(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولاناعبدالباسط محمدی

مولاناعبدالباسط محمدی

پروفائل | تمام کالمز
2026/11/08
موضوعات
حدیث کی روشنی میں مصداقِ حدیثِ عمار کی تعیین
بخاری شریف سے بلاشبہ ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو ایک باغی گروہ شہید کرے گا۔یہاں باغی گروہ سے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ یا ان کے گروہ کو مراد لینا، مستدرک کی حدیث کی روشنی میں بالکل بھی درست معلوم نہیں ہوتا، کیونکہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کا مصداق خوارج کو قرار دیا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ بخاری شریف کی احادیث مجمل یا مبہم ہیں اور مستدرک للحاکم کی حدیث ان کی تشریح یا تفسیر کر رہی ہے، تو یہ بات واقعے کے عین مطابق ثابت ہو سکتی ہے۔

اور ’’الفئۃ الباغیہ‘‘ کا مصداق سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو ٹھہرانا، مستدرک کی حدیث کی روشنی میں بالکل متضاد معلوم ہوتا ہے، کیونکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے صاحب زادے کو سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں خوارج کے متعلق حدیث دریافت کرنے کے لیے بھیجا تھا، اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے انہیں یہی حدیث، یعنی ’’الفئۃ الباغیہ‘‘ والی حدیث، سنائی تھی۔ اس سے صاف واضح ہوتا ہے کہ اس حدیث کا اصل مصداق خوارج ہی ہیں۔

دراصل خوارج وہ ہیں جنہوں نے امامِ برحق سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کا ارتکاب کرکے انہیں ظلماً شہید کیا، پھر چپکے چپکے سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے لشکر میں گھس گئے۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ انہی سے قصاص کا مطالبہ کر رہے تھے۔ واقعۂ تحکیم میں جب ان کی رضا شامل نہ ہو سکی تو انہوں نے ’’إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ‘‘ کا نعرہ بلند کرکے سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج کیا اور ان کے مقابلے میں صف آرا ہو گئے۔ اس کے بعد جنگِ نہروان کا واقعہ پیش آیا، جس میں شیرِ خدا جناب علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے انہیں زبردست شکست سے دوچار کیا۔ اسی لیے باغی اور بغاوت کا ارتکاب کرنے والے یہی خوارج تھے، اور ’’الفئۃ الباغیہ‘‘ کا حقیقی مصداق بھی یہی خوارج ہیں۔

مستدرک للحاکم کی حدیث کی عبارت مع ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:

عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ لَهُ وَلِابْنِهِ عَلِيٍّ: انْطَلِقَا إِلَى أَبِي سَعِيدٍ فَاسْمَعَا مِنْهُ حَدِيثَهُ فِي شَأْنِ الْخَوَارِجِ، فَانْطَلَقَا فَإِذَا هُوَ فِي حَائِطٍ لَهُ يُصْلِحُ، فَلَمَّا رَآنَا أَخَذَ رِدَاءَهُ، ثُمَّ احْتَبَى، ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا حَتَّى عَلَا ذِكْرُهُ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: كُنَّا نَحْمِلُ لَبِنَةً لَبِنَةً، وَعَمَّارٌ يَحْمِلُ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ، فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَنْفُضُ التُّرَابَ عَنْ رَأْسِهِ، وَيَقُولُ: «يَا عَمَّارُ، أَلَا تَحْمِلُ لَبِنَةً لَبِنَةً كَمَا يَحْمِلُ أَصْحَابُكَ؟» قَالَ: إِنِّي أُرِيدُ الْأَجْرَ عِنْدَ اللَّهِ، قَالَ: فَجَعَلَ يَنْفُضُ وَيَقُولُ: «وَيْحَ عَمَّارٍ، تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» قَالَ: وَيَقُولُ عَمَّارٌ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ.

**اردو ترجمہ:**حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے اور اپنے بیٹے علی سے کہا: ’’تم دونوں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس چلے جاؤ اور ان سے خوارج کے متعلق کوئی حدیث سن کر آؤ۔‘‘ ہم دونوں چل دیے۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اپنے باغ میں کام کر رہے تھے۔ جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو اپنی چادر درست کی اور بیٹھ کر ہم سے باتیں کرنے لگے، یہاں تک کہ مسجد کا ذکر آ گیا۔ وہ کہنے لگے: ’’ہم ایک ایک اینٹ اٹھا رہے تھے، جب کہ عمار دو دو اینٹیں اٹھا رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں دیکھا تو ان کے سر سے مٹی جھاڑتے ہوئے فرمایا: اے عمار! اپنے دوسرے ساتھیوں کی طرح تم بھی ایک ایک اینٹ کیوں نہیں اٹھاتے؟‘‘ عمار رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ’’میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اجر کا طلب گار ہوں۔‘‘ (سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے سر سے مٹی جھاڑتے ہوئے فرمانے لگے: ’’اے عمار! افسوس ہے، تجھے ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔‘‘ عمار رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: ’’میں فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔‘‘

دیکھیے، قارئین کرام!

