(+92) 319 4080233
کالم نگار

علی ہلال

علی ہلال

پروفائل | تمام کالمز
2026/11/08
موضوعات
مقابلہ باضمیروں سے ہو ناچاہیے
شیخ الحدیث مولانا عبد الودود پاکستان کے ضلع بونیر سے تعلق رکھنے والے ایک مقبول اور محبوب عالم دین ہیں۔ بزرگ ہیں۔ مفتی فضل غفور کے والد بزرگوار ہیں۔ علم ادب پر کمال مہارت رکھتے ہیں ۔ کبھی ماہ شعبان میں ہونے والے ان کے ادبی دورے ادبی خوشہ چین طلبہ کے لئے بہت اہم ہوا کرتے تھے ۔ وہ شاعر بھی ہیں۔

دورہ تفسیر میں اپنا ایک واقعہ سنایا ۔ کہا مردان بخشالی میں مدرس تھا۔ علاقے میں ایک بڑا مشاعرہ منعقد ہوا تھا۔ میں بھی مدعو تھا۔ اجمل خٹک مہمان خصوصی تھے۔

اس زمانے میں صوبے میں ملا ومذہب کے خلاف شعر وشاعری کا مزاج عام تھا۔ چند شعراء نے سٹیج پر آکر مذہب ومدرسہ اور ملا ومنبر پر بڑی بے رحمی کے ساتھ لفظی بمباری کی ۔ میری بھی باری آئی تو اپنے کچھ جوابی اشعار سنانے لگا۔ نمائندگی مدارس کی تھی۔ اشعار میں عربی و فارسی لفظوں کی موتیوں کے ساتھ بلاغت و فصاحت کے جملہ اوصاف جھلک رہے تھے ۔ اشعار کاٹ دار تھے۔ مصرعے نپے تلے تھے۔ قوم پرست شعراء کو اپنی توہین محسوس ہونے لگی۔ اوپرسے مجلس سے ملنے والی داد نے جلتی پر تیل کا کام دکھایا۔ معاملہ اور بڑھ گیا۔

منتظمین نے سرگوشیاں شروع کیں۔کہ ملا کو خاموش کیسے کیا جائے ۔ کسی دانا نے لاؤڈ سپیکر بند کرنے کا مشورہ دیا۔ لیکن مہمان خصوصی کی کرسی پر براجمان عظیم دل ودماغ کے مالک اور وسیع الظرف اجمل خٹک نے سختی سے منع کیا۔ اجمل نے کہا کہ جواب صرف شعر میں دینا ہے اور بس۔ انہیں اپنا کلام سنانے دیجئیے ۔

کہا مجھے خود تو محسوس ہوا۔ مشاعرے میں قادر الکلام شعراء موجود تھے۔ سوچنے لگا کہ ہوگا کیا۔ خیر حسن حظ کہیں یا کچھ اور۔ لیکن ادھر میری شاعری بند ہوئی اور ادھر سے علاقے کی لائٹ کسی تکنیکی خرابی کے باعث بند ہوگئی ۔ شور شرابہ شروع ہوگیا۔ پنڈال میں بھگدڑ مچ گئی اور میں موقع کا فایدہ اٹھاتے ہوئے اپنے طلبہ کے ساتھ نکل آیا ۔

کل قائد جمعیت نے پارلیمنٹ میں خطاب کیا تو پوری تقریر کو سنسر کیا گیا۔ لیکن خواجہ آصف کی آج کی جوابی تقریر پوری نشر کی گئی ۔ کاش ہمارے ان اہل اقتدار میں اجمل خٹک جتنی اخلاقی جرات ہوتی ۔ یہاں تو مولانا نے دو طنزیہ جملے کہے اور ادھر مولوی بریگیڈ کشکول اٹھا کر خواجہ صاحب کے خاندان سے معافیاں مانگنے پہنچ گیا۔

کالم نگار : علی ہلال
| | |
68