(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولاناآصف ظہیر،کوہاٹ

مولاناآصف ظہیر،کوہاٹ

پروفائل | تمام کالمز
2026/11/08
موضوعات
اہلِ مدارس کے لیے تعمیرِ شخصیت اور ارتقائے تعلیم کاجامع منصوبہ
دینی جامعات کا حقیقی طرۂ امتیاز اور بنیادی مقصد ایسے رجالِ کار اور ماہرینِ فن تیار کرنا ہے جو تحریر و تقریر، تدریس، علمی مناظرہ اور دعوت و ارشاد کے میدانوں میں دورِ حاضر کے چیلنجز کا مردانہ وار مقابلہ کر سکیں۔ اس عظیم مقصد کے حصول، جامعہ کی انتظامی و تعلیمی ترقی اور متبحر علماء و محققین کی تیاری کے لیے ایک ہمہ جہت اور جامع حکمتِ عملی کی اشد ضرورت ہے۔

1۔ طلبہ کی ہمہ جہت تربیتی و مہارتی تیاری:
طلبہ کے اندر تحریر، تقریر، علمی مباحثہ، تدریس اور دعوت و ارشاد جیسی متنوع صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور انہیں عملی میدان کے لیے تیار کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات کلیدی حیثیت رکھتے ہیں:

جامعہ میں ایسے عالی دماغ اساتذہ کی موجودگی لازمی ہے جو خود وسعتِ مطالعہ کے حامل ہوں، اسلوبِ نگارش پر ملکہ رکھتے ہوں اور رموزِ تدریس سے کامل واقفیت رکھتے ہوں۔ استاذ کے اندر صلاحیت شناسی (Talent Identification) کا ملکہ ہونا چاہیے، تاکہ وہ طالب علم کی فطری رغبت اور صلاحیت کو دیکھ کر اس کا صحیح رخ متعین کرے اور اس سمت میں پیش رفت کے لیے ایک واضح علمی و عملی لائحۂ عمل مہیا کرے۔

ب۔ معیاری اور جامع کتب خانہ:
جامعہ میں ایک ایسے علمی اور منظم کتب خانے کا قیام ضروری ہے جو کم از کم بنیادی علمی و تحقیقی ضروریات کو پورا کرتا ہو، تاکہ طلبہ کے علمی ارتقا، تعمق اور تشنۂ تحقیق نکات کی جستجو میں کتب کی عدم دستیابی رکاوٹ نہ بنے۔

ج۔ علمی اسفار اور اصحابِ علم و عمل کی صحبت:
طلبہ کے اندر بلند ہمتی، علمی ذوق اور دینی جذبہ برقرار رکھنے کے لیے اکابرین اور اصحابِ علم و عمل کی صحبت سے فیض یابی کی مستقل ترتیب ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ تاریخی و علمی مراکز اور کتب خانوں کے دورے، نیز جید علماء کے ساتھ فکری نشستیں، ان کے فکری افق کو وسعت دیتی ہیں۔

د۔ تحسین، حوصلہ افزائی اور قدر شناسی:
طلبہ کی ابتدائی اور چھوٹی چھوٹی کاوشوں پر ان کی حوصلہ افزائی کا خاص اہتمام کیا جائے۔ تحسین و انعام کا یہ نظام طالب علم میں خود اعتمادی پیدا کرتا ہے اور اس کی پوشیدہ صلاحیتوں کو نکھارنے میں آکسیجن کا کام کرتا ہے۔ہ۔ عملی مشق و تدریب (Practical Workshops):
صرف نظریاتی علم کافی نہیں؛ جامعہ کے اندر بزمِ ادب، خطابت کے مقابلے اور روزانہ یا ہفتہ وار بنیادوں پر قلمی کاوشوں، مثلاً دیوارِ رسالہ، مقالہ نگاری اور مضامین نویسی، کا منظم اہتمام ہونا چاہیے۔

و۔ جدید ذرائع ابلاغ سے آراستگی (Media & Digital Literacy):
عصرِ حاضر میں دعوت و ارشاد اور فکری و علمی مباحث کے لیے جدید ذرائعِ ابلاغ، ڈیجیٹل میڈیا، پیشکش کے جدید طریقوں اور آن لائن پلیٹ فارمز کو مثبت اور مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی بنیادی تربیت کو تعلیمی عمل کا حصہ بنایا جائے۔