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا اس روایت کو خوارج کے متعلق بیان کرنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اس کا مصداق خوارج کو ٹھہراتے ہیں۔ فرامینِ نبوی کو حقیقی معنوں میں سمجھنے والے یہی صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرامین کو ہم تک صحیح سلامت پہنچانے کی وجہ سے اہلِ سنت والجماعت کا ان کے متعلق متفقہ عقیدہ ہے کہ ’’الصحابة كلهم عدول‘‘، یعنی تمام صحابۂ کرام عادل ہیں، کیونکہ یہ عزیمت کے سرچشمے نبوی فرمان کی ادائیگی میں کسی قسم کی کوتاہی برتنے کے لیے تیار نہ تھے۔

صحیح بخاری، حدیث نمبر 2812، کتاب الجہاد، کی عبارت مع ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:

**عربی متن:**حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ لَهُ، وَلِعَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ائْتِيَا أَبَا سَعِيدٍ فَاسْمَعَا مِنْ حَدِيثِهِ، فَأَتَيْنَاهُ، وَهُوَ وَأَخُوهُ فِي حَائِطٍ لَهُمَا يَسْقِيَانِهِ، فَلَمَّا رَآنَا جَاءَ فَاحْتَبَى وَجَلَسَ، فَقَالَ: كُنَّا نَنْقُلُ لَبِنَ الْمَسْجِدِ لَبِنَةً لَبِنَةً، وَكَانَ عَمَّارٌ يَنْقُلُ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ، فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَسَحَ عَنْ رَأْسِهِ الْغُبَارَ، وَقَالَ: «وَيْحَ عَمَّارٍ، تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ، عَمَّارٌ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ، وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ».

**اردو ترجمہ:**عکرمہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے اور علی بن عبداللہ سے کہا کہ ابو سعید کے پاس جاؤ اور ان سے حدیث سنو۔ ہم ان کے پاس گئے تو وہ اور ان کے بھائی اپنے باغ میں پانی لگا رہے تھے۔ جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو ہمارے پاس آئے، بیٹھ گئے اور کہا:’’ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد کے لیے ایک ایک اینٹ اٹھا کر لاتے تھے، جب کہ عمار دو دو اینٹیں لاتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس سے گزرے، ان کے سر سے مٹی جھاڑی اور فرمایا: افسوس عمار پر! اسے ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔ عمار انہیں اللہ کی طرف بلائیں گے اور وہ انہیں آگ کی طرف بلائیں گے۔‘‘

اور صحیح بخاری، حدیث نمبر 447، کتاب الصلاۃ، باب ’’مسجد کی تعمیر میں تعاون کرنا‘‘ کی عبارت مع ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:

**عربی متن:**حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ وَلِابْنِهِ عَلِيٍّ: انْطَلِقَا إِلَى أَبِي سَعِيدٍ فَاسْمَعَا مِنْ حَدِيثِهِ، فَانْطَلَقْنَا فَإِذَا هُوَ فِي حَائِطٍ يُصْلِحُهُ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ فَاحْتَبَى، ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا حَتَّى أَتَى ذِكْرُ بِنَاءِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: كُنَّا نَحْمِلُ لَبِنَةً لَبِنَةً، وَعَمَّارٌ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ، فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْفُضُ التُّرَابَ عَنْهُ، وَيَقُولُ: «وَيْحَ عَمَّارٍ، تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ، يَدْعُوهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ»، قَالَ: يَقُولُ عَمَّارٌ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ.

**اردو ترجمہ:**عکرمہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے اور اپنے بیٹے علی سے کہا: ’’ابو سعید کے پاس جاؤ اور ان سے حدیث سنو۔‘‘ چنانچہ ہم گئے تو وہ اپنے باغ کی مرمت کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنی چادر درست کی اور بیٹھ گئے، پھر ہمیں حدیث سنانے لگے۔ یہاں تک کہ مسجد کی تعمیر کا ذکر آیا تو فرمایا:’’ہم ایک ایک اینٹ اٹھاتے تھے اور عمار دو دو اینٹیں اٹھاتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں دیکھا تو ان کے جسم سے مٹی جھاڑنے لگے اور فرمایا: افسوس عمار پر! اسے باغی گروہ قتل کرے گا۔ وہ انہیں جنت کی طرف بلائیں گے اور وہ انہیں جہنم کی طرف بلائیں گے۔‘‘

سیدنا عمار رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: ’’میں فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔‘‘

