(+92) 319 4080233
کالم نگار

اعزاز احمد ،سفیر حشرات

اعزاز احمد ،سفیر حشرات

پروفائل | تمام کالمز
2026/11/08
موضوعات
بچوں کے شکاری چہروں پر درندگی ؟
ایک چھوٹی سی بچی اپنے والدین کو بتاتی ہے کہ اسے فلاں شخص کے پاس جانا اچھا نہیں لگتا۔ والد ہنس کر کہتے ہیں کہ ارے بیٹا، وہ تو تمہارے چچا جیسے ہیں، تمہیں اتنا پیار کرتے ہیں. ماں سمجھاتی ہے کہ بڑوں سے ایسے بدتمیزی نہیں کرتے۔

بچی خاموش ہو جاتی ہے۔

کچھ عرصے بعد جب حقیقت سامنے آتی ہے تو گھر والوں کا پہلا جملہ ہوتا ہے کہ ہمیں تو یقین ہی نہیں آ رہا، وہ تو بڑا شریف آدمی تھا... یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ کیا بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے افراد کے چہروں پر کوئی خاص علامت ہوتی ہے؟ کیا ان کی آنکھیں، لباس، داڑھی، مونچھیں، تعلیم یا معاشرتی حیثیت دیکھ کر انہیں پہچانا جا سکتا ہے؟

نہیں، اور یہی اس مسئلے کا سب سے خطرناک پہلو ہے۔

آئیے پہلے ایک ایسی اصطلاح کو سمجھتے ہیں جسے آج کل ہر دوسرے واقعے کے بعد استعمال کیا جاتا ہے. اس کو Pedophilia کہتے ہیں. طبی اور نفسیاتی اصطلاح میں Pedophilia سے مراد بلوغت سے پہلے کے بچوں کی طرف مستقل یا بار بار پیدا ہونے والی جنسی کشش ہے۔ عام طور پر اس سے مراد ایسے بچے ہوتے ہیں جن میں ابھی بلوغت کی جسمانی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔ جو بندہ بچوں کی جانب جنسی کشش رکھتا ہے، اس کو Pedophile کہا جاتا ہے.

لیکن یہاں ایک نہایت اہم سائنسی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ ہر وہ شخص جو کسی بچے کا جنسی استحصال کرتا ہے، لازماً Pedophilia کا حامل نہیں ہوتا، اور ہر وہ شخص جس میں ایسی کشش موجود ہو، لازماً کسی بچے کے ساتھ جرم نہیں کرتا۔نفسیاتی تشخیص میں Pedophilic Disorder کی مخصوص شرائط ہیں۔ محض کسی جرم کی خبر پڑھ کر کسی شخص کی نفسیاتی تشخیص نہیں کی جا سکتی۔ دوسری طرف بچے کے ساتھ جنسی استحصال ایک سنگین جرم اور بچے کے حقوق کی خلاف ورزی ہے، خواہ مجرم کی نفسیاتی کیفیت کچھ بھی ہو۔

اب اصل سوال کی طرف آتے ہیں۔ آخر کوئی بالغ شخص بچے کو اپنا شکار کیسے بناتا ہے؟

بعض مجرم اچانک حملہ کرتے ہیں، لیکن بہت سے واقعات میں ایک تدریجی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے جسے Grooming کہتے ہیں۔ اس میں مجرم پہلے بچے یا اس کے خاندان کا اعتماد حاصل کرتا ہے۔ کبھی تحفے دیتا ہے، کبھی غیر معمولی توجہ دیتا ہے، کبھی بچے کو یہ احساس دلاتا ہے کہ تم میرے لیے بہت خاص ہو۔ بعض اوقات وہ والدین کے سامنے اتنا مددگار اور قابلِ اعتماد بن جاتا ہے کہ گھر والے خود بچے کو اس کے پاس چھوڑنے میں کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتے۔

پھر آہستہ آہستہ ذاتی حدود عبور کرنے کی کوشش شروع ہوتی ہے۔ بچے کو راز رکھنے کا عادی بنایا جا سکتا ہے، اسے شرمندہ کیا جا سکتا ہے یا ڈرایا جا سکتا ہے کہ اگر کسی کو بتایا تو تمہیں نقصان ہوگا یا گھر والے تمہیں ہی قصوروار سمجھیں گے۔ یہ سب کچھ ہر واقعے میں نہیں ہوتا، لیکن Grooming کے طریقے کو سمجھنا بچوں کی حفاظت کے لیے انتہائی اہم ہے۔

اور یہاں ہمارے معاشرے کی ایک خطرناک عادت سامنے آتی ہے۔

ہم بچوں کو سکھاتے ہیں کہ بڑوں کی ہر بات ماننی چاہیے، لیکن یہ نہیں سکھاتے کہ اگر کوئی بڑا ان کے جسمانی حدود کی خلاف ورزی کرے تو اسے انکار کرنا ان کا حق ہے۔ ہم بچوں کو کہتے ہیں کہ مہمان کو سلام کرو، گلے ملو، پیار کرو، مگر یہ نہیں سمجھاتے کہ بچے کو کسی کے گلے لگنے یا بوسہ دینے سے انکار کرنے کا بھی حق ہے۔ ہم بچوں کو اجنبیوں سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں، لیکن یہ بتانا بھول جاتے ہیں کہ جنسی استحصال کرنے والا شخص کوئی جاننے والا، رشتہ دار، استاد، پڑوسی یا خاندان کا قابلِ اعتماد فرد بھی ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہر رشتہ دار یا استاد کو مشکوک سمجھنا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ حفاظتی اصول ہر شخص کے لیے یکساں ہونے چاہییں۔

