(+92) 319 4080233
کالم نگار

مفتی سفیان بلند

مفتی سفیان بلند

پروفائل | تمام کالمز
2026/11/08
موضوعات
تبلیغی جدوجہد کے سو سال
3 مارچ 1924ء کو خلافتِ عثمانیہ کا چراغ بجھ گیا، وہ خلافت جو صدیوں تک امتِ مسلمہ کے اجتماعی نظم اور باہمی ربط کی ظاہری علامت رہی تھی اور اس کے ساتھ ہی امت ایک ایسے دور میں داخل ہوئی جہاں سہارے کم تھے اور سوالات زیادہ۔

اس خلافت کے بچاؤ کے لئے اکابرِ امت و مسلمانانِ ملت نے مختلف تحریکات و خدمات سر انجام دیں جو تاریخ کے صفحات میں مرقوم ہیں، سو امت مسلمہ کو "کلمہ طیبہ کی لڑی" سے جوڑنے والی خلافت کے خاتمہ کے بعد اکابرین امت فکر مند ہوئے کہ کیسے اس "عروة الوثقی" سے رابطہ رہے، اگرچہ سرکار نہ رہی مگر دعوتِ دین اور علومِ نبوت کا فروغ تو اس کے بغیر بھی ممکن ہے، سو دارالعلوم دیوبند کے اکابرین نے بھی عوام الناس کی اصلاح و تربیت کے لئے "شعبہ دعوت و تبلیغ" قائم کیا جس کے تحت مختلف علمائے کرام کی مختلف شہروں میں تشکیل جاتی تھی جیسا کہ مولانا مناظر احسن گیلانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے، دوسری طرف تھانہ بھون میں حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے بھی "صيانة المسلمین" کے نام سے عوام الناس میں دینی آگہی کا سلسلہ شروع کیا، انہی ایام میں مختلف اہل اللہ و اہل قلب نے امت کی تربیتِ افکار و اصلاحِ احوال کے لئے سوچ و بچار کیا، انہی بکھرتے ہوئے حالات میں ایک درویش صفت داعی کے دل میں امت کی فکر نے کروٹ لی، وہ بے چین و بے قرار ہوئے اور انہوں نے تھوڑے عرصہ میں پورے برصغیر کی کایا پلٹ دی، حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمہ اللہ (جس کو دنیا نے مجدد التبلیغ کا لقب بھی دیا) نے مسلمانوں کی دینی حالت پر تڑپتے ہوئے ایک ایسی محنت کی بنیاد رکھی جس کی اساس کلمہ طیبہ، اصلاحِ ایمان، نماز کی پابندی اور دین کے بنیادی اعمال کی فکر تھی، مقصد یہ تھا کہ عام مسلمان دین سے جڑے، اپنی اصلاح کا جذبہ اپنے اندر پیدا کرے اور پھر خود دوسروں کی دینی فکر کرنے والا بن جائے، آپ فرماتے تھے کہ "ہماری محنت کا ابتدائی عنوان کلمہ و نماز ہے مگر اس کے ذریعہ پورے دین کا احیاء مقصود ہے۔" .... آپ فرماتے تھے کہ "رسول اللہ ﷺ امت کو دین کی جس سطح پر چھوڑ گئے، اس پر پھر سے امت کو لانا ہے۔"

آپ کا یہ ارشاد معروف ہے کہ "ہماری اس جدوجہد کا مقصد احیاء بجمیع ماجاء به النبی ﷺ ہے۔"