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو خوارج کے متعلق بیان کیا ہے۔ اس سے استدلال کرتے ہوئے خوارج کو ’’الفئۃ الباغیہ‘‘ کا مصداق قرار دینا اس بات کی دلیل بتایا جاتا ہے کہ اس سے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کا لشکر مراد نہیں ہیں۔

اگر بالفرض یہ مان لیا جائے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بغاوت کے مرتکب ہو کر باغی ٹھہرتے تھے اور اس حدیث کا مصداق بھی وہی ہیں، تو اس پر ایک سوال قلب و ذہن کی کھڑکی پر دستک دیتا ہے کہ اگر واقعی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ برسرِ بغاوت تھے تو کبار صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ کا ساتھ کیوں دیا؟

اسی قسم کا مضمون شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ اپنی کتاب ’’حضرت امیر معاویہ اور تاریخی حقائق‘‘ میں لکھتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’سوال یہ ہے کہ اگر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا موقف صراحتاً باطل اور معاذ اللہ فسق تھا تو صحابۂ کرام کی اتنی بڑی تعداد نے کھل کر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا ساتھ کیوں نہیں دیا؟اگر وہ (امیر معاویہ رضی اللہ عنہ) صراحتاً برسرِ بغاوت تھے تو قرآنِ کریم کا یہ حکم کھلا ہوا تھا کہ ان سے قتال کیا جائے، پھر صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اکثریت نے اس قرآنی حکم کو پسِ پشت کیوں ڈالا؟‘‘

قارئین کرام!
یہ بات تو روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ اس وقت موجود صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، خواہ کبار ہوں یا صغار، اور اہلِ بیتِ اطہار، بشمول جنتی شہزادوں حسنین کریمین رضی اللہ عنہما، نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرکے انہیں اپنا مسلمہ خلیفہ تسلیم کیا۔حضرت حسن رضی اللہ عنہ جیسی عبقری شخصیت کا خلافت سے دست بردار ہو کر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ابتدا میں بیعت کرنا، اور اس وقت موجود صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا یکے بعد دیگرے بیعت کرکے انہیں اپنا مسلمہ خلیفہ تسلیم کرنا، اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ان کے نزدیک سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو باغی قرار دینا درست نہ تھا۔کیونکہ اگر یہ حضرات آپ کو باغی سمجھتے تو بیعت تو درکنار، قرآنِ کریم کے اس حکم پر عمل کرتے:**فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَىٰ فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّىٰ تَفِيءَ إِلَىٰ أَمْرِ اللَّهِ۔**

ترجمہ: ’’پھر اگر ان میں سے ایک جماعت دوسری جماعت پر زیادتی کرے تو اس جماعت سے لڑو جو زیادتی کرتی ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔‘‘

لیکن سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے لشکر کے ساتھ قتال نہ کرنا، بلکہ صلح و مفاہمت کے بعد انہیں خلیفہ تسلیم کرنا، اس استدلال کی بنیاد فراہم کرتا ہے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اس وقت موجود صحابۂ کرام اور اہلِ بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کی نظر میں باغی نہ تھے۔

چنانچہ اس تحریر کے مطابق صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے قول و عمل اور مستدرک للحاکم کی روایت سے واضح کر دیا کہ حدیثِ عمار، یعنی ’’قاتلِ عمار‘‘ اور ’’الفئۃ الباغیہ‘‘ کا مصداق سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نہیں ہیں۔ اس لیے ہم سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو باغی، قاتلِ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ، یا ان کے لشکر کو ’’الفئۃ الباغیہ‘‘ کا مصداق کیسے قرار دے سکتے ہیں؟

اگر ہم بالفرض والمحال انہیں باغی قرار دیں تو اس وقت موجود تمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، بالخصوص جنتی شہزادوں حسنین کریمین رضی اللہ عنہما، کی طرف نصِ قطعی کے مخالف عمل کی نسبت لازم آتی ہے؛ کیونکہ باغیوں کے ساتھ قتال کا قرآنی حکم ہے، جب کہ صحابۂ کرام نے صلح و مفاہمت کے بعد انہیں اپنا خلیفہ تسلیم کر لیا۔ نیز صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، بالخصوص حسنین کریمین رضی اللہ عنہما، کی طرف نصِ قطعی کے مخالف عمل کی نسبت کرنا محال ہے۔

رہی بات تاریخ میں موجود سبائی کارفرمائیوں کے من گھڑت قصوں اور کہانیوں کی، تو اگر ان کی بدولت کوئی ایسی متضاد روایات سامنے آتی ہیں جو صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عدالت، عظمت اور مقامِ صحابیت کے منافی ہوں، بالخصوص مشاجراتِ صحابہ کے ابواب میں، تو ان روایات کی حدیث اور امتِ مسلمہ کے متفقہ عقائد کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں۔

