(+92) 319 4080233
کالم نگار

ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب

پروفائل | تمام کالمز
2026/11/08
موضوعات
مہنگائی نے کردیا جینا حرام
مسئلہ،وجوہات اور تدارک کی تجاویز: ایک خبر کے مطابق ملک کے بیشتر شہروں میں ایل پی جی کی قیمت 600 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے اور گھریلو سلنڈر 7 ہزار روپے کا ہو گیا ہے۔ لاہور میں سرکاری نرخ 280 روپے ہے مگر دکاندار ساڑھے 500 روپے وصول کر رہا ہے۔ کراچی میں مرغی ساڑھے 700 روپے کلو ہے۔ کراچی اور لاہور میں آٹا 190 روپے کلو بک رہا ہے، اور کوئٹہ میں 20 کلو کا تھیلا 3 ہزار 330 روپے کا ہو گیا ہے۔ یہ صرف اعداد نہیں، ہر اس گھر کی کہانی ہے جہاں دن بھر کی مزدوری کے بعد بھی شام کو چولہا جلانا مسئلہ بن جاتا ہے۔

اس مسئلے کو ایک ہی وجہ سے سمجھنا انصاف نہیں ہوگا، اس کی کئی تہیں ہیں۔ ہم تیل، گیس اور کئی غذائی اجناس درآمد کرتے ہیں۔ ڈالر مہنگا ہو، عالمی منڈی میں قیمتیں چڑھیں یا خطے میں جنگ جیسے حالات سے سپلائی متاثر ہو تو اس کا اثر براہِ راست ہمارے بازار پر پڑتا ہے۔ ایل پی جی اس کی نمایاں مثال ہے، کیونکہ یہ بڑی حد تک درآمد پر چلتی ہے۔ پھر ڈیزل، بجلی اور ٹیکس بڑھیں تو ٹرانسپورٹ سے لے کر کولڈ اسٹوریج تک ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے، اور مرغی و دودھ جیسی اشیا پر اس کا اثر خاص طور پر پڑتا ہے۔

مگر ہر اضافے کو عالمی حالات کے کھاتے میں ڈال دینا بھی درست نہیں۔ ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری وہ پہلو ہے جس میں انسانی ہاتھ براہِ راست ملوث ہے۔ جب سرکاری نرخ اور بازاری نرخ میں دگنے کا فرق ہو تو یہ لاگت کا نہیں، من مانی کا معاملہ ہے۔ رپورٹس کے مطابق اوگرا نے جون کے لیے ایل پی جی کی قیمت 309 روپے فی کلو مقرر کی مگر عوام اسے 600 روپے سے بھی زائد پر خریدتے رہے۔ رسد میں تعطل کی افواہ پھیلتے ہی خریداری کی دوڑ لگ جاتی ہے، ذخیرہ بڑھ جاتا ہے اور قیمتیں مصنوعی طور پر اوپر چلی جاتی ہیں۔ اس پر کمزور نگرانی کا اضافہ کیجیے: قیمتیں مقرر کرنا آسان ہے، ان پر عمل کرانا مشکل۔ جب خلاف ورزی پر سزا کا خوف نہ ہو تو نرخنامہ محض ایک کاغذ بن جاتا ہے۔ brandsynario انصاف کا تقاضا ہے کہ پورے تاجر طبقے کو ایک ہی لاٹھی سے نہ ہانکا جائے۔ بہت سے چھوٹے دکاندار خود مہنگے داموں مال خریدتے ہیں، بلوں، کرائے اور بھتے کے بوجھ تلے دبے ہیں اور سرکاری نرخ پر بیچیں تو نقصان اٹھاتے ہیں۔ جب ہول سیل سطح پر مال سرکاری نرخ پر ملتا ہی نہ ہو تو آخری سرے پر بیٹھے دکاندار سے سرکاری ریٹ کا مطالبہ ادھورا انصاف ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ایک طبقہ بحران کو موقع سمجھتا ہے اور بغیر کسی حقیقی اضافے کے قیمت بڑھا دیتا ہے۔ شریعت نے ایسے رویے کو صاف الفاظ میں ناپسند کیا ہے۔ حدیثِ نبویﷺ کا مفہوم ہے کہ ذخیرہ اندوزی کرنے والا خطاکار ہے، اور قرآنِ مجید میں ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے سخت وعید آئی ہے۔ اسلام آزاد تجارت کی اجازت دیتا ہے، ظلم اور استحصال کی نہیں۔

