(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا محمد طفیل کوہاٹی

مولانا محمد طفیل کوہاٹی

پروفائل | تمام کالمز
2026/11/08
موضوعات
صحابہ کرام ؓ اور ہمارے عقائد
ایک طالب علم نے سوال کیا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حوالے آج کل بڑے مباحث چل رہے ہیں اس کے بارے میں ہمیں کیا ہدایت ہے۔

عرض کیا : عزیزم چند باتیں غور سے سن لیں :
(1)آج کل جو لوگ ان مباحث میں کودے ہوئے ہیں ، ان کے قریب بھی نہ پھٹکیں ، ادب کی قلت ہے ، ایسے لوگوں کی تحریریں پڑھنے سے دل سخت ہو جاتا ہے اور بسا اوقات یہ سختی مقدس شخصیات تک متعدی ہو جاتی ہے جو حرمان کا باعث بنتی۔ہے۔مشاجرات کا باب خون کا دریا ہے ہمیں حضرت مفتی رفیع عثمانی رحمہ اللہ نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ اس میں نہ پڑیں ورنہ مشکل ہے کہ دامن بچا کر نکل سکیں۔

(2)جہاں اشد ضرورت ہو صرف دفاع صحابہ و اہل بیت تک محدود رہیں ، اصحاب عثمان رضی اللہ عنہ اصحاب علی رضی اللہ عنہ اور اصحاب معاویہ رضی اللہ عنہ میں جو غیر صحابہ ہیں ان کی صفائی کے پیچھے نہ پڑیں ورنہ اعتدال پر قائم نہیں رہ سکیں گے۔ باقی جو حضرات ان کی صفائی کو بھی ضروری سمجھتے ہیں ان کے اعتدال پر قائم رہنے کی دعا کریں ۔

(3)ایک بار میں نے استاد گرامی شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہم العالی کو اس حوالے سے خط لکھا تو آپ نے ایک آیت لکھ کر میری رہنمائی فرمائی کہ "تلک امۃ قد خلت لھا ما کسبت و لکم ما کسبتم ۔۔الخ

(4) اہل سنت کا عقیدہ کتب متقدمین میں متعین ہے اس پر قائم رہیں ، اس اجمال کو کافی سمجھیں اور اس حوالے سے تفصیلی جزئیات اور پیچیدگیوں کے قطعا درپے نہ ہوں اس کی بجائے معاشرہ کو درپیش دینی ضروریات پر توجہ رکھیں اور اپنے آپ کو ایسے کاموں میں کھپائیں جن کا اخروی فائدہ ہو۔

(5) تعبیر کی غلطی سے بڑے بڑے لوگ محفوظ نہیں رہے متقدمین میں بھی بہت سے لوگ مل جائیں گے جن سے تعبیر میں چوک ہو گئی لیکن عقائد ان کے محفوظ تھے ، تعبیر کی غلطی عموما نادانستہ ہوتی ہے یا الفاظ کا دامن تنگ ہونے کے باعث متکلم کی مراد واضح نہیں ہو پاتی اس لیے کسی شخصیت کے الفاظ چاہے قولا ہوں چاہے تحریرا ۔۔ اس کی مجموعی زندگی کے تناظر میں دیکھنے چاہئیں ، میرا ذاتی مزاج نہ تو ایسے حضرات سے بدظن ہونے کا ہے اور نہ ہی ان کی عبارات کی بے جا تاویلات کرنے کا ۔ کلام صرف خدا کا ہر باطل سے محفوظ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا متواتر و مشہور محفوظ و معصوم ہے باقی ہر انسان سے چوک ہونا ممکن ہے ۔

اس لیے ہر کسی بزرگ کی تعبیر گراں گزر رہی ہو تو اس کے لیے مغفرت کی دعا کر دیا کریں۔ اور بس واللہ اعلم بالصواب !

کالم نگار : مولانا محمد طفیل کوہاٹی
| | |
85     1