(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولاناسمیع اللہ عزیز

مولاناسمیع اللہ عزیز

پروفائل | تمام کالمز
2026/11/08
موضوعات
معلومات کے شہنشاہ، مہارت کے مسافر
گوگل، کتابیں اور اے آئی سب موجود ہیں، پھر مطلوبہ مہارت کہاں رہ گئی؟آج کے دور میں معلومات حاصل کرنا شاید تاریخ کے کسی بھی زمانے سے زیادہ آسان ہوگیا ہے۔ پہلے کسی لفظ کا مطلب معلوم کرنے کے لیے لغت کھولنی پڑتی تھی، اب موبائل سے پوچھ لیجیے۔ کسی عبارت کا ترجمہ چاہیے تو چند سیکنڈ میں حاضر! کسی موضوع پر مضمون درکار ہو تو مصنوعی ذہانت سے مدد لے لیجیے۔ عربی قواعد کی وضاحت چاہیے، کوئی مکالمہ سیکھنا ہے، کسی کتاب کا خلاصہ بنوانا ہے، سب کچھ آپ کی انگلیوں کی جنبش پر دستیاب ہے۔

اب تو صورتِ حال یہ ہے کہ بعض اوقات طالب علم کے پاس سوال سے پہلے جواب، سبق سے پہلے خلاصہ اور مشق سے پہلے حل موجود ہوتا ہے،لیکن اس علمی سہولت کے درمیان ایک دلچسپ سوال سر اٹھاتا ہے: جب معلومات حاصل کرنا اتنا آسان ہوگیا ہے تو مطلوبہ مہارت حاصل کرنا اب بھی اتنا مشکل کیوں ہے؟

ذرا تصور کیجیے، ایک صاحب کئی سال سے عربی سیکھ رہے ہیں۔ عربی قواعد کے ناموں سے واقف ہیں، کتابوں کے حوالے جانتے ہیں، مختلف ایپس استعمال کرچکے ہیں، انٹرنیٹ پر لیکچرز بھی دیکھے ہیں اور مصنوعی ذہانت سے متعدد بار گفتگو بھی کی ہے۔ لیکن جب ان سے کہا جائے کہ کسی عربی عبارت کو بغیر ترجمہ دیکھے سمجھیے، کسی موضوع پر پانچ منٹ عربی میں گفتگو کیجیے یا اپنے خیالات عربی میں لکھیے، تو اچانک محسوس ہوتا ہے کہ معلومات کا سمندر موجود ہے، مگر عملی مہارت کی کشتی ابھی کنارے پر کھڑی ہے!

یہ صورتِ حال صرف عربی زبان تک محدود نہیں۔ قرآن مجید کی قراءت، تحریر، تقریر، تدریس اور دیگر عملی فنون میں بھی معلومات اور مہارت کے درمیان یہی فاصلہ دکھائی دیتا ہے۔آخر یہ فاصلہ پیدا کیسے ہوتا ہے؟ جاننا اور کر دکھانا دو الگ باتیں ہیں:

اگر کسی شخص کو تیراکی کے تمام اصول زبانی یاد ہوں تو کیا اسے فوراً سمندر میں اتار دیا جائے؟ اگر وہ کہے کہ میں نے تیراکی پر بیسیوں ویڈیوز دیکھی ہیں، تو کیا پانی بھی اسے ماہر تیراک تسلیم کرلے گا؟

پانی کو آپ کی معلومات سے کوئی غرض نہیں، اسے آپ کی عملی صلاحیت سے سروکار ہے!

اسی طرح سائیکل چلانے کے اصول یاد کرنے اور سائیکل پر توازن قائم کرنے میں فرق ہے۔ تقریر کے اصول جاننے اور مجمع کے سامنے اعتماد سے بولنے میں فرق ہے۔ عربی قواعد سمجھنے اور عربی میں درست جملے بنانے میں فرق ہے۔ قرآن مجید کی قراءت کے قواعد پڑھنے اور اپنی تلاوت میں ان کا درست اطلاق کرنے میں فرق ہے۔

معلومات ذہن میں علم کا ذخیرہ بڑھاتی ہیں، لیکن مہارت کے لیے اس علم کو عمل میں لانا پڑتا ہے۔اس عمل میں غلطی ہوتی ہے، اصلاح ہوتی ہے، دوبارہ کوشش ہوتی ہے، اور پھر رفتہ رفتہ کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں سیکھنے والا محض معلومات جمع کرنے والے شخص سے آگے بڑھ کر حقیقی صلاحیت حاصل کرنے لگتا ہے۔معلومات آپ کو بتاتی ہیں کہ کیا کرنا ہے؛ مہارت اس وقت سامنے آتی ہے جب آپ واقعی وہ کام درست طور پر کرنے لگتے ہیں۔