آپ کی پیدائش 1303ھ (1885ء) میں حضرت مولانا محمد اسماعیل کاندھلوی رحمہ اللہ کے گھر ہوئی، آپ کی والدہ "صفیہ" خاتون ایک دیندار گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں، انہوں نے شادی کے بعد اپنے بڑے بیٹے حضرت مولانا محمد یحیی کاندھلوی رحمہ اللہ کی شیر خوارگی کے زمانے میں حفظ قرآن کیا اور ایسا اچھا یاد کیا کہ معمولی حافظ ان کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا تھا، آپ کی نانی "أمة الرحمن" خاتون جو حضرت مولانا مظفر حسین صاحب رحمہ اللہ (جو حضرت مفتی الہی بخش رحمہ اللہ ـــ تلمیذ حضرت شاہ عبد العزیز دہلوی رحمہ اللہ ـــ کے بھتیجے ہیں اور حضرت شاہ محمد اسحاق دہلوی رحمہ اللہ کے شاگرد ہیں، ان) کی صاحبزادی تھیں اور خاندان میں "امی بی" کے نام سے معروف تھیں، رابعہ سیرت خاتون تھیں، ان کی نماز حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ (ولادت : 10 مئی 1829ء ــــ وفات : 11 اگست 1905ء) کی نماز کا نمونہ تھی، وہ حضرت گنگوہی رحمہ اللہ کے طبقہ میں ممتاز شمار ہوتی تھیں، مرشدی عارف باللہ حضرت واصف منظور صاحب رحمہ اللہ سے یہ قصہ سنا ہے کہ انگریزی تہذیب کے اثرات اور ہندوانہ رسموں کے شیوع کے سبب مسلمانانِ ہند بہت فکر مند تھے، چنانچہ ایک جگہ تقریب تھی تو وہاں خواتین میں یہ بات چلی کہ کیسے ان اثرات کا ازالہ ہو، مختلف باتیں سامنے آئیں، ایک رائے یہ آئی کہ کوئی اپنی بیٹی کا کسی نیک صالح عالم سے رشتہ کروائے اور وہ جوڑا امت کی اصلاح کے لئے فکر کرے، چنانچہ امی بی نے اسی تقریب میں مردوں کے ہاں پیغام بھیجا کہ کوئی صالح و عالم مرد ہو تو اس سے میری بیٹی کا رشتہ کروایا جائے، اور وہیں پر مولانا محمد اسماعیل کاندھلوی رحمہ اللہ سے صفیہ بی بی کا رشتہ ہوا (آپ کی پہلی بیوی کا وصال ہوچکا تھا جس سے ایک بیٹا مولانا محمد کاندھلوی رحمہ اللہ تھے، یہ آپ کا عقد ثانی تھا جو [24 یا 26] جمادی الأخرى 1285ھ بمطابق 13 اکتوبر 1868ء میں ہوا، ابھی دارالعلوم دیوبند کو قائم ہوئے تقریبا دو ڈھائی سال ہی ہوئے تھے) خیر ! اس رشتہ کی برکت سے یہ نسل چلی جس نے پورے برصغیر ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کو بدل کر رکھ دیا (یہ قصہ مختصر لکھا ہے، تفصیل دوسری جگہ مراجعت کی جائے) چنانچہ اس رشتہ کے بعد ان کے دو بیٹے ہوئے :

➊ مولانا محمد یحیی کاندھلوی رحمہ اللہ:
آپ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ کے والد ہیں جن کی ولادت محرم 1288ھ بمطابق 23 مارچ 1871ء ہفتہ کو ہوئی، آپ نے 7 سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کیا، آپ نے اپنے والد ماجد سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، دورہ حدیث کی کتب حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ سے پڑھیں، آپ نے اپنے استاذ حضرت گنگوہی رحمہ اللہ کی تقاریر کو دوران درس ضبط تحریر میں لائے، چنانچہ ترمذی شریف کی شرح "الکوکب الدری" اور بخاری شریف کی شرح "لامع الدراری" آپ ہی کی ضبط کردہ ہیں۔

آپ کا وصال 10 ذی قعدہ 1334ھ بمطابق 7 ستمبر 1916ء کو ہوا۔

آپ کے بیٹے کے ذریعہ اللہ تعالی نے علوم نبوت (قرآن و حدیث) کو ساری دنیا میں عام کیا، نیز تصوف و سلوک، تزکیہ و احسان کا سلسلہ بھی خوب پھیلا !

