(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولاناخلیل الرحمٰن ڈیروی

مولاناخلیل الرحمٰن ڈیروی

پروفائل | تمام کالمز
2026/11/08
موضوعات
معاملات اور معاشرت بھی دین کا حصہ ہیں
آج کے دور میں ایک چیز ہے جس کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے؛ہم مسلمان ہیں الحمدللہ ! اور ہمارے ہاں لوگ دین پر کسی حد تک عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں؛ مسجدوں میں جاتے ہیں، نمازیں پڑھتے ہیں، مسجد میں جا کے نہیں پڑھتے تو گھر میں پڑھتے ہیں، عمرے کرتے ہیں، حج کرتے ہیں۔تو عبادات کی طرف لوگوں کی توجہ الحمدللہ ہوتی ہے کمی کے ساتھ، کوتاہی کے ساتھ ہوتی ہے، لیکن ہوتی ہے، کبھی کبھی فکر بھی ہوتی ہے؛ رمضان المبارک میں رمضان میں روزے رکھتے ہیں اور اسی طریقے سے تراویح پڑھتے ہیں قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔

یعنی ایک بہت بڑا طبقہ ایسا ہے ہمارے معاشرے میں الحمدللہ کہ جو دین میں عبادات کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور یہ بہت اچھی بات ہے۔لیکن اس سے آگے بڑھ کے ایک اور دین کا تقاضہ ہے اور وہ یہ تقاضہ ہے کہ جیسے عبادت انسان کی اللہ کے لیے ہوتی ہیں اسی طریقے سے انسان کے جو معاملات ہیں، لین دین ہے، خانگی زندگی ہے، اس کی معاشرت ہے سوشل لائف ہے یہ بھی مجموعی طور پہ دین کے حکم کے تحت ہو اس میں اللہ تعالی نے زیادہ تر چیزوں میں آزادی دی ہے، چند اصول بتا دیے ہیں کہ زندگی ایسے گزاریں۔

باقی یہ ہے کہ تم کیسے زندگی گزارنا چاہتے ہو؟ کھانا پینا کیسا ہو تمہارا؟ کپڑے کیسے ہوں؟ گھر کیسا بنا ہوا ہو؟ آپس میں رشتہ داریوں میں تعلقات کیسے ہوں؟ کس طرح سے میل جول رکھو؟ زیادہ تر چیزیں حلال کر دی گئیں، چند اصول اس میں عطا کر دیئے گئے۔تو اس وجہ سے دین کا ایک بہت بڑا حصہ ہے جس کا تعلق ہماری سوشل لائف سے ہے، ایک بہت بڑا حصہ ہے جس کا تعلق ہماری کمرشل لائف سے ہے، ہماری معاشرتی اور معاشی زندگی سے ہے۔

ہمارے یہاں عبادات کی طرف متوجہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جب ان کو مجھ سے کوئی تعلق ہوتا ہے، رابطہ ہوتا ہے یا کوئی مسئلہ پوچھنے آتے ہیں تو حیرانی ہوتی ہے کہ زندگی کے اندر وہ آخری حصے میں ہوتے ہیں، 50 سال یا اس سے اوپر زندگی ہو چکی ہوتی ہے اور بڑے نمازی نیک ہیں لیکن تجارت ان کو نہیں آتی، حلال حرام کے انہوں نے کوئی اصول نہیں پڑھ رکھے ہوتے، قرضے کا لین دین غلط کر رہے ہوتے ہیں، وراثت کے اندر وصیت غلط کر رہے ہوتے ہیں، اولاد کے درمیان وراثت کی تقسیم میں غلطی کر رہے ہوتے ہیں، اولاد کو اپنے ساتھ کاروبار میں لگایا ہوا ہوتا ہے اس میں چیزیں کلیئر نہیں ہوتیں، لین دین اس کے اندر کچھ واضح نہیں ہوتا، وراثت کی تقسیم میں جھگڑے سامنے آتے ہیں تو اکثر میں ان سے پوچھتا ہوں آخر کیا وجہ ہے؟ کہ آپ کی نظر میں نماز اہم تھی، آپ کی نظر میں روزہ اہم تھا، آپ کی نظر میں حج اہم تھا، آپ کی نظر میں زکوۃ اہم تھی مگر آپ کی نظر میں یہ اہم نہیں تھا کہ آپ کا کاروبار صحیح ہو؟ آپ کی نظر میں یہ اہم نہیں تھا کہ آپ کے مالی معاملات جو ہیں وہ شرعی اصولوں کے مطابق ہوں؟ آپ کی نظر میں یہ اہم نہیں تھا کہ میں کسی کے لیے وصیت کر کے جا رہا ہوں یہ وصیت کرنا ٹھیک ہے یا نہیں ہے؟