حکومت کی ذمہ داری بھی کئی سطحوں پر بنتی ہے۔ قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا سب سے مؤثر طریقہ بازار میں مال کی وافر دستیابی ہے۔ ضروری اشیا کے ذخائر، درآمد کا بروقت فیصلہ اور فصل کی منصوبہ بندی انتظامی ذمہ داری ہے، تاجروں کی نہیں۔ پرائس کنٹرول لسٹ کا مقصد درست ہے، مگر اس کی عملی صورت اکثر کمزور رہتی ہے۔ فقہاء کے ہاں نرخ مقرر کرنے پر اختلاف رہا ہے۔ جمہور اسے عام حالات میں پسند نہیں کرتے، مگر جب منڈی میں ظلم، اجارہ داری یا ذخیرہ اندوزی ہو تو حکومت کو مداخلت کا حق دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ لسٹ جاری ہو جاتی ہے، مگر اس کے بعد نہ مجسٹریٹ نظر آتا ہے نہ جرمانہ۔ کبھی ایک دو دکانوں پر چھاپہ مار کر خبر بنا لی جاتی ہے اور پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ اور جب ریاست خود بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ بڑھائے تو بازار سے یہ توقع رکھنا کہ وہ قیمتیں نہ بڑھائے، حقیقت پسندی نہیں۔

حکومت کے لیے یہ ماننا بھی ضروری ہے کہ کچھ اقدامات سے ریلیف ملا ہے۔ مثلاً ایل پی جی کی سرکاری قیمت میں جولائی کے آغاز پر 67 روپے سے زائد فی کلو کمی کا نوٹیفکیشن جاری ہوا۔ لیکن سرکاری کمی کا فائدہ تبھی ہے جب وہ بازار تک پہنچے۔ بعد میں اگست کے لیے سرکاری قیمت 241 سے بڑھا کر 254 روپے فی کلو کر دی گئی۔ اگر بازار میں پھر بھی اس سے دگنی قیمت پر مال بک رہا ہو تو مسئلہ نوٹیفکیشن کا نہیں، عمل درآمد کا ہے۔ تازہ ترین صورت حال:
اب تازہ ترین صورت حال دیکھیں تو معاملہ سنبھلنے کے بجائے مزید الجھا ہے۔ ادارۂ شماریات کے مطابق ستمبر 2026 میں مہنگائی کی سالانہ شرح 10.3 فیصد رہی۔ یہ اگست کی 11.1 فیصد سے کچھ کم ضرور ہے، مگر گزشتہ سال اسی مہینے کی 5.8 فیصد سے تقریباً دگنی ہے، اور ماہانہ بنیاد پر ستمبر میں قیمتیں مزید 1.3 فیصد بڑھیں۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں اوسط مہنگائی 10.2 فیصد رہی، جبکہ پچھلے سال اسی عرصے میں یہ 4.3 فیصد تھی۔ رپورٹوں کے مطابق ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں 27 فیصد سے زائد اضافہ ہوا اور تھوک سطح پر مہنگائی 13.3 فیصد تک جا پہنچی۔ تھوک کی یہ شرح اس بات کی یاد دہانی ہے کہ دباؤ بازار کے آخری سرے پر نہیں، اس سے پہلے کی کڑیوں میں بن رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے 14 ستمبر کو پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھا، جبکہ اس کا ہدف 5 سے 7 فیصد ہے، اور اگلا اجلاس 26 اکتوبر کو طے ہے۔

ایندھن کی قیمتیں بھی اسی رخ پر ہیں۔ اگست کے وسط میں پیٹرول تقریباً 326 روپے فی لیٹر تھا، جبکہ 16 اکتوبر سے اس کی قیمت 390.23 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی 396.96 روپے فی لیٹر ہے، یعنی دو ماہ میں پیٹرول کی قیمت تقریباً بیس فیصد بڑھ چکی ہے۔ ایل پی جی کی کہانی اس سے بھی تلخ ہے۔ اوگرا نے ستمبر کے لیے قیمت 258.65 روپے فی کلو رکھی تھی اور اکتوبر کے لیے اسے 20.69 روپے بڑھا کر 279.34 روپے فی کلو کر دیا، یعنی 11.8 کلو کا گھریلو سلنڈر 3,296 روپے کا۔ مگر 19 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ایل پی جی 500 روپے فی کلو اور سلنڈر 6 ہزار روپے میں بک رہا ہے، جبکہ پہاڑی علاقوں میں 600 روپے فی کلو اور سلنڈر 7,200 روپے تک جا پہنچا ہے۔ یعنی سرکاری نرخ اپنی جگہ اور بازار کا نرخ اس سے تقریباً دگنا۔ اسی بیان میں ڈسٹری بیوٹرز کے سربراہ نے فوری درآمد کا مطالبہ بھی کیا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ رسد کی کمی کا مسئلہ بھی حقیقی ہے، صرف منافع خوری کا نہیں۔

اس تازہ صورتحال سے اس کالم کی بنیادی دلیل کمزور نہیں، مزید مضبوط ہوتی ہے۔ جولائی کی سرکاری کمی کے بعد اگست، ستمبر اور اکتوبر میں مسلسل اضافے کا مطلب یہ ہے کہ ریلیف عارضی ثابت ہوا، اور جب تک رسد اور نگرانی کا نظام درست نہ ہو، نوٹیفکیشن کا رد و بدل عام آدمی کے چولہے تک نہیں پہنچتا۔ سردیاں قریب ہیں اور گیس کی طلب بڑھے گی، اس لیے ایل پی جی کی بروقت درآمد اور تھوک سطح پر نگرانی کی جو تجاویز آگے آ رہی ہیں، ان میں اب تاخیر کی گنجائش نہیں رہی۔

