(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولاناجمیل الرحمن عباسی

مولاناجمیل الرحمن عباسی

پروفائل | تمام کالمز
2026/11/08
موضوعات
بہاولپورکی ملکہ زبیدہ
اپریل 1907 عیسوی میں دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے معتمد علامہ شبلی نعمانی(پیدائش 1857.وفات 1914) نے ایک اپیل شائع کی، جس میں دارالعلوم ندوۃ کے لیے نئی عمارت کا تخمینہ 50 ہزار روپے کیا گیا تھا یہ وہی ندوۃ ہے جس سے مولاناسید سلیمان ندوی، مولانا سید ابو الحسن علی ندوی،مولاناعبدالباری ندوی، علامہ عبدالرشید نعمانی اور اس پائے کی نہ جانے کتنی نابغہ ہائے روزگار ہستیاں پیدا ہوئیں {واضح رہے کہ یہ اس دور کی بات ہے جس زمانے میں ایک بہترین کار دوہزار روپے میں مل جایا کرتی تھی}

اس اپیل میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اگر 50 اہلِ خیرحضرات ایک ایک ہزار کا چندہ دے دیں تو یہ نیک کام بآسانی تکمیل کو پہنچ سکتا ہے۔ اس کٹھن اور مشکل کام کو ندوۃ العلماء کے باہمت سفیر مولانا غلام محمد شملوی(وفات : 1934) نے بہت جلد پورا کر دیا، وہ ندوۃ العلماء کی اپیل لے کر بہاولپور پہنچے ،جہاں نواب بہاول خان پنجم(وفات : 1904) کی والدہ ماجدہ اور نواب صادق محمد خان عباسی پنجم( ریاست بہاولپور کے آخری نواب.وفات 1966) کی دادی صاحبہ نے کہا کہ: " اس رقم کے لیے 50 اشخاص کو تکلیف دینے کی ضرورت نہیں ہے ، یہ ساری رقم میرے ذاتی اور نجی خزانے سے ادا کر دی جائے ''

یہ رقم علامہ شبلی نعمانی صاحب کے پاس پہنچی تو انہوں نےاپنے رسالہ "الندوۃ'' فروری 1908 کی اشاعت میں ایک پُرزورشذرہ لکھا اور 10 مارچ 1908 عیسوی کو نواب بہاول خان پنجم کی والدہ ماجدہ کے نام ایک شکریہ کا خط لکھا۔ اس خط میں علامہ شبلی نعمانی نے لکھاکہ:"مسلمانوں کے اوصاف کے بیان میں ہم کو مجبورا ہمیشہ پچھلے زمانہ کی طرف رجوع کرنا پڑا ہے، بلند ہمتی، دریا دلی، علم پرستی، بہادری۔۔۔ ایک ایک چیز کے لیے ہارون الرشید، مامون ، زبیدہ خاتون، برامکہ اور تیموریہ کا نام لیتے لیتے ہم تھک چکے۔ کیا موجودہ زمانہ میں ہم کو کوئی شخص اس پرانے آموختہ سے بےنیاز نہیں کر سکتا؟ اس پُرمَسرت سُوال کے جواب میں ریاست بہاولپور کے افق سے ایک صدا بلند ہوتی ہے:"جناب رکن الدولہ، نصرتِ جنگ، حافظ الملک، مخلص الدولہ، نواب حاجی محمد بہاول خان صاحب جانشین پنجم کی جدۀ مکرمہ{والدہ ماجدہ} فلکِ احتجاب، عصمت مآب خلدہا اللہ تعالٰی نے اپنی جیب خاص سے مبلغ 50 ہزار روپے دارالعلوم ندوۃ العلماء کی عمارت کی تعمیر کے لیے عطاء فرمائے''

