(+92) 319 4080233
کالم نگار

مفتی سفیان بلند

مفتی سفیان بلند

پروفائل | تمام کالمز
2026/11/08
موضوعات
خاص بچے :ان کی عزت اور ہماری ذمہ داری
جس معاشرے کا پیمانہ صرف مادیت کا التزام، ذہانت کی ترجیح اور صرف باصلاحیت افراد کا انتخاب ہوجائے، وہ معاشرہ اپنی قدر کھو دیتا ہے، معاشرہ میں ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں اور ہر ایک پر توجہ دینا معاشرہ کے افراد کی ذمہ داری ہوتی ہے، ہر معاشرہ میں کچھ کمزور لوگ بھی ہوتے ہیں، معذور افراد بھی پائے جاتے ہیں، ایک ہزار میں کوئی ایک بچہ "خاص" بھی ہوتا ہے جو معاشرہ کے افراد کی ذمہ داری ہوتا ہے، دین اسلام نے ہمیں ان کے ساتھ بھی خیر خواہی کا پہلو سمجھایا ہے، ہر وقت مادیت پرستی اور ذہین بچوں کا انتخاب کرنا فطرت کے تقاضوں کو پس پشت ڈالنے کے مترادف ہے.

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ (الإسراء: 70) اور ہم نے اولادِ آدم کو عزت بخشی ہے۔

یہ تکریم صرف عقل، جسم یا صلاحیت کے ساتھ مشروط نہیں ہے، بلکہ بنیادی وجہ "بنی آدم" ہونا ہے، "انسانیت" بہت بڑا شرف ہے، اس لئے ہر بچہ، چاہے وہ بول سکتا ہو یا نہیں، دیکھ سکتا ہو یا نہیں، سن سکتا ہو یا نہیں، چل سکتا ہو یا نہیں، سمجھنے میں تیز ہو یا سست، اللہ کی عطا کردہ عزت کا مکمل حق دار ہے، ایک روایت میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی مذکور ہے :هَلْ تُنْصَرُونَ وَتُرْزَقُونَ إِلَّا بِضُعَفَائِكُمْ (بخاری : 2896

تمہاری مدد اور رزق تمہارے کمزور لوگوں ہی کی بدولت ہے، سو ایسے ادارے جو ان "خاص بچوں" کی خدمت کرتے ہیں، وہ معاشرے کی طرف سے "فرض کفایہ" ادا کررہے ہیں، نیز ان کی خدمات، معاشرے کے لئے رحمت اور برکت کا دروازہ کھولتی ہیں۔

نفسیات سمجھیں !
ہر بچہ اپنی الگ دنیا لے کر آتا ہے، کوئی الفاظ میں اپنی بات نہیں کہہ پاتا تو اشاروں میں کہتا ہے، کسی کو سیکھنے کے لئے زیادہ وقت چاہیئے، اور کسی کا غصہ دراصل اس کی بے بسی کی زبان ہوتا ہے، اس لئے ہمیں ان کے رویے پر فیصلہ سنانے کے بجائے ان کے دل تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیئے، ان کی نفسیات سمجھ کر ان کی تربیت کرنی ہے، جب خالق کائنات نے ہر انسان کو اس کی استطاعت کے بقدر مکلف فرمایا ہے تو ہم ان قسم کے "خاص بچوں" سے ان کی استعداد سے بڑھ کر توقع کیوں رکھتے ہیں؟ ہمیں ان کا موازنہ کرنے کی بجائے ان کو معاشرتی دھارے میں شامل کرنا چاہیئے، ان کی چھوٹی چھوٹی کامیابی اور معمولی معمولی کاوش پر خوش ہونا ہے، اور ماہرین نفسیات کی رہنمائی سے ان کی ضرورت کو سمجھنا ہے۔

سیرت نبوی میں یہ ملتا ہے کہ حضرت سیدنا عبد اللہ ابن اُمِّ مکتوم رضی اللہ عنہ "نابینا" صحابی تھے مگر رسول اللہ ﷺ نے ان کو اعزاز دیا، مؤذن بھی بنایا اور بعض غزوات کے موقع پر مدینہ منورہ میں اپنا نائب بھی مقرر فرمایا، آپ ﷺ نے ان کو نظر انداز نہیں فرمایا (نیز معذورین کی خدمت کے الگ سے فضائل بھی وارد ہوئے ہیں) سو یہ سیرت کا سبق ہے کہ ایسے افراد کو بھی تربیت کے بعد ذمہ داری اور اعتماد کا مقام دیا جاسکتا ہے۔ آئیں ! آج عہد کریں کہ ہم ان بچوں کو ترس کی نظر سے نہیں بلکہ عزت کی نظر سے دیکھیں گے، ان کے والدین کو طعنہ نہیں بلکہ سہارا دیں گے اور ان کی کمی کو نہیں بلکہ ان کی چھپی ہوئی صلاحیت کو تلاش کریں گے، کیونکہ جو معاشرہ اپنے سب سے "کمزور طبقہ" کو سنبھال لیتا ہے، وہی اللہ کی نظر میں سب سے مضبوط معاشرہ بن جاتا ہے۔

کالم نگار : مفتی سفیان بلند
| | |
66     1