2۔ جامعہ کی ترقی و ارتقا کے بنیادی ارکان:
کسی بھی دینی و علمی ادارے کی بقا، ترقی اور کامیابی کا دارومدار بنیادی طور پر درج ذیل ارکان پر ہے:جامعہ کے مہتمم کا محض ایک روایتی منتظم ہونا کافی نہیں، بلکہ ان کا بیدار مغز، دردمند، دوراندیش اور اہتمام کے لیے درکار تمام انتظامی و تدبیری خوبیوں سے آراستہ ہونا ضروری ہے.نصابِ تعلیم ایسا جامع اور متحرک ہو جو قدیم علمی میراث کی حفاظت کے ساتھ ساتھ دورِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو، طلبہ کی فکری بالیدگی کا ضامن ہو اور عملی زندگی میں نفع بخش ثابت ہو۔مدرسین نہ صرف اپنے فن پر کامل عبور رکھتے ہوں، بلکہ تدریسی تجربے، فہمِ سلیم، فنِ افہام و تفہیم (Pedagogy) اور طلبہ کی نفسیات سے بھی خوب واقف ہوں.جامعہ کے اندر تقویٰ، للہیت، نظم و ضبط اور علمی و فکری ماحول کا قیام ارتقا کی بنیادی شرط ہے، جو طلبہ اور اساتذہ کو یکسوئی کے ساتھ علمی اشتغال فراہم کرتا ہے۔جامعہ کے مالیاتی نظام میں کامل شفافیت (Transparency) اور پائیدار وسائل کی فراہمی ضروری ہے، تاکہ ادارہ کسی بھی دباؤ سے آزاد ہو کر بے نیازی اور استحکام کے ساتھ اپنے مقاصد کی سمت گامزن رہ سکے۔

3۔ علوم و فنون میں ماہرین اور محققین کی تیاری:
مختلف اسلامی علوم و فنون میں متبحر ماہرین، فقہاء اور محققین پیدا کرنے کے لیے درج ذیل اصولوں کی پاسداری لازمی ہے:

الف۔ تمرکز اور تخصیص (Specialization & Focus):
طالب علم کی جس فن میں فطری مناسبت اور صلاحیت ہو، اسے اسی فن میں انفرادیت قائم کرنے کی ترغیب دی جائے اور اس کی تمام تر توانائیاں تخصیص (Specialization) کے تحت اسی پر مرکوز کی جائیں۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ فن میں یک سالہ یا دو سالہ تخصص کی ترتیب بنائی جائے۔

ب۔ ماہرینِ فن سے زانوئے تلمذ طے کرنا:
سطحی مطالعے کے بجائے ہر فن کو اس کے مستند، ماہر اور صاحبِ بصیرت استاذ سے تفہماً پڑھا جائے، تاکہ فن کی روح تک رسائی حاصل ہو۔

ج۔ اصطلاحات اور امہات المسائل کا استحضار:
ہر فن کے بنیادی قواعد، امہات المسائل اور اصطلاحات کو ازبر کرنا اور انہیں ہر وقت ذہن میں مستحضر رکھنا ماہرِ فن بننے کے لیے بنیادی اینٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔

د۔ بالاستیعاب اور ہمہ جہت مطالعہ:
متعلقہ فن کی متقدمین و متاخرین کی تمام چھوٹی بڑی کتب کا گہرا، تنقیدی اور بالاستیعاب مطالعہ کیا جائے، تاکہ فن کے ہر گوشے پر نظر ہو۔

ہ۔ تحقیق و نقد کا ملکہ (Critical Thinking):

صرف حفظ و نقل پر اکتفا نہ کیا جائے، بلکہ طلبہ میں نقد و نظر، دلیل کا تجزیہ کرنے اور تقابلی مطالعے (Comparative Study) کی خوبی پیدا کی جائے۔

و۔ اجتہادی بصیرت اور جدید مسائل کا حل:
ماہرِ فن کا حقیقی امتحان یہ ہے کہ وہ قدیم علمی ذخیرے کو مشعلِ راہ بناتے ہوئے عصرِ حاضر کے پیش آمدہ جدید پیچیدہ مسائل اور معاصر چیلنجز کا مدلل و متوازن حل پیش کر سکے۔

اگر دینی جامعات ان تینوں ابعاد—طلبہ کی علمی و عملی تربیت، ادارے کے شفاف و قوی انتظامی نظام اور تخصیصی بنیادوں پر ماہرین کی تیاری کو پیشِ نظر رکھ کر اخلاص، حکمت اور جدید بصیرت کے ساتھ کام کریں، تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے اداروں سے ایک بار پھر ایسی عبقری اور قدآور شخصیات پیدا نہ ہوں جو امت کی فکری و علمی قیادت کا حق ادا کر سکیں۔اللہ تعالیٰ ان علمی کارخانوں سے رجالِ کار پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے لیے وافر وسائل مہیا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!

کالم نگار : مولاناآصف ظہیر،کوہاٹ
| | |
140     1