(+92) 319 4080233
کالم نگار

اعزاز احمد ،سفیر حشرات

اعزاز احمد ،سفیر حشرات

پروفائل | تمام کالمز
2026/11/08
موضوعات
خوفناک جاندار یا ایک پرانی غلط فہمی؟
کان میں انڈے دینے اور دماغ کھانے والا خوفناک جاندار یا ایک پرانی غلط فہمی؟
بچپن میں ہمیں بہت سے جانداروں سے ڈرایا جاتا تھا، لیکن کنکھجورے کے بارے میں جو خوفناک کہانیاں سنائی جاتی تھیں، وہ شاید کسی زہریلے سانپ کے بارے میں بھی نہیں سنائی جاتیں۔ ہمارے ہاں عام تصور پایا جاتا ہے کہ کنکھجورا رات کو سوتے ہوئے انسان کے کان میں داخل ہو جاتا ہے، وہاں انڈے دیتا ہے، اس کے بچے کان کے اندر پیدا ہوتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ دماغ تک پہنچ جاتے ہیں۔ بعض لوگ تو یہاں تک سمجھتے ہیں کہ یہ دماغ کو کھانا شروع کر دیتا ہے اور انسان پاگل ہو جاتا ہے یا مر جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کہانیوں کو اس قدر یقین کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے جیسے کنکھجورے نے خود کسی کو اپنا مکمل منصوبہ بتا رکھا ہو۔

سب سے پہلے کنکھجورے کا مختصر تعارف ضروری ہے۔ کنکھجورا ایک ایسا جاندار ہے جسے انگریزی میں سینٹی پیڈ کہا جاتا ہے۔ اس کا تعلق Chilopoda سے ہے۔ یہ حشرات میں شامل نہیں۔ اس کا جسم متعدد سیکشنز پر مشتمل ہوتا ہے اور عموماً ہر سیکشن پر ایک جوڑا ٹانگیں موجود ہوتی ہیں۔ اس کی مختلف اقسام دنیا بھر میں پائی جاتی ہیں۔ بعض چند سینٹی میٹر لمبے ہوتے ہیں جبکہ کچھ بڑی اقسام کی لمبائی بیس سینٹی میٹر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ کنکھجورا عموماً نم، تاریک اور محفوظ مقامات پر رہنا پسند کرتا ہے۔ پتھروں، لکڑیوں، گرے ہوئے پتوں، مٹی کی دراڑوں اور گھروں کی نم جگہوں میں اس کی موجودگی عام ہے۔ یہ بنیادی طور پر شکاری جاندار ہے جو دوسرے چھوٹے جانوروں کا شکار کرتا ہے۔ اس کے سر کے قریب موجود پیر، جنہیں زہریلے پنجے کہا جا سکتا ہے، شکار میں زہر داخل کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ بعض بڑی اقسام کے کاٹنے سے انسان کو شدید درد، سوجن اور دوسری علامات پیدا ہو سکتی ہیں، تاہم زیادہ تر واقعات جان لیوا نہیں ہوتے۔

اب آتے ہیں اس خوفناک کہانی کی طرف جس نے کنکھجورے کو انسانی دماغ کا دشمن بنا رکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کنکھجورا انسانی کان کو اپنی رہائش یا افزائشِ نسل کے لیے منتخب نہیں کرتا۔ اس کی زندگی کا قدرتی نظام انسانی کان سے وابستہ نہیں۔ کنکھجورے اپنی نوع کے مطابق مٹی یا محفوظ اور نم مقامات پر انڈے دیتے ہیں۔ بعض اقسام کی مادائیں انڈوں کے گرد اپنے جسم کو لپیٹ کر ان کی حفاظت بھی کرتی ہیں اور انہیں صاف رکھتی ہیں تاکہ پھپھوندی اور دوسرے خطرات سے محفوظ رہیں۔ یہ مادری نگہداشت کنکھجوروں کی حیاتیات کا ایک نہایت دلچسپ پہلو ہے۔

انسانی کان میں کنکھجورے کے انڈے دینے، ان انڈوں سے بچے نکلنے اور پھر بچوں کے دماغ میں پہنچ جانے کے دعوے کی تائید میں کوئی معتبر سائنسی ثبوت موجود نہیں۔ البتہ یہاں ایک بات واضح کرنا ضروری ہے کہ کسی چھوٹے کنکھجورے کا اتفاقاً انسانی کان کی بیرونی نالی میں داخل ہونا ناممکن نہیں۔ مختلف چھوٹے جاندار کبھی کبھار حادثاتی طور پر کان میں داخل ہو جاتے ہیں۔ لیکن اتفاقاً کان میں داخل ہونے اور اسے مستقل رہائش گاہ یا افزائشِ نسل کا مرکز بنانے میں بہت بڑا فرق ہے۔