چنانچہ شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ تاریخی اور حدیثی روایات کی حیثیت و مرتبے کا ذکر کرتے ہوئے اپنے مجموعۂ فتاویٰ ’’فتاویٰ عثمانی‘‘، جلد اول، میں رقم طراز ہیں:

’’ہمارے پاس علمِ تاریخ کا جو ذخیرہ موجود ہے، اس میں ایک واقعے سے متعلق کئی کئی روایتیں ملتی ہیں، اور تاریخ میں روایت کی چھان پھٹک اور جرح و تنقید کا وہ طریقہ اختیار نہیں کیا گیا جو حدیث میں حضرات محدثین رحمہم اللہ نے اختیار کیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کتبِ تاریخ میں ہر طرح کی روایتیں درج ہو گئیں، صحیح بھی اور غلط بھی۔ کسی معاملے کی حقیقت پسندانہ تحقیق کرنی ہو تو ضروری ہے کہ رطب و یابس کے اس مجموعے میں سے صرف ان روایات پر عمل کیا جائے جو روایت اور درایت کے اصولوں پر پوری اترتی ہوں۔ اگر کوئی ایسا عالم، جسے جرح و تعدیل کے اصولوں سے واقفیت ہو، ان روایتوں کو انہی اصولوں کے مطابق چھانٹے تو شکوک و شبہات کا ایک بہت بڑا حصہ وہیں ختم ہو جاتا ہے۔

وجہ یہ ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آخری زمانے میں عبداللہ بن سبا کی سازش نے جو تحریک شروع کی تھی، اس کے دو بڑے مقاصد تھے:

ایک: صحابہ کی عظمت کو مجروح کرنا۔

دوسرا: جھوٹی روایات پھیلانا۔

چنانچہ انہوں نے بے شمار غلط سلط حکایتیں معاشرے میں پھیلانے کی کوشش کی۔ حضرات محدثین رحمہم اللہ نے پوری تندہی اور جانفشانی کے بعد احادیثِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سبائی تحریک کے اثر سے محفوظ رکھنے کی جدوجہد کرکے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ کر دیا، لیکن علمِ تاریخ میں اس کا اہتمام نہ ہو سکا اور وہ روایتیں کتابوں میں درج ہوتی رہیں جو خالص سبائی پروپیگنڈے کی پیداوار تھیں۔‘‘

قارئین کرام!
تاریخی و حدیثی روایات کی حقیقت معلوم ہو گئی۔ مذکورہ مستدرک للحاکم کی حدیث سے، اس تحریر کے استدلال کے مطابق، یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ حدیثِ مبارکہ، یعنی حدیثِ عمار، خوارج کے متعلق بیان کی گئی ہے اور اس کا حقیقی و اصلی مصداق وہی خارجی گروہ ہے، جسے شیرِ خدا جناب علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے جنگِ نہروان میں شکست سے دوچار کیا تھا۔

نیز کوئی شخص تاریخی رطب و یابس کو دلیل بنا کر اس حدیث کا مصداق سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ یا ان کے لشکر کو قرار دے تو یہ سراسر ناانصافی ہے۔ اس بنیاد پر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ یا ان کے لشکر کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنانا، ان کے خلاف سبّ و شتم کے تیر برسانا، یا انہیں مطعون کرنا بلاجواز ہے۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کا لشکر اس الزام سے بری اور منزہ ہیں۔

مأخَذ

1. صحیح البخاری، کتاب الجہاد والسیر، حدیث: 2812؛ کتاب الصلاۃ، باب التعاون في بناء المسجد، حدیث: 447 کے متعلق معروف ترقیم۔ نیز صحیح مسلم، کتاب الفتن وأشراط الساعة، حدیثِ عمارؓ۔ 2. صحیح البخاری، کتاب الصلاۃ، باب التعاون في بناء المسجد؛ روایتِ حضرت عکرمہ عن ابن عباس رضی اللہ عنہما۔ 3. الحاکم، محمد بن عبداللہ، *المستدرک علی الصحیحین*، حدیث: 2653، روایتِ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ۔ 4. ابن حجر عسقلانی، *فتح الباری شرح صحیح البخاری*، شرحِ حدیثِ عمارؓ؛ نیز صحیح البخاری کی متعلقہ روایات۔ 5. ابن تیمیہ، احمد بن عبدالحلیم، *مجموع الفتاویٰ*، جلد 35، ص 77، اختلافِ صحابہ اور حدیثِ عمارؓ سے متعلق بحث۔ 6. مفتی محمد تقی عثمانی، *حضرت امیر معاویہ اور تاریخی حقائق*، متعلقہ بحث، ص 347؛ مطبوعہ: مکتبۃ معارف القرآن، کراچی۔ 7. مفتی محمد تقی عثمانی، *فتاویٰ عثمانی*، جلد اول، ص 176، تاریخی روایات کی تحقیق سے متعلق بحث۔

کالم نگار : مولاناعبدالباسط محمدی
| | |
277     6