جو ریاست دو دن میں ملزم ڈھونڈ کر مار سکتی ہے، وہ ان مقدموں میں برسوں سے خاموش کیوں؟
وسیم عباس انیس اکتوبر کو مارا گیا۔ اکیس اکتوبر کی صبح توقیر نذیر بھی مارا جا چکا تھا۔ دو دن۔ اس سے ایک دن پہلے نعمان پولیس کی حراست میں مارا جا چکا تھا۔ ریاست جب چاہے تو اتنی تیز ہے۔
اب اسی ریاست کے چند اور مقدمے دیکھیں:
کراچی کے کارساز حادثے میں اگست 2024 میں ایک باپ اور بیٹی کی جان گئی۔ ملزمہ نتاشا دانش کو لواحقین نے اللہ کے نام پر معاف کر دیا اور عدالت نے صلح منظور کر لی۔ چار ستمبر 2026 کو وہ منشیات کے مقدمے سے بھی بری ہو گئی۔ دو سال لگے، اور آخر میں کوئی سزا نہیں۔
اسلام آباد میں پی ٹی وی چوک کے قریب ایک اسکوٹر پر سوار دو لڑکیاں ایک کالی گاڑی کی ٹکر سے ماری گئیں۔ گاڑی موقع سے نکل گئی اور نمبر پلیٹ سے پکڑی گئی۔ گاڑی اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمد آصف کے بیٹے ابوذر کی تھی۔ دفعہ تین سو بائیس کے تحت مقدمہ درج ہوا، چار روزہ ریمانڈ ملا، اور پھر دونوں خاندانوں نے معاف کر دیا۔ پچاس ہزار روپے کے مچلکے پر رہائی ہو گئی۔ سماعت کے دوران میڈیا کو کمرہ عدالت میں آنے کی اجازت نہیں تھی۔
تین جولائی 2026 کو لاہور میں دو غیر ملکی خواتین کے اغوا اور زیادتی کے مقدمے میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے نواسے رضا ڈار کا نام آیا۔ گرفتاری ہوئی، ڈی این اے نمونے بھیجے گئے، رانا ثنا اللہ نے بیان دیا کہ اس کا اسحاق ڈار سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کے بعد تین مہینے گزر گئے اور اس مقدمے کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ اسی طرح 2022 میں سوان پل کے قریب ایک جج کی بیٹی کی گاڑی سے دو افراد کچلے گئے، اور وہ تفتیش آج تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچی۔
اب سوال یہ ہے۔ ایچ آر سی پی کے مطابق سی سی ڈی نے آٹھ مہینوں میں 670 مقابلوں میں 924 لوگ مارے۔ یہ وہی ادارہ ہے جو توقیر تک دو دن میں پہنچ گیا۔ مگر کارساز، پی ٹی وی چوک، لاہور اور سوان پل، ان میں سے کسی مقدمے میں سی سی ڈی کبھی نہیں پہنچی۔
اور نہ ہی عدالت سے کوئی نتیجہ آیا۔ ایک مقدمہ صلح پر ختم، دوسرا معافی پر ختم، تیسرا خاموشی پر، اور چوتھا چار سال سے فائل میں۔ نہ کسی کو سزا ہوئی، نہ کوئی مقابلہ ہوا۔
اصل بات:
ریاست کی رفتار ہی سب بتا دیتی ہے۔ جس ملزم کے پیچھے کوئی نہیں، اس تک ریاست دو دن میں پہنچ جاتی ہے۔ جس کے پیچھے کوئی ہے، اس کا مقدمہ برسوں چلتا ہے اور پھر خاموشی سے ختم ہو جاتا ہے۔سی سی ڈی نے آٹھ مہینوں میں نو سو سے زیادہ لوگ مارے۔ ان میں ایک بھی ایسا نہیں تھا جس کا نانا نائب وزیراعظم ہو، یا جس کا باپ ہائی کورٹ کا جج ہو۔یہ قانون کی ناکامی نہیں۔ یہ قانون کا طریقہ ہے۔ غریب کے لیے گولی، امیر کے لیے صلح، اور بیچ والے کے لیے انتظار۔
حوالہ: ڈان، ایکسپریس ٹریبیون، اے آر وائی نیوز، ڈیلی پاکستان، آج نیوز، ایچ آر سی پی رپورٹ