یہ سن 2014 کی بات ہے، میں اپنے چاچا سسر قاری محب اللہ کی معیت میں موڑکھو سے چترال شہر کی سمت سفر پر گامزن تھا، ہماری منزل دینین کا مقام تھا جہاں قاری گل فراز کے مدرسے میں تقریب ختم قرآن منعقد ہو رہی تھی ، قاری محب اللہ صاحب اس تقریب میں بہ طور قاری مدعو تھے جبکہ مہمان خصوصی لاہور سے تشریف لائے ہوئے مولانا فیاض الدین تھے، اس تقریب کی بدولت پہلی بار مولانا فیاض الدین چترالی کی زیارت اور ان کو سننے کا شرف حاصل ہوا، اس موقع پر مجھے انگریزی زبان کے محاورے "first impression is the last impression" کا عملی مظاہرہ دیکھنے کو ملا،مولانا کے انداز بیان نے ایک ہی نشست میں میرا دل دل موہ لیا ، ان کا خطاب روایتی خطباء کی پر تکلف لفاظی ، بے ہنگم جوش، بزرگی کی اداکاری، مشیخیت کے تکلفات اور باڈی لینگویج کے بے سلیقہ استعمال سے یکسر خالی تھا، نہایت عام فہم اور سیدھے سادے جملے تھے جو ان کی زبان سے موتیوں کی طرح جھڑ رہے تھے اور مجھ سمیت دیگر سامعین کے دلوں پر دستک دے رہے تھے بہ قول اقبال ؎
رل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
مجھے ان کی شیریں گفتاری اور با وقار سراپے میں اپنے عظیم استاد مولانا مفتی محمود اشرف عثمانی رحمہ اللہ کی جھلک دکھائی دے رہی تھی، یہ مولانا فیاض الدین چترالی سے ہمارا پہلا تعارف تھا جس نے دل پر بہت ہی گہرے نقوش ثبت کئے اور آج تک ان کی دھیمی اور پر تاثیر آواز کانوں میں رس گھولتی محسوس ہوتی ہے۔
آئیے آج اس پیکر علم و تقوی کی زندگی ،علمی سفر اور سماجی خدمات پر مختصر روشنی ڈالتے ہیں :
پیدائش ، خاندان پس منظر اور تعلیم :
مولانا فیاض الدین نے سن 1968 میں چترال کے جنت نظیر گاؤں " ایون " کے ایک علمی گھرانے میں آنکھ کھولی، ان کے والد مولانا قمر الدین رحمہ اللہ اپنے وقت کے جید عالم دین تھے انہوں نے درس نظامی کے ابتدائی درجات کی تعلیم جامعہ امینیہ دہلی میں حاصل کی تھی جبکہ ان کے تایا مولانا شہاب الدین رحمہ اللہ جامعہ امینیہ کے فاضل تھے،اس خانوادے کی علمی تاریخ بھی خاصی قدیم ہے ان کے اجداد میں پشت در پشت بڑے بڑے اصحاب علم وفضل گزرے ہیں،مولانا کی والدہ چترال کی ماضی قریب کی ممتاز ترین علمی و روحانی شخصیت مولانا محمد مستجاب رحمہ اللہ المعروف ایون مولانا کی صاحب زادی تھیں اس لحاظ سے وہ نجیب الطرفین ہیں
مولانا فیاض الدین نے ابتدائی تعلیم اپنے عظیم نانا مولانا مستجاب رحمہ اللہ سے حاصل کی، علوم و فنون کی متعدد کتابیں گھر پر ہی نانا جی پڑھیں، بعد ازاں ان کے نانا ہی نے انہیں اعلی دینی تعلیم کے لئے جامعہ اشرفیہ لاہور بھیج دیا ، درس نظامی کے تمام درجات یہیں مکمل کئے، ان کا شمار جامعہ اشرفیہ کے ممتاز فضلاء میں ہوتا ہے، دوران تعلیم وہ جامعہ کے ایک ذہین اور غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل طالب علم شمار ہوتے تھے وہ درجہ اولی سے لے کر دورہ حدیث تک اپنی کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کرتے رہے ، 1987 میں اُنہوں نے جامعہ اشرفیہ سے درس نظامی کی تکمیل کی۔