اب ایک اور تکلیف دہ حقیقت سنیے۔ بہت سے بچے اپنے ساتھ ہونے والے جنسی استحصال کے بارے میں فوراً نہیں بتاتے۔ بعض کو سمجھ ہی نہیں آتا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ بعض خوفزدہ ہوتے ہیں، بعض کو دھمکایا جاتا ہے، بعض شرمندگی محسوس کرتے ہیں اور بعض کو ڈر ہوتا ہے کہ گھر والے انہیں ہی قصوروار ٹھہرائیں گے۔ اور بعض اوقات بچہ ہمت کر کے بتا بھی دے تو جواب ملتا ہے کہ جھوٹ مت بولو، وہ ایسا کر ہی نہیں سکتا. ذرا سوچیے، جس بچے کو اپنی حفاظت کے لیے سب سے زیادہ والدین کی ضرورت تھی، اسے سب سے پہلے اپنی بات کا یقین دلانے کے لیے لڑنا پڑتا ہے۔

یہاں ایک اور غلط فہمی دور کرنا ضروری ہے۔

اگر کسی بچے کے جسم پر زخم نہیں، وہ معمول کے مطابق کھیل رہا ہے، ہنس رہا ہے یا اسکول جا رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے ساتھ کچھ غلط نہیں ہوا۔ جنسی استحصال کے بعد ہر بچے کا ردعمل مختلف ہو سکتا ہے۔ بعض میں خوف، نیند کی خرابی، رویے میں تبدیلی، کسی مخصوص شخص یا جگہ سے اچانک اجتناب، یا عمر سے غیر متوقع جنسی معلومات اور رویے سامنے آ سکتے ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی ایک علامت بذاتِ خود جنسی استحصال کا ثبوت نہیں۔بچے کے رویے میں غیر معمولی تبدیلی آئے تو اسے سنجیدگی سے سمجھنے کی کوشش کیجیے، نہ کہ فوراً کسی نتیجے پر پہنچ جائیے۔

والدین کیا کریں؟:
بچوں کو عمر کے مطابق جسمانی حدود اور نجی اعضا کے بارے میں درست معلومات دیجیے۔ انہیں گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کے متعلق بتائیں۔ کوئی شخص انہیں ایسی چھونے کی حرکت پر مجبور نہیں کر سکتا جس سے وہ غیر محفوظ محسوس کریں۔ انہیں یہ بھی سکھائیے کہ جسم سے متعلق کوئی ایسا راز جس سے وہ خوفزدہ یا پریشان ہوں، چھپانا ضروری نہیں۔

بچے کو یہ یقین دلائیے کہ اگر کبھی کوئی غلط حرکت کرے تو وہ آپ کو بتا سکتا ہے، اور آپ اس پر غصہ نہیں کریں گے۔ اور اگر کوئی بچہ آپ کو اپنے ساتھ ہونے والے استحصال کے بارے میں بتائے تو سب سے پہلے اسے محفوظ کیجیے۔ پرسکون انداز میں اس کی بات سنیے۔ بار بار تفتیشی سوالات کرنے، اسے الزام دینے یا واقعے کی تفصیلات دوسروں میں پھیلانے سے گریز کیجیے۔ مناسب طبی، نفسیاتی اور قانونی مدد حاصل کیجیے۔بچوں کی حفاظت صرف ماؤں کی ذمہ داری نہیں۔ باپ، اساتذہ، خاندان، تعلیمی ادارے اور پورا معاشرہ اس میں کردار ادا کرتے ہیں۔

ایک اور بات... جنسی استحصال صرف بچیوں کے ساتھ نہیں ہوتا۔ لڑکے بھی اس جرم کا شکار ہوتے ہیں۔ بعض لڑکے اس خوف سے خاموش رہتے ہیں کہ لوگ ان کا مذاق اڑائیں گے یا ان کی مردانگی پر سوال اٹھائیں گے۔ بچہ لڑکا ہو یا لڑکی، اس کے ساتھ ہونے والا جنسی استحصال کبھی اس کی غلطی نہیں ہوتااور آخر میں ہمارے معاشرے کے لیے ایک سوال۔ جب کسی بچے کے ساتھ زیادتی کا واقعہ سامنے آتا ہے تو بعض لوگ فوراً پوچھنا شروع کر دیتے ہیں کہ بچہ وہاں گیا کیوں تھا؟ والدین نے اکیلا کیوں چھوڑا؟ اس نے پہلے بتایا کیوں نہیں؟ لیکن سوال یہ بھی ہونا چاہیے کہ ایک بالغ شخص نے بچے کی بے بسی، اعتماد اور کم عمری کا ناجائز فائدہ کیوں اٹھایا؟ بچے کی حفاظت کے طریقوں پر بات ضرور کیجیے، مگر جرم کی ذمہ داری مجرم سے ہٹا کر بچے یا اس کے خاندان پر مت ڈالیے۔

بچوں کو صرف اچھے اور برے لمس کا فرق سکھانا کافی نہیں۔ انہیں یہ یقین بھی دلانا ہوگا کہ اگر کبھی کوئی ان کے ساتھ غلط کرے تو ان کی آواز سنی جائے گی، ان کی بات کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور انہیں محفوظ رکھا جائے گا۔ کیونکہ بعض اوقات ایک بچے کو سب سے زیادہ نقصان صرف مجرم کی حرکت سے نہیں، بلکہ اس کے بعد بڑوں کی خاموشی، بے یقینی اور پردہ پوشی سے بھی پہنچتا ہے۔بچے کی عزت بچانے کے نام پر جرم نہ چھپائیے۔ بچے کی عزت مجرم کے بے نقاب ہونے سے نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ہونے والے ظلم سے مجروح ہوتی ہے۔

کالم نگار : اعزاز احمد ،سفیر حشرات
| | |
80