خود کو ماہر سمجھنے کا ایک دلچسپ نفسیاتی مسئلہ!
انسان کی طبیعت بھی عجیب ہے۔ جب اسے کچھ معلوم نہ ہو تو سیکھنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، لیکن جب چند معلومات حاصل ہوجائیں تو کبھی کبھی اسے محسوس ہونے لگتا ہے کہ اب مزید سیکھنے کی کیا ضرورت ہے! چند اصطلاحات یاد ہوگئیں، کچھ کتابیں پڑھ لی گئیں، چند علمی گفتگوئیں سن لی گئیں، اور ذہن میں اپنی علمی شخصیت کا ایک خوب صورت خاکہ تیار ہوگیا۔اب کسی ماہر کے سامنے بیٹھ کر بنیادی باتیں پوچھنا ذرا مشکل محسوس ہوتا ہے۔ اپنی غلطی کی اصلاح کروانا بھی کبھی کبھی طبیعت پر گراں گزرتا ہے، کیونکہ ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنا کچھ جاننے کے بعد بھی ہم سے غلطی کیسے ہوسکتی ہے؟حالاں کہ یہی وہ مقام ہے جہاں سیکھنے کا اصل سفر شروع ہوتا ہے۔

اپنی معلومات سے واقف ہونا اچھی بات ہے، لیکن اپنی حدود سے واقف ہونا اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ جس شخص کو معلوم ہو کہ اسے کیا آتا ہے اور کیا نہیں آتا، وہ اپنی ترقی کا راستہ زیادہ آسانی سے تلاش کرسکتا ہے۔ اسی لیے علم کے سفر میں تواضع اختیار کرنا کمزوری نہیں، ذہانت کی علامت ہے۔ ماہر سے سیکھنا اپنی قابلیت کا انکار نہیں، بلکہ اسے بہتر بنانے کا شعوری فیصلہ ہے۔

استاد کی ضرورت کیوں باقی ہے، جب اے آئی موجود ہے؟یہ سوال بجا ہے کہ جب انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت سے اتنی مدد مل سکتی ہے تو پھر استاد سے باقاعدہ سیکھنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟اس کا جواب ان جدید وسائل کی نفی میں نہیں، بلکہ ان کے درست استعمال میں ہے۔

کتاب معلومات فراہم کرسکتی ہے، ویڈیو کسی عمل کا نمونہ دکھا سکتی ہے اور مصنوعی ذہانت وضاحت، مشق اور سوالات کے ذریعے مدد دے سکتی ہے۔ یہ سب قیمتی وسائل ہیں۔ لیکن جب مقصد کسی مخصوص مہارت میں قابلِ اعتماد پیش رفت ہو تو اپنی کارکردگی کی جانچ، غلطیوں کی درست شناخت، مناسب اصلاح اور مسلسل رہنمائی بھی اہم ہوجاتی ہے۔مثلاً عربی میں کوئی جملہ پڑھ لینا ایک بات ہے، لیکن یہ جاننا کہ آپ کا تلفظ کہاں غلط ہے، جملے کی ساخت میں کون سی کمزوری ہے اور آپ کی گفتگو کو فطری اور درست بنانے کے لیے کون سی مشق درکار ہے، ایک الگ کام ہے۔اسی طرح قرآن مجید کی قراءت میں کسی اصول کی تعریف یاد ہونا اور اپنی تلاوت میں اس اصول کو صحیح طور پر ادا کرنا ایک جیسی چیزیں نہیں۔ یہاں مستند اہلِ فن سے سنوانا، اصلاح کروانا اور ضرورت کے مطابق مشق کرنا خاص اہمیت رکھتا ہے۔

اچھا استاد صرف معلومات نہیں دیتا؛ وہ سیکھنے والے کو اس کی اصل ضرورت سمجھنے، اپنی غلطی پہچاننے اور بہتر کارکردگی کی طرف بڑھنے میں مدد دیتا ہےاور ایک اچھا طالب علم جدید وسائل سے بھی فائدہ اٹھاتا ہے اور جہاں ضرورت ہو، ماہر کی رہنمائی بھی حاصل کرتا ہے۔ وہ ٹیکنالوجی کو استاد کا لازمی متبادل یا استاد کو ٹیکنالوجی کا مخالف نہیں سمجھتا، بلکہ ہر ذریعے کو اس کے مناسب مقام پر استعمال کرتا ہے۔سیکھنے کی قیمت صرف پیسہ نہیں، مگر سنجیدگی کا ثبوت عمل ہے!

