حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلاۃ والسلام نے جب بیت اللہ کی تعمیر مکمل فرما لی تو ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اور اس میں بہت کچھ مانگا۔ ان دعاؤں میں ایک دعا یہ بھی تھی کہ: "یا اللہ! میری اس نسل کے اندر ایک نبی بھیجنا جو آ کر انہیں تیری کتاب کی تعلیم دے، انہیں حکمت کی باتیں سمجھائے اور ان کا تزکیہ بھی کرے۔" سورۃ البقرہ کے اندر دو تین مقامات پر، جبکہ قرآن کریم میں کئی جگہوں پر یہ مضمون آیا ہے۔
مقاصدِ بعثت:
اگر اس دعا میں غور کیا جائے تو شخصیت سازی کا ایک دائرہ کار ہمیں اس میں ملتا ہے۔ پہلا جو مقصد حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کی بعثت کا فرمایا ہے وہ ہے: تلاوتِ آیات، تعلیمِ کتاب، تعلیمِ حکمت اور تزکیۂ نفس۔
پہلا مقصد: تلاوتِ آیات:
یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا کر لوگوں کو قرآن پڑھ پڑھ کر سنائیں گے۔ اس سے پتہ چلا کہ قرآن کے الفاظ اور آیاتِ مبارکہ بھی خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام ہیں۔ بغیر سوچے سمجھے پڑھنا بھی ان پر ثواب ہے۔ اور مفہوم کی طرف توجہ دیے بغیر صرف الفاظِ قرآنی پڑھنے پر بھی ثواب ہے۔ کیوں کہ یہ رٹنا محض رٹنا نہیں بلکہ دراصل اللہ رب العزت کے کلام کو دہرانا اور یاد کرنا ہے۔
قرآن کریم کے الفاظ اللہ رب العزت کے کلام کے الفاظ ہیں۔ اللہ رب العزت نے خود ان کا تکلم فرمایا ہے۔ لہٰذا جو انسان تلاوت کر رہا ہے وہ باری تعالیٰ کے پڑھے ہوئے کلام کو بار بار دہرا رہا ہے۔ اس لیے قرآن کریم کی تلاوت کو بھی باقاعدہ اجر اور باقاعدہ ثواب کا ذریعہ بنا دیا گیا۔
دوسرا مقصد: تعلیمِ کتاب:
تعلیمِ کتاب کا مطلب ہے آپ تک جب الفاظ پہنچ آئے، آپ تک جب اللہ رب العزت کا پیغام پہنچ آیا، اب اگلے مرحلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقاصد میں یہ شامل کر دیا گیا کہ اب آپ امت کو ان الفاظ کا مفہوم سمجھائیں۔ باری تعالیٰ قرآن کریم کی کن آیات میں کیا کچھ بتانا چاہتے ہیں؟
تیسرا مقصد: تعلیمِ حکمت:
جب آپ نے امت کو سمجھا دیا تو اگلا مقصد بتایا گیا: تعلیمِ حکمت۔ حکمت سے مراد مفسرین نے لکھا ہے دانائی کی باتیں ہیں۔ لیکن یہاں پر مطلب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین، کسی بھی عمل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرزِ عمل اور آپ کی زندگی کے لمحات۔ یعنی جو کچھ اللہ کا پیغام پڑھ کر سنایا ہے، اس کا مفہوم سمجھایا ہے، اسے عملاً کرکے دکھائیں۔ اپنی زندگی سے مزید اس کو واضح کریں۔ اپنے عمل سے لوگوں کو ویسا بن کر دکھائیں جیسے اللہ کا پیغام ہے۔
چوتھا مقصد: تزکیۂ نفس:
جب پیغام سنا دیا، سمجھا دیا، عمل کرکے بھی دکھا دیا گیا۔ پھر حکم ہے: تزکیۂ نفس، یعنی سامنے والے کی اصلاح بھی کی جائے۔ آپ نے بتا بھی دیا، سمجھا بھی دیا، عمل کرکے دکھا بھی دیا۔ اب اسے کرتے ہوئے دیکھا جائے۔ اس کی زندگی کا بھی جائزہ لیا جائے۔ اس کی زندگی میں پیغامِ الٰہی کس حد تک آیا ہے؟ اگر مکمل طور پر راسخ ہو چکا ہے تو ٹھیک ہے، وگرنہ اس کی اصلاح کی جائے۔یہ تزکیہ ظاہری بھی ہوگا کہ ظاہری اعمال کی اصلاح کی جائے، اور باطنی بھی ہوگا کہ اندرونی امور کی اصلاح کی جائے۔
تربیتِ انسانی کے تدریجی مراحل:
مقاصدِ بعثت کے مشتملات اور حکیمانہ اسلوب سے اندازہ ہو گیا کہ انسان کی تدریجی تربیت کے لیے کون سے امور اور مراحل ضروری ہوتے ہیں؟
آپ کسی انسان کو جس تربیتی ڈھانچے میں ڈالنا چاہتے ہیں تو اس تربیتی ڈھانچے کا سب سے پہلے ہوم ورک تیار کریں کہ آپ کا تربیتی ڈھانچہ کیا ہوگا؟ حدود و قیود کیا ہوں گے؟ جسے ہم نصاب سے تعبیر کر سکتے ہیں۔جب تربیتی ڈھانچہ تیار کر لیا تو اس کے توضیحی مندرجات تیار کریں، اس کی تفصیلات لکھیں، جسے ہم شرح یا تائید سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ اس کا خلاصہ بھی الگ بنا لیں اور اس کے مفہوم کی توضیحات بھی الگ بنا لیں۔پھر اس تربیتی ڈھانچے کے مطابق سب سے پہلے خود کو تیار کریں۔ آپ خود ایسے بن جائیں کہ جو آپ بنانا چاہ رہے ہیں، جسے ہم باعمل مربی اور استاد کہہ سکتے ہیں۔بعد ازاں اگلا مرحلہ آئے گا دوسروں کو اس کے مطابق ڈھالنے کا۔ حیات النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک ایک پہلو امت کی طرف نقل کیا جائے، جسے ہم عملی نصابی سرگرمیاں کہہ سکتے ہیں۔تو تربیتی دائرہ کار میں نصاب کا ہونا بھی ضروری ہے، نصاب کی وضاحت کا ہونا بھی ضروری ہے، نصاب کے مطابق کسی مربی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ جب یہ تین چیزیں ہوں گی تو پھر چوتھی چیز تربیت یافتہ تیار ہوگا۔