ان کے مشہور اساتذہ کرام میں مولانا محمد مالک کاندھلوی رحمہ اللہ، مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ،مولانا محمد موسیٰ خان روحانی بازی رحمہ اللہ، مولانا عبیداللہ امرتسری رحمہ اللہ، مولانا فضل الرحیم اشرفی رحمہ اللہ،مولانا عبد الرحمن اشرفی رحمہ اللہ، حضرت صوفی سرور رحمہ اللہ ، مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ و دیگر شامل ہیں، مولانا سرفراز خان صفدر سے انہوں نے گجرانوالہ میں تفسیر پڑھی ۔
جامعہ اشرفیہ کی تاریخ میں صرف تین ایسے اساتذہ کرام کا ذکر ملتا ہے جو اولی سے لے کر دورہ حدیث تک مسلسل اول آتے رہے ان میں ایک نام مولانا فیاض الدین چترالی کا بھی ہے ، درس نظامی کی تکمیل کے بعد انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے اسلامیات اور عربی میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں ۔
تدریسی خدمات :
مولانا فیاض الدین چترالی درس نظامی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد اپنے اساتذہ اور بڑوں کی تجویز پر اپنی مادر علمی جامعہ اشرفیہ لاہور کے شعبہ تدریس سے وابستہ ہوگئے "قدر زر زرگر شناسد قدر گوہر گوہری" کے بمصداق جامعہ کے ناظم اعلیٰ کو ان کی خداداد صلاحیتوں کا دور طالب علمی سے بھرپور ادراک تھا اس لئے فراغت سے قبل ہی وہ انہیں تدریسی ذمے داری سونپنے کا عندیہ دے چکے تھے ، جب انہیں تدریس کے میدان میں اپنی صلاحیتیں آزمانے کا موقع ملا تو انہوں نے اپنے اس انتخاب کے ساتھ پورا پورا انصاف کیا اور تشنگان علوم نبوت کو سیراب کرنے کے لئے اپنی تمام تر خداداد صلاحیتیں بڑی فیاضی سے صرف کیں، کم و بیش چار دہائیوں پر محیط اپنے تدریسی کیریئر میں انہوں نے درجہ اولی سے لے کر اعلی درجات تک کی تمام اہم کتابیں بڑی محنت اور عرق ریزی سے پڑھائیں اور ترقی کرتے کرتے استاد حدیث کی مسند پر متمکن ہوئے، ان کا شمار جامعہ اشرفیہ کی مقبول اور محبوب ترین اساتذہ میں ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے انہیں تفہیم کی غیر معمولی صلاحیت ودیعت فرمائی ہے وہ گنجلک علمی مباحث، دقیق نکات ،مغلق عبارات اور مشکل مقامات کو نہایت سہل اور عام فہم انداز میں سمجھانے کا حیران کن ملکہ رکھتے ہیں۔
مولانا فیاض الدین کے تلامذہ کی تعداد بلا مبالغہ ہزاروں میں ہے جن کا دائرہ نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک تک پھیلا ہوا ہے ۔
مولانا فیاض الدین کا علمی مقام :
مولانا فیاض الدین اس وقت جامعہ اشرفیہ لاہور کے ممتاز ترین اساتذہ حدیث میں شمار ہوتے ہیں اور وہاں دورہ حدیث کے طلبہ کو صحیح مسلم کا درس دیتے ہیں۔ علمِ حدیث میں صحیح مسلم کو صحیح بخاری کے بعد سب سے زیادہ اہمیت و امتیاز حاصل ہے اور درسِ نظامی کے آخری درجے میں اس کتاب کی تدریس ایک غیر معمولی علمی ذمے داری تصور کی جاتی ہے۔
