتھ کسی اچھے ریستوران میں بیٹھتے ہوئے بھی شرمندگی ہونے لگتی ہے۔ ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتاؤ، شرم کس بات پر آنی چاہیے؟ اس پر کہ تمہاری شریکِ حیات جدید فیشن کے مطابق تیار نہیں؟ یا اس پر کہ ہم نے اپنی نگاہ کا معیار اسکرین کی مصنوعی چمک کو بنا لیا اور اپنے گھر کے حقیقی حسن کو نظر انداز کر دیا؟

یہ سوچ کر دل دکھتا ہے کہ ہماری نظریں دوسروں کے سنبھالے ہوئے باغ کی ہریالی پر جمی ہیں، جب کہ ہمارے اپنے آنگن میں ایک ایسا پھول کھِلا ہے جس کی قدر شاید ہم نے کبھی کی ہی نہیں۔ہم دوسروں کی زندگی کے چند خوب صورت لمحات دیکھ کر اپنی پوری زندگی کو کم تر سمجھنے لگتے ہیں، اور یہی تقابل ہمیں اپنی نعمتوں سے غافل کر دیتا ہے۔

اگر تم واقعی چاہتے ہو کہ تمہاری شریکِ حیات کی شخصیت میں نکھار آئے تو پہلے اپنے رویے پر نظر ڈالو۔ استطاعت ہو تو اس پر بھی خرچ کرو۔ اچھے لباس کا اہتمام کرو، اسے اپنی پسند سے سجنے سنورنے کا موقع دو، اس کے شوق پورے کرنے میں ساتھ دو، اسے اپنے ساتھ باہر لے جاؤ اور اسے محسوس کرنے دو کہ اس کی خوشی تمہارے لیے اہم ہے۔لیکن یہ بھی مت سمجھنا کہ عورت کی خواہشات صرف ملبوسات اور زیورات تک محدود ہوتی ہیں۔

کبھی اسے تمہاری توجہ چاہیے ہوتی ہے، کبھی تمہارے ساتھ چند پُرسکون لمحے، کبھی اپنی پسند کی جگہ جانے کی آرزو، اور کبھی صرف یہ احساس کہ تم اسے کسی سے کم تر نہیں سمجھتے۔ بعض اوقات ’’آج تم بہت اچھی لگ رہی ہو‘‘ اور ’’تمہارا شکریہ‘‘ جیسے دو جملے وہ کام کر جاتے ہیں جو مہنگا تحفہ بھی نہیں کر پاتا۔ اسے کسی سے مقابلے کی دوڑ میں مت دھکیلو۔ یہ مت کہو کہ فلاں جیسی بنو، بلکہ اپنے عمل سے بتاؤ کہ تم اس کی ذات، اس کی خوبیوں اور اس کی سادگی کی قدر کرتے ہو۔ جس عورت کی قدر کی جاتی ہے، اس کے چہرے پر خود اعتمادی کا نور خود بخود آ جاتا ہے۔ آج ہی اپنی شریک حیات کی کوئی ایسی خوبی زبان سے بیان کر دو جسے تم نے مدت سے نہیں سراہا۔ اس ہفتے کچھ وقت صرف اس کے لیے نکالو، بغیر موبائل کے، بغیر کسی مصروفیت کے۔ اور جب کبھی دل میں کسی اجنبی سے موازنہ سر اٹھائے تو رک کر وہ تین چیزیں گن لینا جن کے لیے تم اپنی شریکِ حیات کے شکر گزار ہو۔

تمہاری شریکِ حیات کوئی ایسی چیز نہیں جسے کسی اور کے حسن اور انداز کے پیمانے پر پرکھا جائے۔ وہ تمہاری ہم سفر ہے، تمہارے گھر کی رونق ہے، تمہارے بچوں کی ماں ہے اور تمہارے مستقبل کی شریک ہے۔ اس نے اپنی جوانی، اپنے خواب اور اپنا اعتماد تمہارے نام کر دیا ہے۔ دوسروں کی زندگیوں کو دیکھنا بذاتِ خود مسئلہ نہیں، مسئلہ تب شروع ہوتا ہے جب ہم انہیں اپنی زندگی کا پیمانہ بنا لیتے ہیں۔ ڈرو اس دن سے جب تم پلٹ کر دیکھو گے اور احساس ہو گا کہ جو ہستی مشکل دنوں میں تمہارے ساتھ کھڑی رہی، تم نے اس کی قدر میں دیر کر دی۔ وقت گزر جاتا ہے، تصویریں بدل جاتی ہیں، مگر کسی کی وفا اور صبر کی قدر کا موقع بار بار نہیں ملتا۔ ایسا نہ ہو کہ جب تمہیں اس کی قیمت کا احساس ہو تو وہ اپنی خاموشی میں بہت دور جا چکی ہو۔

دوسروں کے باغ کی ہریالی دیکھ کر اپنے باغ کو ویران مت سمجھو۔ اپنے باغ کی آبیاری کرو، شاید تمہیں معلوم ہو کہ تمہارے پاس پہلے ہی ایک خوب صورت باغ موجود ہے۔اور یاد رکھو: گھاس اسی جگہ ہری ہوتی ہے جہاں اسے پانی دیا جاتا ہے!

کالم نگار : ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب
| | |
97