(+92) 319 4080233
کالم نگار

-ایک قاری کاانتخاب

-ایک قاری کاانتخاب

پروفائل | تمام کالمز
2026/11/08
موضوعات
عالم شیطان پر ہزار عابد سے زیادہ بھاری
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمہ الله راوی ہیں کہ ”ایک مرتبہ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن صاحب قدس سرہ مراد آباد تشریف لے گئے تو وہاں کے لوگوں نے وعظ کہنے کے لیے اصرار کیا۔

مولانا نے عذر فرمایا کہ مجھے عادت نہیں ہے مگر لوگ نہ مانے تو اصرار پر وعظ کے لیے کھڑے ہوگئے اور حدیث ”فقیه واحد أشدّ علی الشیطٰن من ألف عابد“ پڑھی اور اس کا ترجمہ یہ کیا کہ: ”ایک عالم شیطان پر ہزار عابد سے زیادہ بھاری ہے۔“

مجمع میں ایک مشہور عالم موجود تھے۔ انھوں نے کھڑے ہوکر کہا کہ: ”یہ ترجمہ غلط ہے اور جس کو ترجمہ بھی صحیح کرنا نہ آوے اس کو وعظ کہنا جائز نہیں۔“

(حضرت شیخ الہند رحمة الله عليه کا جوابی ردِّ عمل معلوم کرنے سے پہلے ہمیں چاہیے کہ ذرا دیر گریبان میں منہ ڈال کر سوچیں کہ اگر اُن کی جگہ ہم ہوتے تو کیا کرتے؟ ترجمہ صحیح تھا اور اُن صاحب کااندازِ بیان توہین آمیز ہی نہیں، اشتعال انگیز بھی تھا۔ لیکن اس شیخِ وقت کا طرزِ عمل سنیے) حضرت تھانوی رحمة الله عليه فرماتے ہیں کہ یہ سن کر:

”مولانا فوراً بیٹھ گئے اور فرمایا کہ میں تو پہلے ہی کہتا تھا کہ مجھے وعظ کی لیاقت نہیں ہے مگر ان لوگوں نے نہیں مانا۔ خیر اب میرے پاس عذر کی دلیل بھی ہوگئی، یعنی آپ کی شہادت۔“

چنانچہ وعظ تو پہلے ہی مرحلے پر ختم فرمادیا، اس کے بعد اُن عالم صاحب سے بطرزِ استفادہ پوچھا کہ ”غلطی کیا ہے؟ تاکہ آئندہ بچوں“ انھوں نے فرمایا کہ أشدّ کا ترجمہ أثقل (زیادہ بھاری) نہیں بلکہ أضرّ (زیادہ نقصان دہ) کا آتا ہے۔“ مولانا رحمة الله عليه نے برجستہ فرمایا کہ ”حدیث وحی میں ہے یاتیني مثلُ صلصلة الجرس و هو أشدّ علیّ“ (کبھی مجھ پر وحی گھنٹیوں کی آواز کی طرح آتی ہے اور وہ مجھ پر سب سے زیادہ بھاری ہوتی ہے) کیا یہاں بھی أضرّ (زیادہ نقصان دہ) کے معنی ہیں؟ اس پر وہ صاحب دم بخود رہ گئے۔

مأخَذ

(حیاتِ انور ص 119 بروایت مولانا ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ)

کالم نگار : -ایک قاری کاانتخاب
| | |
43