(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا رشیداحمدخاکسار(ممبرمرکزی کونٹینٹ جنریٹ جے یو آئی)

مولانا رشیداحمدخاکسار(ممبرمرکزی کونٹینٹ جنریٹ جے یو آئی)

پروفائل | تمام کالمز
2026/11/08
موضوعات
مولانا فضل الرحمن کے خلاف تین بڑے الزامات کا جواب
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ مولانا فضل الرحمن نے اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر سوال اٹھایا یا پاکستان کی داخلہ و خارجہ پالیسی پر حکمرانوں کو متنبہ کیا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب بھی مولانا فضل الرحمن نے پنجاب سمیت ملک کے بڑے سیاسی مراکز میں عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا، ان کے خلاف ایک مخصوص طرزِ الزام تراشی شروع کر دی گئی۔

کبھی کہا گیا کہ مولانا فضل الرحمن نے شہدائے پاکستان کی توہین کی، کبھی انہیں دہشت گردوں کا حامی قرار دیا گیا اور کبھی یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ وہ افغانستان کے حق میں اور پاکستان کے خلاف کھڑے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے:

الزام لگانے والوں کے پاس ثبوت کہاں ہیں؟

اختلافِ رائے کو الزام میں بدل دینا اور پھر سوشل میڈیا کی چند ویڈیوز یا یک طرفہ پروپیگنڈے کو دلیل بنا دینا کسی سنجیدہ سیاسی مکالمے کا متبادل نہیں ہو سکتا۔

پہلا الزام: کیا مولانا فضل الرحمن نے شہدائے پاکستان کی توہین کی؟

اگر ایسا کوئی دعویٰ ہے تو انتہائی سادہ سوال ہے:
وہ مکمل بیان، وہ ویڈیو، وہ جملہ اور وہ اصل سیاق و سباق عوام کے سامنے پیش کیا جائے جس میں مولانا فضل الرحمن نے شہدائے پاکستان کی توہین کی ہو۔

مولانا فضل الرحمن کا بنیادی سیاسی مؤقف یہ رہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کا اصل آئینی فریضہ ملک کی سرحدوں اور قومی سلامتی کا دفاع ہے، جبکہ سیاسی معاملات کا فیصلہ عوام، پارلیمنٹ اور آئینی اداروں کے ذریعے ہونا چاہیے۔

یہ مؤقف فوج کے خلاف نہیں بلکہ ریاستی اداروں کے آئینی دائرۂ کار کے بارے میں سیاسی اختلاف کا مؤقف ہے۔

کسی فوجی جوان کی قربانی کا احترام اپنی جگہ، لیکن شہداء کی قربانی کو سیاسی اختلاف رکھنے والے شخص کے خلاف الزام تراشی کے لیے استعمال کرنا بھی شہداء کے مقام کے شایانِ شان نہیں۔

شہید کی قربانی مقدس ہے؛ اسے سیاسی پروپیگنڈے کا ہتھیار نہیں بننا چاہیے۔

دوسرا الزام: کیا مولانا فضل الرحمن دہشت گردوں کے پشت پناہ ہیں؟
اس الزام کا جواب جذبات سے نہیں، تاریخ سے لیا جائے۔

اگر مولانا فضل الرحمن یا ان کی جماعت دہشت گردوں کی پشت پناہ تھی تو پھر یہ سوال بھی تاریخ سے پوچھنا ہوگا کہ:مولانا فضل الرحمن خود بار بار دہشت گرد حملوں کا نشانہ کیوں بنتے رہے؟

31 مارچ 2011 کو چارسدہ میں مولانا فضل الرحمن کے قافلے کو خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس میں 12 افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔ اس سے ایک روز قبل صوابی میں بھی ان کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ 2014 میں کوئٹہ میں بھی مولانا فضل الرحمن کے قافلے کے قریب خودکش حملہ ہوا، جس میں جے یو آئی کے کارکن شہید اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔

اور یہ صرف مولانا فضل الرحمن تک محدود نہیں۔جے یو آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں کو مختلف ادوار میں دہشت گرد تنظیموں نے مسلسل نشانہ بنایا۔ ایک تحقیقی جائزے کے مطابق 2011 کے بعد جے یو آئی کو خودکش حملوں، بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ سمیت متعدد حملوں کا سامنا رہا، جبکہ بعض حملوں کی ذمہ داری مختلف شدت پسند تنظیموں نے قبول بھی کی۔باجوڑ میں جے یو آئی کے اجتماع پر 2023 کا ہولناک حملہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا، جس میں بڑی تعداد میں جے یو آئی کے کارکن جاں بحق ہوئے اور داعش خراسان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

تو سوال یہ ہے:
جس جماعت کے رہنما، کارکن اور اجتماعات خود دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہے ہوں، اسے محض سیاسی اختلاف کی بنیاد پر دہشت گردوں کا پشت پناہ قرار دینے کے لیے ٹھوس ثبوت کہاں ہیں؟