اس سارے کھیل میں سب سے زیادہ پسنے والا وہ طبقہ ہے جس کی آمدنی مقرر ہے اور اخراجات بے قابو: دہاڑی دار مزدور، کم تنخواہ دار ملازم، بیوہ اور پنشنر۔ ان کے لیے مہنگائی ایک خاموش ٹیکس ہے۔ لوگ گوشت اور دالوں میں کمی کر رہے ہیں، سلنڈر کی جگہ لکڑی اور اپلے کی طرف لوٹ رہے ہیں، علاج مؤخر کر رہے ہیں اور بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔ جب پیٹ کا مسئلہ بڑھتا ہے تو سماجی بگاڑ بھی بڑھتا ہے، اور قرض، چوری اور مایوسی کی خبریں اسی کا نتیجہ ہیں۔

حل کیا ہے؟
1.میری پہلی گزارش یہ ہے کہ ضروری اشیا کی نگرانی ہول سیل سطح پر ہو۔ گرفت آخری دکاندار سے پہلے درآمد کنندہ، ڈسٹری بیوٹر اور بڑے ذخیرہ داروں پر ہونی چاہیے، کیونکہ قیمت وہیں سے طے ہوتی ہے۔

2.دوسری یہ کہ نرخنامے کی جگہ نگرانی کا مؤثر نظام بنایا جائے۔ ہر ضلع میں پرائس مجسٹریٹس فعال ہوں، ایک مفت شکایتی نمبر ہو اور شکایت پر چند دنوں میں کارروائی ہو۔ بار بار خلاف ورزی کرنے والوں کے نام اور جرمانے عوام کے سامنے لائے جائیں۔

3.تیسری یہ کہ ذخیرہ اندوزی کے خلاف عملی کارروائی ہو، گودام اور سٹوریج کا ریکارڈ رکھا جائے، بحران کے دنوں میں غیر معمولی ذخیرے کی جانچ ہو اور مجرم کو واقعی سزا ملے۔

4.چوتھی تجویز رسد میں تنوع کی ہے۔ ایل پی جی میں ایک ہی راستے پر انحصار کم کیا جائے اور متبادل ذرائع، ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اور مقامی گیس کے مؤثر استعمال پر کام ہو۔ زرعی اجناس کے لیے فصل کی پیشگی منصوبہ بندی اور اسمگلنگ پر کنٹرول لازم ہے۔

5. پانچویں یہ کہ سبسڈی سب کو دینے کی بجائے ڈیٹا کی بنیاد پر مستحق گھرانوں تک براہِ راست پہنچائی جائے تاکہ ریلیف ضائع نہ ہو۔

6. چھٹی یہ کہ ٹرانسپورٹ اور توانائی کے اخراجات اور ٹیکس کا بوجھ کم کیا جائے، تاکہ پیداواری لاگت گھٹے اور اس کا فائدہ تاجر کے ساتھ صارف کو بھی ملے۔

7. ساتویں یہ کہ یوٹیلیٹی اسٹورز اور رمضان بازار جیسے نظام سال بھر بحال رکھے جائیں، کیونکہ معیاری اور مناسب نرخ پر بنیادی اشیا فراہم کرنے والے مراکز بازار کے لیے ایک معیار بن سکتے ہیں۔

8.آٹھویں اور اہم تجویز تاجر برادری سے ہے۔ تاجر تنظیمیں اپنے اندر ایسا ضابطہ بنائیں کہ جو رکن ناجائز منافع خوری کرے، اس کا سماجی احتساب ہو۔

علماء اور خطباء بھی اس موضوع کو منبر سے بار بار اٹھائیں، کیونکہ صرف قانون نہیں، ضمیر بھی ایک نگران ہے۔ اور آخری بات عوام سے: افواہ پر گھبرا کر ضرورت سے زیادہ خریداری نہ کریں، کیونکہ اسی سے مصنوعی قلت پیدا ہوتی ہے۔ رسید لیں، شکایت درج کروائیں، اور ممکن ہو تو محلے کی سطح پر مل کر خریداری کریں۔

مہنگائی ایک ایسا زخم ہے جس کا علاج کسی ایک دوا سے نہیں ہوتا۔ حکومت اپنی پالیسی درست کرے، تاجر اپنے ضمیر کو جگائے اور عوام اپنے رویوں میں اعتدال لائیں۔ جب تک ہر فریق دوسرے کو الزام دے کر اپنی ذمہ داری سے آنکھ چراتا رہے گا، قیمتوں کی یہ دوڑ جاری رہے گی۔ رسولِ اکرمﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ حاکم سے ریاست کا سوال ہوگا، تاجر سے ترازو کا، اور ہم سب سے اس کا کہ ہم نے اپنے پڑوس کے خالی چولہے کو کتنا محسوس کیا۔

کالم نگار : ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب
| | |
75