دنیا میں ہر چیز کی قیمت لازماً روپے پیسے میں ادا نہیں کی جاتی۔ بعض کام وقت مانگتے ہیں، بعض مسلسل محنت، بعض نظم و ضبط اور بعض کسی دوسرے کے ساتھ تعاون اور ذمہ داری کا تقاضا کرتے ہیں۔تعلیم بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔کوئی شخص مفت کتاب سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے، کوئی آن لائن لیکچر سے اپنی صلاحیت بہتر بنا سکتا ہے، اور کوئی باقاعدہ تربیت پر سرمایہ کاری کرکے زیادہ منظم انداز میں آگے بڑھ سکتا ہے۔ اصل بات یہ نہیں کہ آپ نے کتنا خرچ کیا، بلکہ یہ ہے کہ آپ کے مقصد کے مطابق آپ نے کون سا راستہ اختیار کیا اور اس سے کیا حاصل کیا۔اگر آپ کسی ماہر سے تربیت حاصل کررہے ہیں تو آپ کا وقت، مشق، پابندی اور اصلاح قبول کرنے کی آمادگی اس عمل کو مؤثر بناتے ہیں۔ اور جہاں باقاعدہ تربیت کی فیس مقرر ہو، وہاں مناسب معاوضہ استاد کی محنت اور تربیتی نظام کو برقرار رکھنے میں تعاون کا ذریعہ بن سکتا ہے۔یہاں طالب علم اور استاد دونوں کی ذمہ داریاں ہیں۔ طالب علم کو سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے، اور استاد و ادارے کو معیاری رہنمائی، واضح اہداف اور مناسب تربیتی ماحول فراہم کرنا چاہیے۔اپنی مطلوبہ مہارت کے حصول کے لیے وقت نکالنا، مشق کرنا اور ضرورت کے مطابق وسائل مختص کرنا اس بات کی علامت ہے کہ آپ نے اپنے مقصد کو عملی ترجیح دی ہے۔البتہ یہ بھی یاد رہے کہ مہنگی تربیت لازماً بہترین نہیں ہوتی اور مفت وسائل لازماً کم تر نہیں ہوتے۔ معیار، ضرورت، طریقۂ تدریس اور حاصل ہونے والی عملی پیش رفت ہی اصل معیار ہیں۔

خواہش آپ کے ارادے کو ظاہر کرتی ہے، لیکن مسلسل عمل اس ارادے کی سنجیدگی کو نمایاں کرتا ہے۔اب سوال یہ نہیں کہ آپ نے کتنا پڑھا، بلکہ یہ ہے کہ آپ کیا کرسکتے ہیں!

اگر آپ برسوں سے عربی پڑھ رہے ہیں تو ایک مرتبہ خود کو عملی طور پر جانچیے۔ کیا آپ کسی غیر مانوس عربی عبارت کو سمجھ سکتے ہیں؟ کیا آپ اپنے خیالات عربی میں بیان کرسکتے ہیں؟ کیا آپ اپنی بات درست عربی میں لکھ سکتے ہیں؟ کیا آپ عربی سن کر اس کا مفہوم سمجھ سکتے ہیں؟

اگر آپ قرآن مجید پڑھتے ہیں تو کیا آپ نے اپنی قراءت کسی مستند قاری کے سامنے پیش کرکے جانچوائی ہے؟ کیا آپ کو اپنی نمایاں غلطیوں کا علم ہے؟ کیا آپ نے ان کی اصلاح کے لیے باقاعدہ مشق کا اہتمام کیا ہے؟ اگر آپ استاد ہیں تو کیا آپ کے طلبہ صرف معلومات یاد کررہے ہیں یا مطلوبہ مہارت بھی حاصل کررہے ہیں؟ کیا آپ ان کی عملی کارکردگی کو جانچنے اور بہتر بنانے کا نظام رکھتے ہیں؟یہ سوالات کسی کو کم تر ثابت کرنے کے لیے نہیں، بلکہ ہر شخص کو اپنی ترقی کا اگلا قدم پہچاننے میں مدد دینے کے لیے ہیں۔ہوسکتا ہے آپ کی بنیاد مضبوط ہو اور آپ کو صرف گفتگو کی مشق درکار ہو۔ ممکن ہے آپ عربی پڑھ لیتے ہوں لیکن سننے کی صلاحیت پر کام کرنا چاہتے ہوں۔ ہوسکتا ہے آپ کا علمی ذخیرہ وسیع ہو، مگر اسے عملی استعمال میں لانے کے لیے منظم تربیت کی ضرورت ہو۔

