(+92) 319 4080233
کالم نگار

آئرہ علوی

آئرہ علوی

پروفائل | تمام کالمز
2026/11/08
موضوعات
قصہ ایک بھرپور حجامت کا
شہر کی ایک ایسی نئی آبادی کا قصہ یاد آیا، جو ابھی پوری طرح آباد بھی نہ ہوئی تھی کہ ویرانے میں تبدیل ہونے کے آثار نمایاں ہونے لگے تھے۔ اس آبادی میں وزرائے امور اپنی کرم نوازیوں کی ایسی داستانیں رقم کر چکے تھے کہ الامان والحفیظ!

سیٹھ صاحب کے قدم اپنی اس حویلی کی جانب بڑھنے والے تھے، جس کی زمین قیمتی اور ہیرا نما اینٹوں سے مزین تھی۔ دوسری طرف شہر کے ٹھیکیداروں کے وزیراعظم، چٹھہ صاحب، مزدوروں کو تعمیراتی نقشے کی سائنس پڑھانے کے بعد مطمئن ہو کر اپنے دولت خانے تشریف لے جا چکے تھے۔

وہ مزدور میاں، جنہیں چٹھہ صاحب نے مزدوروں کا چیف آف آرمی اسٹاف مقرر فرمایا تھا، حویلی کی تعمیر کے حوالے سے تمام فکروں اور غموں سے آزاد ہو کر اپنے بستر پر محوِ استراحت تھے۔ انہیں شاید یقین تھا کہ جب ذمہ داری کا عہدہ مل ہی گیا ہے تو اب کام کرنے کی کیا ضرورت!

ایک دوسرے مزدور بھائی کو حویلی کے خارجہ امور، یعنی صحن اور باغیچے وغیرہ کی وزارت سونپی گئی تھی۔ موصوف نے صحن اور باغیچے کو اس مہارت سے سنوارا کہ وہاں ایک گھنا جھاڑی نما جنگل وجود میں آ گیا۔ شاید ان کا خیال تھا کہ مستقبل میں جب جنگلی جانور تشریف لائیں گے تو ان سے خارجہ امور پر معاہدے کیے جائیں گے کہ وہ ہماری زمین سے کتنا حصہ لے کر جائیں گے اور بدلے میں ہمیں بیرونِ ملک سے کیا لا کر دیں گے!

اسی طرح ایک چچا مزدور کو حویلی کا وزیرِ طہارت مقرر کیا گیا تھا۔ موصوف نے اپنی وزارت کے دفاتر کی ایسی اکھاڑ پچھاڑ کی کہ جہاں بیت الخلا کا دفتر قائم ہونا چاہیے تھا، وہاں غسل خانے کا دفتر بنا دیا، اور جہاں غسل خانے کا دفتر ہونا تھا، وہاں بیسن کے دفتر کا قیام عمل میں لے آئے۔ گویا نقشے کی اصلاح کے نام پر سہولتوں کا پورا نظام ہی الٹ پلٹ کر رکھ دیا۔

ادھر ایک اور مزدور صاحب کو وزیرِ پیٹ پوجا خانے بنایا گیا تھا۔ انہوں نے بھی اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے ٹائلوں کی جگہ ان کے بزرگ ماربل کو بٹھا دیا۔ شاید ان کے نزدیک تعمیراتی ترقی کا اصل معیار یہی تھا کہ جہاں جس چیز کی ضرورت ہو، وہاں اس سے زیادہ قیمتی چیز لگا دی جائے، خواہ اس سے نقشے کا حلیہ ہی کیوں نہ بگڑ جائے!

الغرض، سیٹھ صاحب کی حویلی کے نقشے کا ستیاناس کرنے کے بعد جب چٹھہ صاحب دوبارہ تشریف لائے تو سب سے پہلے پیٹ پوجا خانوں کا دورہ فرمایا۔ وہاں کا منظر دیکھتے ہی ان کے چہرے کی گھڑی میں بارہ بج گئے۔ اس کے بعد طہارت خانوں کا رخ کیا تو چہرہ غصے سے مرچ کی طرح سرخ ہو گیا۔

پھر خارجہ امور کے معائنے کے لیے روانہ ہوئے۔ وہاں کی حالت دیکھی تو دماغ ایسا گھوما جیسے گول جھولے پر بیٹھ کر بچے چکرا جاتے ہیں۔ آخرکار چیف آف آرمی اسٹاف کے پاس پہنچے تو جناب کو گھوڑے بیچ کر سوتے پایا۔ یہ منظر دیکھ کر چٹھہ صاحب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔

چنانچہ چاروں حضرات کو عزت افزائی کی ایک خصوصی میٹنگ میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ اس میٹنگ میں چٹھہ صاحب نے ڈانٹ ڈپٹ کے ایسے جوہر دکھائے کہ چاروں کی خوب خبر لی اور انہیں ڈانٹ کے سمندر میں غوطے دلواتے ہوئے گویا بھرپور دھلائی فرما دی۔

ابھی یہ کارروائی جاری ہی تھی کہ اچانک سیٹھ جی کی گاڑی کی آواز سنائی دی۔ آواز کیا تھی، سب کے کانوں میں گویا خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔ ہر طرف سے ’’شیر آیا، شیر آیا!‘‘ کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ چاروں کے ہاتھ پاؤں ایسے کانپنے لگے جیسے زلزلے کے دوران زمین لرزتی ہے۔

سیٹھ جی حویلی میں داخل ہوئے تو اپنی محنت، دولت اور خوابوں کی بربادی کا منظر دیکھ کر ان پر گویا قیامت ٹوٹ پڑی۔ جس حویلی کو خوب صورتی، نفاست اور سہولتوں کا نمونہ بننا تھا، وہ مزدوروں کی نااہلی، غفلت اور من مانیوں کی بدولت ایک عجیب و غریب شاہکار بن چکی تھی۔

پھر کیا تھا! سیٹھ جی نے چاروں کی ایسی خبر لی کہ انہیں دنیا ہی میں قیامت نما عذاب کا سامنا کرنا پڑ گیا۔اور یوں حویلی کی تعمیر کے نام پر ہونے والی اس ساری کارگزاری کا اختتام ایک بھرپور حجامت پر ہوا!

کالم نگار : آئرہ علوی
| | |
174