آج پروگرام کرنے کے لیے جب میں آرہا ہوں اس سے پہلے ایک سوال کسی نے مجھ سے پوچھا ہے اور جس کے اندر یہ مسئلہ آیا ہوا ہے پریشان کن مسئلہ کہ انہوں نے اپنے بینک کے اکاؤنٹ میں یا کسی اور اکاؤنٹ کے اندر کسی کا نام *nomination* میں لکھ دیا ہے اور کہہ دیا ہے کہ میرے بعد جو ہیں *next of kin* میں کہ یہ میری جگہ پہ چیز لیں گے، اب ان کے انتقال کے بعد لوگ آگئے ہیں پوچھ رہے ہیں کہ یہاں پر وراثت کے احکام جاری ہوں گے یا نہیں ہوں گے؟ تو کبھی اس پر غور نہیں ہوتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ دین کو ہم نے خانوں میں تقسیم کر کے یہ خانہ بنا دیا ہے کہ عبادت کیا ہے؟ اس کے اندر ہم دل سے توجہ دیں گے، ہم نماز کے مسائل سیکھیں گے، زکوۃ کے مسائل سیکھیں گے، حج کے مسائل سیکھیں گے، عمرے کے سیکھیں گے اور ایک خانہ ہے جس کا تعلق لین دین سے ہے، یہ خانہ جس کا تعلق معاشرت سے ہے اس کو ہم دین سے دور رکھیں گے۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بڑا دین دار نمازی آدمی ان کو نہ کاروبار کے طریقے معلوم ہوتے ہیں نہ ان کو حلال حرام کی صحیح باتیں معلوم ہوتی ہیں، بس زندگی چل رہی ہے تو چل رہی ہے، یہ غفلت کی زندگی ہے دین کو یہ مقصود نہیں ہے۔

اللہ تعالی فرماتے ہیں:*«یا ایھا الذین آمنوا لا تأکلوا اموالکم بینکم بالباطل»*

"اے ایمان والو ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے سے مت کھاؤ۔"

یعنی اس کا مفہوم یہ ہے کہ ایسے غلط کام مت کرو، اگر تم دین کے ایک حصے پر عمل کر رہے ہو تو دوسرے حصے سے کیسے غافل ہو، تمہاری اس بات کی طرف کیوں فکر نہیں ہوتی کہ تمہاری تجارت کے اندر کوئی غلط کام تو تم نہیں کر رہے، اپنی شراکت داری میں کوئی غلط کام تو نہیں کر رہے، تمہارا سوشل جو معاملہ ہے وہ کیسا ہے؟ قرضے کا لین دین کیسا ہے؟ وراثت کی تقسیم کیسی ہے؟ اس کی فکر کی ضرورت ہے اور یہ فکر ایک دن میں کرنے سے کوئی چیز نہیں آتی۔

آج کے دور میں آپ دیکھیں آپ کسی ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں، وہ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ آپ کو شوگر ہے، آپ کو بلڈ پریشر ہے آپ کو ہارٹ کی پرابلم ہے اور آپ کہتے ہیں ڈاکٹر صاحب مجھے تو کچھ بھی نہیں پتہ اس چیز کا، تو حیرانی سے ڈاکٹر صاحب پوچھتے ہیں کہ آپ شہر میں رہنے والے ہیں، آپ پاکستان میں رہتے ہیں، پاکستان کے شہر میں رہتے ہیں اور آپ کو یہ نہیں معلوم کہ آپ کی عمر ایک خاص حد سے آگے چلی جائے تو آپ کو میڈیکل چیک آپ کرانا چاہیے ! یعنی ان کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ کم سے کم اپنی صحت کے حوالے سے آپ کو چند بنیادی باتیں تو معلوم ہوں ! یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ شہر کی زندگی گزارتے ہیں اور ایک عام زندگی بسر کرتے ہیں اور آپ صحت کے حوالے سے اتنے غافل ہیں۔

اسی طرح کا معاملہ ہمارا اس دین کے اندر بھی ہے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک آدمی نمازی ہے ! روزے دار ہے! حج اور سب چیزوں کی طرف متوجہ ہے ! لیکن اس کے معاملات کے اندر دین نہیں ہے، اس کی تجارت میں دین نہیں ہے، اس وجہ سے میں یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے تاجر کو چاہیے کہ وہ دین سیکھیں، سناروں کو چاہیے کہ دین سیکھیں، کپڑے کے تاجروں کو چاہیے دین سیکھیں، جو ہمارے کسان ہیں وہ دین سیکھیں، جو ہمارے مزارع ہیں وہ دین سیکھیں، جو ہمارے ہاں اس طرح کی چیزوں کو دیکھ رہے ہوتے ہیں ہمارے یہاں کاشتکاری کو کو دیکھ رہے ہوتے ہیں، جو سیاست کو دیکھ رہے ہوتے ہیں، جو قانون کو دیکھ رہے ہوتے ہیں، جو عدالت کو دیکھ رہے ہوتے ہیں ہر چیز کے بارے میں دین کی ہدایت موجود ہیں اور اس سے غفلت کرنا نہایت سنگین بات ہے۔

چونکہ اللہ سبحانہ و تعالی نے مسلمانوں سے یہ تقاضا کیا ہے کہ ان کی زندگی اللہ کے دین کے تابع ہو۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سنا کے میں بات ختم کرتا ہوں، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:"کہ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی خواہشات یعنی اس کی سوچیں بھی میرے لائے ہوئے دین کے تابع نہ ہوں وہ غلط چیزیں نہ سوچتا ہو۔"

کالم نگار : مولاناخلیل الرحمٰن ڈیروی
| | |
110