(+92) 319 4080233
کالم نگار

فردوس جمال

فردوس جمال

پروفائل | تمام کالمز
2026/11/08
موضوعات
سعودیہ پر تنقید،ایران کیوں نظر نہیں آتا
یہ ستر کی دہائی کا واقعہ ہے سعودی شاہی خاندان کی 19 سالہ نوجوان شہزادی مشاعل بنت فہد کو پڑھنے کے لیے بیروت (لبنان) بھیجا جاتا ہے۔

وہاں لبنان میں تعینات سعودی سفیر کے بھتیجے "خالد الشعر محلل" سے شہزادی کی محبت پروان چڑھتی ہے۔ سعودی عرب واپسی پر بھی ان کا میل جول جاری رہتا ہے اور وہ تنہائی میں وقت گزارتے ہیں۔ بالآخر شاہی خاندان کو اس تعلق کی خبر ہو جاتی ہے۔ دونوں جدہ ایئرپورٹ سے فرار ہونے کی کوشش کرتے ہیں، جہاں خالد شہزادی کو مردانہ لباس پہنا کر لے جانے کی کوشش کرتا ہے، مگر وہ دھر لیے جاتے ہیں اور عدالت میں ناجائز تعلق کا اعتراف کر بیٹھتے ہیں۔

15 جولائی 1977ء کو شہزادی مشاعل اور ان کے محبوب خالد کو جدہ کے ایک پارک کے قریب سرعام سز_ائے موت دے دی جاتی ہے۔

یہ دسمبر 2012ء کا ایک سرد دن ہے۔ ریاض کے صحرائی علاقے "الثمامہ" میں قائم ایک کیمپ کے اندر چند نوجوانوں کے درمیان شدید تلخ کلامی اور جھگڑا ہوتا ہے۔ اس ہنگامے میں سعودی شہزادے ترکی بن سعود غصے میں آ کر فائرنگ کرتا ہے جس کے نتیجے میں انہی کا ایک دوست عادل المحیمید موقع پر ہی قتل ہوتا ہے ۔عادل کا تعلق ایک عام، متوسط طبقے سے تھا۔ واقعے کے بعد شاہی خاندان نے مقتول کے لواحقین کو راضی کرنے کے لیے منہ مانگی دیت (خو_ن بہا) کی پیشکش کی، یہاں تک کہ خود بادشاہ کی جانب سے بھی معافی کی درخواست کی گئی، مگر عادل کی فیملی اپنے مؤقف پر ڈٹی رہی اور قصا_ص کے سوا کوئی شرط قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ بالآخر تمام قانونی مراحل سے گزرنے کے بعد، 18 اکتوبر 2016ء کو قانون کی بالادستی قائم کرتے ہوئے شہزادہ ترکی بن سعود کو سرعام سز_ائے مو_ت دے دی گئی۔

سوچیے! جو ملک اپنے شاہی گھرانے کے شہزادوں اور شہزادیوں کو سز_ائے موت دینے سے گریز نہ کرے، کیا وہ عام بنگالیوں کو حرمتیں پامال کرنے پر خلی ولی بولے گا ؟

جو عدالتیں 2019ء میں ایک ساتھ اپنے 37 شہریوں کے سر قلـ،م کر دے، کیا وہ بنگالی مجر_موں کو یلا مدیر ما فی مشکله بولے گی؟

جو عدالتیں 2022ء میں 81 سعودی شہریوں کے سر تن سے جدا کر دے کیا وہ بنگالی مجر_موں کو زمزم کھجور دے کر رخصت کرے گی ؟

وہ بنگالی مرد اور عورت میاں بیوی تھے یا نہیں اس کا نکاح شاید ہمارے دیسی 'لبرلز' یا ایرانی راتب خور طبقے نے پڑھایا ہو گا، کیونکہ کسی معتبر ذریعے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ آپس میں میاں بیوی تھے۔ مبینہ بنگالی جوڑے کے پاکستانی لواحقین نے انہیں ہنی مون کے لیے مکہ بھیجا اور وہ مسجد کے اندر رنگ رلیاں منا رہے تھے! یہی لبرل طبقہ انہیں ہنی مون پر بھیجنے کے دعوے کے ساتھ ساتھ اس مبینہ جوڑے کی ایک پانچ سالہ بچی کو روتے ہوئے بھی دکھا رہا ہے!

مطلب وہ نیا شدہ شدہ جوڑا ہنی مون پر آیا اور پیچھے سے پری نے لا کر ایک عدد بچی دادی کی گود میں ڈال دی؟

ہمارے ہاں تو یہ حال ہے کہ مزاروں، درباروں اور مسجدوں تک میں معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ گھناؤنے جر_ائم ہوتے ہیں تو الزام شیطان کے سر ڈال کر مجر_م صاف بچ نکلتا ہے۔بھئی! وہاں ایک سخت قانونی نظام موجود ہے جہاں مقدمات کو قانونی مراحل اور عدالتوں کی چھلنی سے گزار کر فیصلے پر عمل درآمد ہوتا ہے۔

اس واقعے میں مجر_موں نے بیک وقت کئی حرمتوں کو پامال کیا تھا مکہ کی حرمت، حدودِ حرم کی حرمت اور مسجد کی حرمت! چنانچہ اسلامی قانون (تعزیر) کے تحت گر_دن اڑائی جانا بالکل درست تھا،تاکہ یہ واقعہ دوسروں کے لیے عبرت کا نشان بن سکے۔

دنیا بھر میں سز_ائے موت کے نفاذ کے معاملے میں چین پہلے اور ایران دوسرے نمبر پر ہے۔ صرف 2025 میں ایران نے 2100 افراد کو پھا_نسی کے گھاٹ اتارا ہے لیکن ہمارے دیسی لبرل اس حقیقت پر مکمل خاموشی اختیار کیے رکھتے ہیں۔ اصل میں ان کا مسئلہ انسان دوست رویہ نہیں بلکہ اسلام اور اسلامی شعائر سے عناد ہے۔ شاید وہ اس خوف کا شکار ہیں کہ اگر قانون اور انصاف کے نفاذ کی بات چلی، تو کل کو اس کی زد ان کی اپنی گردنوں تک بھی آ سکتی ہے۔

کالم نگار : فردوس جمال
| | |
84