بعض طبائع کو لفظ "اکابر" سے ایک عجیب سی وحشت و نفرت ہوچلی ہے، حالانکہ یہ لفظ تو خود حدیث سے ثابت ہے، جب ہم کہتے ہیں کہ "اکابر کو تھامے رکھو اور ان کے دامن سے وابستہ رہو" ... تو یہ حضرات بلاوجہ مقابلہ کھڑا کر دیتے ہیں کہ اکابر کو تھامیں یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو؟ ارے! یہ تو ایسا ہی ہوا جیسے کوئی پوچھے کہ تم حنفی ہو یا محمدی؟ شافعی ہو یا سنی؟ لاہوری ہو یا پاکستانی؟ اللہ کے بندو! اکابر تو ہماری سند ہیں، ان کے علوم ہماری علمی تراث ہیں، ان کی زندگیاں ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں اور ان کی تحقیقات ہمارے لئے رہبر ہیں، یہ موضوع مختلف انداز اور پیرائے میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں، گذشتہ روز قطب الاقطاب برکة العصر شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ کے ملفوظات کا مطالعہ کر رہا تھا تو سامنے آیا کہ اکابر کے دامن سے وابستہ رہنے پر کتنا زور دیا گیا ہے۔
① آئیے ! حضرت والا ہی کے الفاظ میں پڑھتے ہیں، فرمایا :"کئی روز سے ایک بات کہنا چاہ رہا ہوں، لیکن بھول جاتا ہوں، اللہ تعالیٰ مجھے معاف کرے، بہت ہی معاف کرے، میں نے اپنے بڑوں کے ساتھ بہت ہی بے ادبی کا معاملہ کیا اور میرے بڑے میری بے ادبی کو ہمیشہ حسنِ ظن ہی سے دیکھتے رہے، حضرت (مولانا عبد الرحیم) رائے پوری، والد صاحب (حضرت مولانا محمد یحیی کاندھلوی) چچا جان (حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی) رحمہم اللہ، سب ہی بڑے عزت فرمایا کرتے تھے، حضرت مولانا عبد اللطیف صاحب (ناظم مدرسہ) جب بخاری پڑھاتے تھے تو ختمِ بخاری کے روز دارالحدیث میں بندہ بھی پہنچتا، میرے پہنچنے پر حضرت ناظم صاحب اپنی جگہ (مسند) سے ہٹ جاتے تھے، جس پر مجھے بڑی غیرت آیا کرتی تھی۔"
② یہ ہے بڑوں کے ادب کا وہ مقام، جہاں شیخ الحدیث ہو کر بھی اپنے آپ کو قصور وار سمجھا جارہا ہے، اب ذرا اسی ادب کا دوسرا رخ دیکھیے، جو اکابر کے باہمی اختلافات سے متعلق ہے، فرمایا :
"دوسری بات بہت زیادہ قابلِ تنبیہ یہ ہے کہ حضرات فقہاء اور محدثین کے اختلافات اپنی جگہ درست ہیں، لیکن ہمارے دل میں اس اختلاف کی وجہ سے ان میں سے کسی سے بدگمانی یا بے ادبی کا معاملہ ہرگز نہ ہونا چاہیئے کہ یہ بڑے سخت نقصان کی بات ہے، میں یہ مضمون اپنے حدیث کے اسباق میں بھی بہت اہتمام سے بیان کرتا تھا۔"
③ ادب جب دل میں اتر جائے تو پھر اختلاف بھی بدگمانی کا سبب نہیں بنتا اور جس دل میں ادب ہو، اس میں یہ تڑپ بھی پیدا ہوتی ہے کہ کاش ہمارے سامنے بھی ان جیسے کچھ نمونے ہوں، فرمایا :
"میرا جی یوں چاہے کہ اکابر کے حالات خوب نگاہ میں رہیں اور ان پر چلنے کی کوشش کریں کہ ان کی ہر چیز میں بہت ہی برکت ہے، میرے پیاروں ہم تو نمٹ لئے لیکن اب ہم یہ چاہتے ہیں کہ ایک دو نمونے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں جو کام کو سنبھال سکیں، اکابر کے نمونے بڑے عجیب ہیں، ان میں سے کسی ایک کو لو اور نمونہ بناؤ۔"