جامعہ اشرفیہ لاہور کا شمار پاکستان کے صفِ اول کے دینی تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے۔ اگر ملک کی ممتاز اور قدیم علمی درس گاہوں کی فہرست مرتب کی جائے تو جامعہ اشرفیہ دس سرِفہرست اداروں میں جگہ پائے گا۔ ایسے معتبر اور قومی سطح کے علمی ادارے میں صحیح مسلم جیسی اہم کتاب کا درس دینا نہ صرف مولانا فیاض الدین کے علمی رسوخ، تدریسی مہارت اور علم حدیث میں ان کے مقام و مرتبے کا ایک روشن مظہر ہے بلکہ یہ چترال جیسے دور افتادہ خطے کے لئے بھی بہت بڑا اعزاز ہے کہ اس کا ایک ہونہار سپوت ایک قومی سطح کے جامعے میں حدیث کی دوسری اہم ترین کتاب کا درس دیتے ہیں ۔
حدیث کی عالی ترین سند:
مولانا فیاض الدین چترالی اگرچہ اتنے عمر رسیدہ نہیں ہیں لیکن ان کی حدیث کی سند بہت عالی ہے اس پہلو سے ان کو اپنے ہم عصر علماء پر تفوق حاصل ہے، انہیں اپنے نانا مولانا مستجاب رحمہ اللہ سے اجازت حدیث حاصل ہے اور ان کو مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ دہلوی سے اجازت حدیث حاصل تھی اس لحاظ سے مفتی کفایت اللہ دہلوی اور مولانا فیاض الدین چترالی کے درمیان صرف ایک واسطہ ہے ۔
تصنیفی خدمات :
مولانا فیاض الدین بنیادی طور پر ایک مدرس ہیں اور تدریس ہی ان کی علمی صلاحیتوں کی سب سے بڑی جولان گاہ ہے اس کے باوجود انہوں نے تصنیف کے میدان میں بھی قابل قدر کام کیا ہے، اب تک ان کی متعدد کتابیں منصہ شہود پر آ چکی ہیں جن میں "درس ابن ماجہ " / "انمول جواہرات" اور "دل چسپ اصطلاحات " قابل ذکر ہیں ۔
سماجی اور فلاحی خدمات :
مولانا فیاض الدین چترالی کو اللہ تعالیٰ نے علم کی دولت کے ساتھ ساتھ معاشی خوش حالی سے بھی نواز رکھا ہے، وہ اپنی مالی آسودگی کو خلق خدا کی راحت آسانی کا ذریعہ بنانے کے قائل ہیں وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو "نیکی کر دریا میں ڈال" کے فلسفے پر یقین رکھتے ہیں لیکن کیا کیا جائے خوشبو چھپائے نہیں چھپتی اور لاکھ پردوں میں بھی اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہی ہے۔مولانا فیاض الدین چترالی کی سماجی اور فلاحی خدمات کا دائرہ خاصا وسیع ہے، بالخصوص چترال میں عوامی فلاح و بہبود کے لئے انہوں نے قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے متعدد مساجد اور مدارس کی تعمیر میں خاموشی سے حصہ لیا ہے، کئی مدارس کے غریب اساتذہ کی مستقل بنیادوں پر مالی معاونت کرتے ہیں اور لاتعداد مستحق خاندانوں کی ماہانہ بنیادوں پر کفالت کا اہتمام بھی کرتے ہیں۔ ان کا ایک معمول یہ ہے کہ ہر سال چترال کے کسی مالی طور پر کم زور عالم دین یا قاری قرآن کو نئی موٹر سائیکل کا تحفہ عطا کرتے ہیں ، وہ اپنے شاگردوں اور متعلقین کو کاروبار کی نہ صرف ترغیب دیتے ہیں بلکہ چھوٹا موٹا کاروبار شروع کرنے کے لئے مالی معاونت بھی فراہم کرتے ہیں ۔ پینے کے صاف پانی کی فراہمی بھی ان کی فلاحی سرگرمیوں کا نمایاں حصہ ہے۔ چترال سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں انہوں نے عوام کی اس بنیادی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے بڑی تعداد میں کنویں کھدوائے ہیں۔ محتاط اندازے کے مطابق ایسے کنوؤں کی تعداد بیسیوں میں ہے۔ اس کے علاوہ بھی وہ عوامی فلاح و بہبود کے متعدد منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔
مولانا فیاض الدین اور طریقت :
مولانا فیاض الدین چترالی سلسلۂ نقشبندیہ کے خلیفہ مجاز ہیں، تاہم اس نسبت کے باوجود وہ مروجہ پیری مریدی اور اس شعبے میں در آنے والی مختلف قسم کی خرابیوں کے سخت ناقد ہیں ،ان کے نزدیک طریقت کی اصل غرض و غایت اپنے اعمال و اخلاق کی اصلاح اور تزکیہ نفس ہے اور اس مفہوم میں وہ اسے نہ صرف قابلِ قبول بلکہ ایک مفید اور مؤثر ذریعہ سمجھتے ہیں۔
اس پہلو سے دیکھا جائے تو وہ اپنے تلامذہ، مقتدیوں، عزیز و اقارب اور دیگر متعلقین کی اصلاح و تربیت کا فریضہ نہایت احسن انداز میں انجام دے رہے ہیں۔ ان کے پُراثر بیانات، دروسِ قرآن اور اصلاحی مجالس سے بے شمار افراد کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی رونما ہوئی ہے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد رشد و اصلاحِ کی راہ پر گامزن ہوئی ہے۔
اس اعتبار سے مولانا حقیقی معنوں میں پیرِ طریقت بھی ہیں اور تزکیہ نفوس کا فریضہ بہ حسن و خوبی انجام دے رہے ہیں، تاہم وہ اپنی شخصیت پر اس طرح کا کوئی لیبل چسپاں کرنے سے گریز کرتے ہیں اور روایتی پیروں کے اطوار و چلن سے ایک محتاط فاصلہ برقرار رکھتے ہیں۔ ان کا طرزِ عمل اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ان کے نزدیک اصل اہمیت کسی منصب، لقب یا ظاہری نسبت کی نہیں بلکہ انسانوں کی بہتر تربیت اور ان کے اخلاق و اعمال کی اصلاح ہے۔
مولانا کی تعلیم دوستی:
مولانا فیاض الدین چترالی ایک معتدل مزاج اور عصرِ حاضر کے تقاضوں کا گہرا ادراک رکھنے والے عالمِ دین ہیں۔ فکری اعتبار سے ان کی شخصیت میں جدت و قدامت کا ایک حسین امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔ وہ اپنے شاگردوں اور متعلقین کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کے حصول کی بھی ترغیب دیتے ہیں۔ ان کی ترغیب محض زبانی تلقین تک محدود نہیں بلکہ ان کا اپنا طرزِ عمل بھی اس کا عملی مظہر ہے۔ انہوں نے اپنی اولاد کو بھی دینی و عصری، دونوں طرح کی تعلیم سے آراستہ کیا ہے۔ ان کی ایک صاحب زادی ایم بی بی ایس ڈگری ہولڈر ہیں، جب کہ دیگر صاحب زادے اور صاحب زادیاں بھی دینی علوم کے ساتھ اعلیٰ عصری تعلیم سے بہرہ ور ہیں۔ یہ طرزِ فکر اس حقیقت کا غماز ہے کہ مولانا دینی تشخص برقرار رکھتے ہوئے جدید علوم کے حصول کو بھی وقت کی اہم ضرورت سمجھتے ہیں۔