علامہ شبلی نعمانی اس خط میں مزید لکھتے ہیں: گو آئندہ ندوۃ کسی حد تک بڑھے اور کتنی ہی ترقی کر جائے لیکن انصاف یہ ہے کہ جو کچھ ہوگا اسی فیاضی کا پرتو، اسی تخم کا ثمر اور اسی آفتاب کی شعائیں ہوں گی۔۔۔۔۔اے صوبہ الٰہ اباد!اےاودھ! تو نہایت وسیع، نہایت ممتاز، نہایت معزز ملک ہے لیکن سچ یہ ہے اور اب اس سے خود تجھ کو انکار نہیں کرنا چاہیے کہ پنجاب نہیں بلکہ اس کی ایک ریاست نہیں بلکہ اس کی ایک خاتون محترم کے آگے تیری گردن ہمیشہ کے لیے جھک گئی،تونے کبھی برہان الملک اور آصف الدولہ پیدا کیے ہوں گے لیکن تو کسی زبیدہ خاتون کا نام نہیں لے سکتا۔

اس خط میں علامہ شبلی نعمانی نے حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ(وفات 1905) کے مریدِ خاص مولانا سر رحیم بخش صاحب رحمۃ اللہ علیہ (وفات 4 مئی 1935)کا بھی خصوصیت کے ساتھ شکریہ ادا کیا.

علامہ شبلی نعمانی نے بہاولپورسےملنے والی اس خطیررقم کا ذکر عطیہ بیگم کےنام لکھےگئےاپنےایک خط میں بھی کیا چنانچہ لکھتےہیں : یہ راز کی بات ہے لیکن تم سے کہتا ہوں کہ والدۀ صاحب نواب بہاولپور نے ندوۃ العلماء کی عمارت کےلیے پچاس ہزارروپےعنایت کیے،خودان کاانجینیرآیا، وہی نقشہ وغیرہ بھی تیارکرےگااوراس کی نگرانی میں عمارت بنےگی۔{خطوطِ شبلی صفحہ 108}

{نوٹ : حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ ،حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہم حضرات بہاولپور میں انہی سر رحیم بخش صاحب کی دعوت پر بہاولپور تشریف لاتے رہے ہیں نیز مولانا رحیم بخش صاحب اور مولانا غلام حسین صاحب (وزیرِ معارف و داخلہ بہاولپور) دارالعلوم ندوۃ العلماء کے اجلاسوں میں شریک بھی ہوتے رہے اور متعدد مرتبہ ان اجلاسوں کی صدارت بھی کی اور صدارتی خطبات بھی پیش کیے۔{تاریخ ندوۃ العلماء جلد دوم }

یہ سررحیم بخش صاحب اس وقت ریاست بہاولپور میں ایک اہم منصب پر فائز تھے اور ندوۃ العلماء لکھنو کے لیے 50 ہزار روپے کے عطیہ میں ان کا بھی اہم کردار تھا۔واضح رہے کہ مقدمۀ مرزائیہ بہاولپور کےموقع پر بھی انہی وزیراعظم بہاولپورسررحیم بخش صاحب نے کئی سنہرےاورروشن کارنامےسرانجام دییےتھے۔ رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ!

علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے اکتوبر 1940 ع میں ایس۔ای کالج (صادق ایجرٹن کالج)بہاولپور کے جلسۀ تقسیمِ اسناد کے موقع پر فرمایا :"سرکار بہاولپور کا نام سب سے پہلی دفعہ میرے کانوں نے 1908ع میں سنا جب میں دارالعلوم ندوۃ العلماء میں معمولی طالب علم تھا، علیا حضرت جدہ ماجدہ صاحبہ (نواب صادق محمد خان پنجم کی دادی محترمہ) نے یک مشت پچاس ہزار کی شاہانہ رقم دارالعلوم ندوۃ العلماء کی تعمیر کے لیے عطاء فرمائی تھی اور وہ 32 برس بعد یاد یوں رہ گئی کہ "اس خوشی میں اُس دن ہم تمام طالب علموں نے اپنے کھانے مستحقین کو تقسیم کر دیے تھے اور خود بھوکے رہے تھے'' ["نخلستانِ ادب'' شخصیات نمبر، صفحہ 84]

کالم نگار : مولاناجمیل الرحمن عباسی
| | |
59