اصل ترقی اسی وقت شروع ہوتی ہے جب انسان اپنی حقیقی سطح کو پہچان کر اسی کے مطابق آگے بڑھتا ہے۔آئیے، معلومات سے مہارت کی طرف سفر شروع کریں!

عربی زبان، قرآن مجید کی درست قراءت اور علمی و تدریسی صلاحیتوں کے حوالے سے اگر آپ اپنی موجودہ سطح کو جانچنا، اپنی کمزوریوں کی شناخت کرنا یا اپنی مطلوبہ مہارت کے لیے مناسب تربیتی راستہ تلاش کرنا چاہتے ہیں تو گفتگو کا آغاز کیجیے۔

شیخ سمیع اللہ عزیز، فاضل درس نظامی، پی ایچ ڈی عربی سے ابتدائی تعلیمی گفتگو کے لیے رابطہ کرسکتے ہیں۔واٹس ایپ: 03076652006

رابطہ کرتے وقت اپنا تعارف، تعلیمی پس منظر، مطلوبہ مہارت اور اپنی اصل مشکل مختصراً بیان کیجیے۔ مثال کے طور پر:

میں عربی عبارت سمجھ لیتا ہوں، لیکن عربی میں گفتگو نہیں کرپاتا۔

میں عربی قواعد جانتا ہوں، مگر تحریر اور عملی استعمال میں کمزوری محسوس کرتا ہوں۔

میں قرآن مجید پڑھتا ہوں اور اپنی قراءت کی مستند جانچ اور اصلاح چاہتا ہوں۔

میں درسِ نظامی کا طالب علم ہوں اور اپنے علمی ذخیرے کو عملی عربی مہارت میں تبدیل کرنا چاہتا ہوں۔

میں عربی کا استاد ہوں اور اپنی تدریسی صلاحیت بہتر بنانا چاہتا ہوں۔

ابتدائی گفتگو میں آپ کی ضرورت اور ہدف کو سمجھنے کی کوشش کی جائے گی، تاکہ مناسب رہنمائی اور ممکنہ تربیتی طریقے پر بات ہوسکے۔ باقاعدہ تربیت کی نوعیت اور دستیابی کا تعین باہمی گفتگو کے بعد کیا جائے گا۔ آخر میں ایک بات یاد رکھیے:

معلومات جمع کرنا آسان ہوگیا ہے، لیکن معلومات کو صلاحیت میں تبدیل کرنے کے لیے اب بھی سنجیدگی، مشق، اصلاح اور درست رہنمائی درکار ہے۔

اس لیے صرف یہ مت پوچھیے کہ مجھے مزید کیا جاننا چاہیے؛ یہ بھی پوچھیے کہ مجھے کیا کرنا آنا چاہیے، اور میں اس قابل کیسے بن سکتا ہوں؟

کیونکہ کامیابی کا اصل معیار یہ نہیں کہ آپ علم کے بارے میں کتنی گفتگو کرسکتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس علم کی مدد سے آپ اپنی عملی زندگی میں کیا بہتر کرسکتے ہیں!

اور جب اگلی بار کوئی آپ سے پوچھے کہ عربی کتنے سال سے پڑھ رہے ہیں، تو صرف برسوں کی تعداد بتانے کے ساتھ یہ بھی دیکھیے کہ ان برسوں نے آپ کی صلاحیت میں کتنا اضافہ کیا ہے۔ یہی سوال معلومات کے انبار اور حقیقی مہارت کے درمیان فرق واضح کردے گا۔

مأخَذ

رئیس قرآن فیملی کلب و مجمع اللغۃ العربیہ بباکستان 03076652006 www.quranfamilyclub.net https://learning.quranfamilyclub.net/ https://majmalap.quranfamilyclub.net/ https://web.facebook.com/majmalapk https://whatsapp.com/channel/0029VaILhy0A2pLJnuHBaC3f https://whatsapp.com/channel/0029VbCjL2mGJP88dvJbRC20

کالم نگار : مولاناسمیع اللہ عزیز
| | |
82