➋ مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمہ اللہ:
آپ کی ولادت 1303ھ / 1885ء میں قصبہ کاندھلہ ضلع مظفرنگر، اتر پردیش (یو پی) میں ہوئی، بچپن اپنے ننھیال "کاندھلہ" میں اور اپنے والد ماجد کے پاس گذرا جہاں دینداری کا ماحول تھا، ہر طرف علم و معرفت کی قندیل روشن تھی، ایمان و اعمال کا گہوارہ تھا، حفظ قرآن اور فارسی و عربی کی ابتدائی کتابیں اپنے والد ماجد سے پڑھیں، 4 شوال 1315ھ بمطابق 26 فروری 1898ء کو آپ کے والد ماجد مولانا محمد اسماعیل کاندھلوی رحمہ اللہ کی رحلت ہوئی، اس وقت آپ کی عمر تقریبا 13 سال تھی، خیر ! آپ کے منجھلے بھائی مولانا محمد یحیی کاندھلوی رحمہ اللہ کے ساتھ شوال 1311ھ (اپریل 1894ء) میں والد صاحب کی اجازت سے آپ کو گنگوہ لے گئے جہاں آپ آٹھ نو برس رہے، تعلیم حاصل کی، اس دوران آپ کی بہترین اخلاقی تربیت اور دینی تعلیم کا سلسلہ جاری رہا، دورانِ تعلیم کبھی والد ماجد کے پاس نظام الدین دہلی جاتے اور کبھی ننھیال کاندھلہ جاتے، تعلیمی سلسلہ گنگوہ میں رہا، اس وقت عمر دس گیارہ سال تھی، جب حضرت گنگوہی رحمہ اللہ کا وصال 1323ھ بمطابق 1905ء میں ہوا تو اس وقت آپ کی عمر 20 سال تھی، آپ فرماتے تھے کہ کہ "دو ہی غم میری زندگی میں سب سے بڑھ کر ہوئے، ایک والد کا انتقال، ایک حضرت (گنگوہی) کی وفات" .... اور فرمایا : "حضرت ! ہم تو ساری عمر کا رونا اسی روز رولئے جس روز حضرت دنیا سے رخصت ہوئے۔"

پھر 1326ھ (1908ء) میں شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی رحمہ اللہ کے درس میں شرکت کے لئے دارالعلوم دیوبند پہنچے، صحیح بخاری و سنن ترمذی کی سماعت کی، اس وقت آپ کی عمر 23 سال کی تھی (یہ آپ کا سنہ فراغت ہے) اس کے بعد مزید کئی سال اپنے بھائی مولانا محمد یحیی کاندھلوی رحمہ اللہ سے پھر حدیث پڑھی، حضرت گنگوہی رحمہ اللہ سے آپ کو بیعت کا شرف حاصل ہے، ان کی وفات کے بعد حضرت مولانا خلیل احمد سہانپوری رحمہ اللہ سے سلوک کی تکیل کی اور "مُجاز بیعت" قرار پائے۔

25 سال کی عمر میں مظاہر العلوم سہارنپور میں بطور مدرس شوال 1328ھ بمطابق اکتوبر 1910ء میں تقرر ہوا، وہ کتب بھی پڑھائیں جو اس سے پہلے زمانہ طالبعلمی میں بھی نہ پڑھی تھی مگر ممتاز مدرس بنے، مطالعہ کا خوب اہتمام تھا، چنانچہ کنز الدقائق کے لئے البحر الرائق، شامی، ہدایہ دیکھتے تھے، نور الانوار کے لئے حسامی کی شروح اور توضیح تک مطالعہ میں رہتی تھی، دوران تدریس ہی 6 ذی قعدہ 1330ھ بمطابق 7 اکتوبر 1912ء کو حقیقی ماموں مولوی رؤف الحسن رحمہ اللہ کی صاحبزادی سے نکاح ہوا، یہ نکاح بڑے بھائی مولانا محمد کاندھلوی رحمہ اللہ (جو مولانا اسماعیل کاندھلوی رحمہ اللہ کی پہلی بیوی سے تھے) نے پڑھایا، مجلس نکاح میں حضرت سہارنپوری، حضرت تھانوی اور بڑے حضرت رائے پوری رحمہم اللہ تینوں موجود تھے۔