مولانا کا دہشت گردی کے بارے میں مؤقف کیا ہے؟مولانا فضل الرحمن کا یہ مؤقف نہیں کہ ہر مسلح گروہ کو اپنی مرضی سے ہتھیار اٹھانے کی اجازت ہونی چاہیے۔بلکہ پاکستان میں مذہبی علماء کے وسیع تر اتفاقِ رائے سے سامنے آنے والے پیغامِ پاکستان میں بھی مسلح جدوجہد، خودکش حملوں اور ریاست کے خلاف طاقت کے استعمال کو ناجائز قرار دیا گیا۔ اس بیانیے کی تیاری میں مختلف مکاتبِ فکر کے علماء شریک تھے، اور اس میں واضح کیا گیا کہ جہاد اور مسلح کارروائی کا اختیار ریاست کے دائرۂ اختیار سے متعلق ہے۔لہٰذا دہشت گردی کے خلاف کارروائی ریاست کی ذمہ داری ہے۔

ایک سیاسی جماعت سے یہ توقع کرنا کہ وہ خود ہتھیار اٹھا کر دہشت گردوں سے جنگ کرے، ریاست اور سیاسی جماعت کے کردار میں بنیادی فرق کو نظر انداز کرنا ہے۔سیاسی جماعت کا کام سیاسی، آئینی اور جمہوری جدوجہد ہے؛ ریاستی سلامتی کے اداروں کا کام قانون کے مطابق دہشت گردی کا سدباب کرنا ہے۔

تیسرا الزام: مولانا فضل الرحمن افغانستان کے حامی ہیں؟
یہ الزام بھی الفاظ کے کھیل سے زیادہ کچھ نہیں۔افغانستان کی حمایت اور پاکستان کے مفاد کی حمایت کو ایک دوسرے کی ضد بنا دینا ہی اصل مسئلہ ہے۔پاکستان اور افغانستان پڑوسی ممالک ہیں۔ دونوں کے درمیان تاریخی، مذہبی، ثقافتی، قبائلی، معاشی اور تجارتی روابط موجود ہیں۔ پاکستان کی اپنی وزارتِ خارجہ بھی یہ تسلیم کرتی ہے کہ دونوں ممالک پڑوسی ہیں اور عوامی سطح پر روابط کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

مولانا فضل الرحمن کا مؤقف یہ رہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازعات کا حل جنگ کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور سیاسی رابطوں سے نکالا جائے۔2024 میں افغانستان کے دورے کے موقع پر بھی انہوں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان برادرانہ تعلقات اور باہمی مسائل کے حل کے لیے رابطے کی بات کی، جبکہ پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا کہ یہ ان کا نجی دورہ تھا، سرکاری سفارتی مشن نہیں۔ اور 2026 میں بھی ان کا مؤقف سامنے آیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مسائل کو طاقت کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری سے حل کیا جانا چاہیے۔

تو اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ افغانستان سے جنگ کے بجائے مذاکرات کی بات کرنا افغانستان کی حمایت ہے، تو پھر دنیا کی سفارتی سیاست کا بڑا حصہ بھی اسی الزام کی زد میں آئے گا۔اپنے پڑوسی سے سفارتی تعلقات رکھنا غداری نہیں؛ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے سفارت کاری کرنا ریاستی دانش مندی ہے۔

اصل سوال کیا ہے؟
اصل سوال یہ نہیں کہ مولانا فضل الرحمن سے سیاسی اختلاف کیوں کیا جا رہا ہے۔اختلاف ضرور کریں، لیکن دلیل کے ساتھ۔اگر مولانا نے شہداء کی توہین کی ہے تو اصل ویڈیو پیش کی جائے۔اگر مولانا دہشت گردوں کے پشت پناہ ہیں تو ٹھوس شواہد پیش کیے جائیں۔اگر مولانا پاکستان کے خلاف اور افغانستان کے حق میں ہیں تو ان کا کوئی ایسا واضح اور مکمل بیان پیش کیا جائے جس میں پاکستان کے مفادات کے خلاف مؤقف موجود ہو۔

صرف کٹی پھٹی ویڈیوز، گمنام سوشل میڈیا اکاؤنٹس، یک طرفہ ڈیجیٹل مہمات اور سیاسی مخالفین کے بیانات کسی الزام کو حقیقت نہیں بنا دیتے۔مولانا فضل الرحمن سے سیاسی اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کی پالیسیوں پر تنقید کی جا سکتی ہے، ان کے فیصلوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے؛ لیکن ایک جمہوری معاشرے میں الزام لگانے والے پر دلیل اور ثبوت کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔

اور شاید اصل مسئلہ یہی ہے:
مولانا فضل الرحمن کے مؤقف سے اختلاف کرنے کے بجائے ان کے خلاف ایسے الزامات تراشے جا رہے ہیں جنہیں ثابت کرنا خود الزام لگانے والوں کے لیے مشکل ہے۔کیونکہ جب دلیل کمزور ہو جائے تو پروپیگنڈا آسان راستہ بن جاتا ہے۔

کالم نگار : مولانا رشیداحمدخاکسار(ممبرمرکزی کونٹینٹ جنریٹ جے یو آئی)
| | |
168