④ نمونہ کیوں چاہیئے؟ اس لئے کہ یہ نمونہ، منزل تک پہنچانے والا راستہ ہیں، اس راز کو حضرت نے اگلے ارشاد میں کھول دیا ہے، فرمایا :"میرے پیارو! اپنے بڑوں کی باتیں خوب یاد رکھو، حضور اکرم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی باتوں کو یاد رکھو، حضرت گنگوہی، حضرت رائے پوری، حضرت سہارنپوری، حضرت تھانوی نور اللہ مراقدہم، میں نے ان سب حضرات کا زمانہ خوب دیکھا ہے، میرے یہ اکابر نمونہ تھے حضور اکرم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے، لہٰذا تم ان کا اتباع کرو، ایک دو آدمی ایسے پیدا کرو جو نمونہ ہوں، بڑوں کا تو جی خوش ہوجائے، حضور اکرم ﷺ کی زندگی ہمارے لئے اسوہ ہے، میرے چچا جان نور اللہ مرقدہ نے انتقال سے ایک دن پہلے مجھے نصیحت فرمائی کہ اتباع سنت کی جتنا ہوسکے خود بھی کوشش کیجیو اور دوستوں کو بھی تاکید کیجیو۔"
⑤ دیکھیں ! یہاں اکابر اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان کوئی مقابلہ نہیں ہے بلکہ اکابر کو صحابہ کرام علیہم الرضوان اور سنتِ نبوی کا نمونہ قرار دیا جارہا ہے، یہی بات حضرت کے اگلے ارشادات میں مزید نکھر کر سامنے آتی ہے، فرمایا : "میرے اکابر نچوڑ ہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی روایات کا، ان کا اتباع کرو۔"
فرمایا : "اکابر کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرو، اس میں، میں نے بہت برکت دیکھی ہے، حضرت گنگوہی رحمہ اللہ کو میں نے خوب دیکھا، اس کے بعد اکابرِ اربعہ حضرت سہارنپوری، حضرت تھانوی، حضرت رائے پوری، حضرت شیخ الہند رحمہم اللہ کو خوب دیکھا، ارشاد فرمایا حضور اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب کرام رضی اللہ عنہم تو قدیم ہیں، ان حضرات کے احوال بھی اعلیٰ اور ارفع ہیں، ان کی بات ہی کچھ اور تھی، لیکن ہمارے یہ اکابر ان کا زمانہ تو دور کا نہیں، ان کے حالات غور سے دیکھو، پڑھو اور جہاں تک ہوسکے اتباع کی کوشش کرو، ان حضرات نے بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا نمونہ بن کر دکھایا اور حضور اکرم ﷺ کا اتباع ہمارے لئے آسان کردیا، کیونکہ نمونہ سامنے آنے سے عمل آسان ہو جاتا ہے، ان حضرات کا تقویٰ مضبوطی سے پکڑو۔"
⑥ اور یہ اتباع کسی ایک بڑے کارنامے تک محدود نہیں، یہ تو چھوٹی چھوٹی اداؤں تک پھیلا ہوا عشق ہے، فرمایا :"ہمارے بزرگوں کی ایک ایک ادا دانتوں سے پکڑنے کے قابل ہے، جب سے میں نے سنا ہے کہ حضرت گنگوہی رحمہ اللہ (رمضان کی) تیس تاریخ کو "الم تر کیف" سے تراویح پڑھتے تھے، اگر آج چاند نہ ہوا ہوتا تو میرا بھی ارادہ تھا کہ عبدالرحیم سے کہوں کہ "ألم تر کیف" سے تراویح پڑھا دے۔"
⑦ سب سے حسین منظر وہ ہے جو اکابر کی باہمی محبت کا ہے، مزاج الگ الگ، رنگ جدا جدا، مگر دل ایک، فرمایا :"میں نے اپنا اکابر کو خوب دیکھا، ان کی طبائع میں تضاد تھا، مگر سب ایک تھے، ہر ایک دوسرے کی چیزوں کو سراہتا تھا، حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے یہاں قوانین کا زور تھا، خانقاہ میں ایک بڑی تختی قواعد کی لٹکی رہتی تھی، حضرت رائے پوری رحمہ اللہ کے یہاں تواضع کا غلبہ تھا، (آگے فرمایا کہ) حضرت رائے پوری رحمہ اللہ اور حضرت مدنی رحمہ اللہ کے یہاں دلداری اور نرمی تھی۔"
یہ ہے وہ تربیت جو ہمیں بڑوں سے ملی ہے، دعوتی ماحول اور تبلیغی مزاج سے ملی ہے، یہی وہ فکر ہے جو انسان کو راہِ اعتدال پر رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جادۂ حق پر گامزن رکھے اور آس پاس کے فتنوں سے محفوظ رکھے۔ آمین!