ملتان میں پندرہ سالہ یتیم بچے وسیم عباس کی موت اور اس کے بعد مرکزی ملزم توقیر نذیر کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت نے پورے معاشرے کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ ایسے مواقع پر جذبات کا غلبہ فطری ہے، مگر شریعت اور قانون ہم سے تقاضا کرتے ہیں کہ ہم سب سے پہلے مظلوم کے حق کو دیکھیں، پھر شواہد کو، اور کسی کے ساتھ بھی عدالتی عمل کے بغیر سزا کا معاملہ نہ کریں۔
رپورٹس کے مطابق وسیم ایک این جی او کے زیرِ انتظام یتیم خانے میں رہتا تھا اور اس کا تعلق مظفر گڑھ سے تھا۔ وہ ملزم کے ماتحت بجلی کا کام سیکھ رہا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے اسے ملتان کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں گاڑی سے کچلا۔ پولیس اور ملزم کے مؤقف میں فرق ہے۔ پولیس کا الزام ہے کہ ملزم نے جان بوجھ کر گاڑی چڑھائی، جبکہ ملزم کا دعویٰ تھا کہ وہ لڑکے کو روکنے کی کوشش کر رہا تھا کہ گاڑی پھسل گئی۔ یہ ملزم کا اپنا بیان ہے، کوئی ثابت شدہ حقیقت نہیں۔ یہ بھی ملحوظ رہے کہ کسی بھاگتے ہوئے کم سن بچے کا پہلے پیدل اور پھر گاڑی میں پیچھا کرنا بذاتِ خود نہایت خطرناک اور قابلِ مواخذہ فعل ہے۔ اس کی قانونی نوعیت (قتلِ عمد، قتل بالسبب یا غفلت) کا فیصلہ عدالت کا کام تھا۔
اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بچہ بار بار کام چھوڑ کر کیوں بھاگتا تھا۔ رپورٹس کے مطابق وہ مبینہ ناروا سلوک کی وجہ سے کام جاری رکھنے پر آمادہ نہیں تھا۔ ایک یتیم بچے کو کام پر لگانے، اس کی نگرانی اور اس کے ساتھ سلوک کی آزاد اور شفاف تحقیق ضروری ہے۔ یہ بھی دیکھا جائے کہ اس کی عمر اور کام کی نوعیت بچوں سے متعلق قوانین اور یتیم خانوں کے ضابطوں کے مطابق تھی یا نہیں۔ کسی یتیم کو کام پر رکھنے والے کی حیثیت امانت دار کی ہوتی ہے، اور شریعت یتیم کے معاملے میں خاص احتیاط کا حکم دیتی ہے۔
اس کے بعد کا مرحلہ بھی کم سنگین سوالات نہیں اٹھاتا۔ سی سی ڈی کا کہنا ہے کہ ملزم ملتان میں ان کی تحویل سے فرار ہوا، جب وہ عدالت کی دی ہوئی چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر تھا۔ بعد میں بہاولپور کے ناردرن بائی پاس پر مبینہ مقابلے میں وہ مارا گیا۔ سی سی ڈی کے مطابق اسے اس کے اپنے ساتھی کی گولیاں لگیں، جبکہ دوسرا شخص فرار ہو گیا۔ یہ سب پولیس کا مؤقف ہے، اور اس پر چند سوالات کا جواب لازم ہے۔ ریمانڈ پر موجود ملزم حراست سے کیسے نکلا؟ حکام نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کب اور کیسے فرار ہوا اور ملتان سے بہاولپور کیسے پہنچا۔ حراست کی ذمہ داری کس پر تھی اور اس کا احتساب ہوا یا نہیں؟ کیا مبینہ مقابلے کی آزاد اور غیر جانبدار انکوائری ہو رہی ہے؟ رپورٹس کے مطابق بہاولپور میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
مقابلے کو بلا ثبوت جعلی کہنا بھی درست نہیں، اور صرف پولیس کے بیان پر آنکھیں بند کر لینا بھی نہیں۔ دستورِ پاکستان کے آرٹیکل 9 اور 10-A کے تحت ہر شخص کو زندگی کا تحفظ اور منصفانہ سماعت کا حق حاصل ہے، اور شریعت کا اصول بھی یہی ہے کہ سزا قاضی کے فیصلے کے بعد ہو، ہجوم یا پولیس کے ہاتھوں نہیں۔ حراست سے فرار کے بعد ہونے والی ہلاکت کی عدالتی انکوائری ہونی چاہیے۔
اسی طرح قانون ہاتھ میں لینا کوئی بھی کرے، ناجائز ہے۔ رپورٹس کے مطابق ملزم پر عدالت میں پیشی کے دوران وکلا نے حملہ کیا۔ ملزم کتنا ہی سنگین الزام کا سامنا کر رہا ہو، اس پر تشدد کرنا اور عدالت کا وقار پامال کرنا درست نہیں۔ جو لوگ انصاف مانگتے ہیں، انہیں خود بھی انصاف کے طریقے کی پابندی کرنی چاہیے۔
ملزم کی موت سے اس کے خلاف فوجداری مقدمہ تو ختم ہو جاتا ہے، لیکن بچے کی موت کے سوالات ختم نہیں ہوتے۔ دوسرے ملزم کی تلاش، جسے پولیس ڈھونڈ رہی ہے، نگرانی کی کوتاہیوں کا تعین، اور حراست سے فرار کی تحقیقات سب باقی ہیں۔ اب قصاص کا سوال عملاً بے معنی ہو چکا ہے، لیکن ورثا کے دیگر شرعی و قانونی حقوق ختم نہیں ہوئے۔ ان کا اختیار انہی کے پاس ہے۔ نہ انہیں کسی فیصلے پر مجبور کیا جائے اور نہ کسی کی طرف سے سماجی دباؤ ڈالا جائے۔ رپورٹس کے مطابق بچے کا خاندان انصاف کا مطالبہ کر رہا ہے، اور یہ ان کا جائز حق ہے۔
کسی بھی شخص کی موت سے اس کے گھر والوں کو بھی صدمہ پہنچتا ہے، اور اسلام ایک کے جرم کی سزا دوسرے کو دینے سے منع کرتا ہے۔ ملزم کے اہلِ خانہ کو معاشرتی بائیکاٹ یا انتقام کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔ مگر یہ ہمدردی مقتول کے حق کا بدل نہیں بن سکتی۔انصاف نہ سوشل میڈیا کے غصے کا نام ہے، نہ کسی ملزم کے حق میں جذباتی مہم کا، اور نہ پولیس کے ہر بیان کو آنکھ بند کر کے ماننے کا۔ انصاف یہ ہے کہ یتیم بچے کی موت کے تمام حقائق سامنے آئیں، نگرانی اور سلوک کی کوتاہیوں پر محاسبہ ہو، حراست سے فرار اور مبینہ مقابلے کی آزادانہ تحقیق ہو، اور قانون ہر ایک پر برابر نافذ ہو۔
اللہ تعالیٰ مرحوم بچے کی مغفرت فرمائے، اس کے لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے، اور ہمارے نظامِ انصاف کو اس قابل بنائے کہ کمزور کو بھی انصاف ملے اور ملزم کو بھی قانون کے مطابق سماعت کا موقع۔ آمین!
CCD Bahawalpur Encounter: Multan Orphan Murder Suspect Tauqeer Nazir Killed - THE DESTINATION +4 Multan orphan boy’s murderer killed in Bahawalpur 'encounter' - Daily Ittehad +4