انسانی کان کی ساخت بھی اس افسانے کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ کان کی بیرونی نالی کے آخر میں ایک باریک جھلی موجود ہوتی ہے جسے کان کا پردہ کہتے ہیں۔ یہ بیرونی کان کو درمیانی کان سے الگ کرتی ہے۔ اس کے بعد درمیانی کان، اندرونی کان اور کھوپڑی کی مختلف ہڈیوں اور بافتوں کی پیچیدہ ساختیں موجود ہوتی ہیں۔ یعنی کان کی نالی کوئی کھلی سرنگ نہیں جو سیدھی دماغ تک جاتی ہو۔ کنکھجورے میں ایسی مخصوص جسمانی صلاحیت موجود نہیں کہ وہ معمول کے حالات میں کان سے گزرتے ہوئے کھوپڑی کی ہڈیاں کھود کر دماغ تک پہنچ جائے۔

یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ کان کا پردہ اور اردگرد کی ساختیں ناقابلِ نقصان نہیں ہیں۔ کان میں داخل ہونے والا کوئی بھی جاندار درد، خراش یا بعض حالات میں چوٹ کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لیے کان میں کسی جاندار کی موجودگی کو معمولی سمجھ کر نظرانداز بھی نہیں کرنا چاہیے۔ تاہم اس امکان کو بنیاد بنا کر یہ دعویٰ کرنا کہ کنکھجورا انسانی دماغ کھانے کے لیے کان میں داخل ہوتا ہے، بالکل غیر سائنسی بات ہے۔

ایک اور دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ کنکھجورا انسانی جسم کا طفیلی جاندار یعنی پیراسائٹ نہیں۔ اسے اپنی زندگی مکمل کرنے کے لیے انسانی خون، کان یا دماغ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کی خوراک میں مختلف چھوٹے حشرات، مکڑیاں اور دوسرے چھوٹے جاندار شامل ہو سکتے ہیں۔ بڑی اقسام بعض چھوٹے جانوروں کا شکار بھی کر سکتی ہیں۔ انسان اس کی قدرتی خوراک میں شامل نہیں۔

یاد رہے کہ کوئی بھی کیڑا کان کو سوراخ سمجھ کر گھس سکتا ہے جس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ دماغ کھانے گھسا ہے یا یہ ہر بار کان میں گھسے گا. اگر کبھی کسی شخص کے کان میں کنکھجورا یا کوئی دوسرا جاندار داخل ہو جائے تو گھبراہٹ میں کان کے اندر ماچس کی تیلی، چمٹی، روئی والی اسٹک یا کوئی نوکیلی چیز داخل نہیں کرنی چاہیے۔ اس طرح کی کوشش سے جاندار مزید اندر جا سکتا ہے، کان زخمی ہو سکتا ہے یا کان کے پردے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں جلد از جلد طبی معائنہ کروانا بہتر ہے۔ خصوصاً شدید درد، خون، چکر آنے یا سماعت متاثر ہونے کی صورت میں فوری طبی مدد ضروری ہے۔

ہمارے معاشرے میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کسی ایک شخص کے ساتھ پیش آنے والے غیر معمولی واقعے کو نسل در نسل بیان کرتے ہوئے اس میں نئی نئی تفصیلات شامل کر دی جاتی ہیں۔ کسی کے کان میں کوئی کیڑا داخل ہوا ہوگا، دوسرے نے سنا ہوگا کہ وہ کنکھجورا تھا، تیسرے نے اس میں انڈے دینے کا اضافہ کیا ہوگا اور چوتھے تک پہنچتے پہنچتے کنکھجورا دماغ کھانے والا خوفناک قاتل بن گیا ہوگا۔ یہ محض ایک مزاحیہ مثال ہے، لیکن اس سے سمجھا جا سکتا ہے کہ غیر مصدقہ کہانیاں کس طرح معاشرتی عقائد کا حصہ بن جاتی ہیں۔

سائنس ہمیں یہ نہیں سکھاتی کہ ہر پرانی بات لازماً غلط ہے، بلکہ یہ سکھاتی ہے کہ کسی بھی دعوے کو قبول کرنے سے پہلے اس کے شواہد دیکھے جائیں۔ کنکھجورا واقعی زہریلا شکاری جاندار ہے، اس کے کاٹنے سے تکلیف ہو سکتی ہے اور اسے احتیاط سے سنبھالنا چاہیے۔ لیکن انسانی کان میں باقاعدہ انڈے دینے، وہاں بچے پالنے اور دماغ تک پہنچ کر اسے کھانے کی کہانیاں سائنسی طور پر ثابت نہیں ہیں۔

جس کنکھجورے کو ہم انسانی دماغ کا دشمن سمجھتے ہیں، وہ قدرتی ماحول میں دوسرے چھوٹے جانداروں کی آبادی کو محدود کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ قدرت نے اسے شکار کرنے کی صلاحیت ضرور دی ہے، لیکن انسان کے کان میں زچگی وارڈ کھولنے کی ذمہ داری نہیں سونپی۔

کالم نگار : اعزاز احمد ،سفیر حشرات
| | |
102