آپ پہلا حج 1333ھ/ 1915ء کو اپنے شیخ حضرت سہارنپوری اور حضرت شیخ الہند دیوبندی رحمہم اللہ کی معیت میں کیا، حج کے دوسرے سال 10 ذی قعدہ 1334ھ بمطابق 7 ستمبر 1916ء مولانا محمد یحیی کاندھلوی رحمہ اللہ داغ مفارقت دے گئے، یہ آپ پر بڑا صبر آزما مرحلہ تھا، بڑے بھائی کی تربیت کا آپ کی شخصیت میں بڑا گہرا اثر تھا، اس لئے صدمہ ہونا بھی ظاہر ہے، ان کے دو سال بعد سب سے بڑے بھائی مولانا محمد کاندھلوی رحمہ اللہ بھی 25 ربیع الثانی 1336ھ بمطابق 7 فروری 1918ء کو داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے عالم فانی سے عالم باقی کوچ کرگئے۔

مولانا محمد کاندھلوی رحمہ اللہ اپنے والد ماجد مولانا محمد اسماعیل کاندھلوی رحمہ اللہ کے بعد نظام الدین کی بنگلہ والی مسجد میں قیام رکھتے تھے، اپنے والد صاحب کے مدرسہ کا کام جاری رکھا تھا جس میں میوات کے بچے پڑھتے تھے، آپ متقی صفت، پاکباز، نیک سیرت، پاکیزہ صورت، صوم و صلوة کے پابند، اکابر کا نمونہ تھے، انتقال سے 16 سال پہلے تک کبھی تہجد فوت نہ ہوئی، آخر وقت تک نماز جماعت سے پڑھی اور عشاء کی نماز کے بعد وتر کے سجدے میں انتقال ہوا (اللهم ارزقنا مثله) آپ کے وصال کے بعد متعلقین و معتقدین کا اصرار ہوا کہ مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمہ اللہ یہیں قیام فرمائیں، حضرت سہارنپوری رحمہ اللہ کی اجازت سے عارضی طور پر یہاں منتقل ہوئے، پھر بعد میں یہیں کے ہوگئے، بستی نظام الدین کے مجاہدے آپ کی سوانح میں دیکھے جاسکتے ہیں، یہاں اللہ تعالی نے آپ سے وہ کام لینا تھا جو ساری دنیا کو سیراب کردے، سو آپ نے مختلف حالات و واقعات دیکھے تھے، آپ کے آس پاس میوات کے لوگ تھے، آپ ان کی اصلاح کی تدبیر یہ سمجھتے تھے کہ "ان میں دین کا علم پھیلایا جائے، شریعت کے احکام و مسائل سے واقفیت پیدا کی جائے اور جہالت و وحشت دور ہو، آپ کے والد اور سب سے بڑے بھائی نے یہی طریقہ علاج اختیار کیا تھا، سو کام کی ابتدائی شکل یہ تھی کہ میوات میں دینی مکاتب اور مدارس قائم ہوں اور میوات کی (کم از کم) نئی نسل دین سے واقف ہو، سو آپ نے اہلِ میوات سے مکاتب بنانے کا وعدہ لیا، اس طرح کئی مکاتب قائم ہوئے، آپ کے نزدیک دین کی خدمت "قومی کام" کی طرح نہ تھا جس کا بار اور ذمہ داری قوم پر ہو بلکہ اپنا سمجھ کر شروع کیا جس میں اپنا لگانے سے بھی دریغ نہیں تھا، آپ کے نزدیک کام کی حقیقت یہ تھی کہ آدمی بالکل اپنے ذاتی کام کی طرح اس میں اپنا "عزیز وقت" اور "محبوب مال" خرچ کرے، وہ اس تقسیم کے قائل نہ تھے کہ یہ اپنا ہے اور یہ قومی !

بس یہی بات تھی کہ سب سے پہلے اپنا سرمایہ لگایا جو آبائی جائیداد اور ہدایا کی صورت میں آیا تھا، پھر لوگوں کی امداد کو قبول کیا۔

مکاتب میں آپ نے کام شروع کیا مگر بے قرار طبیعت نے قرار نہ پایا کہ جب تک اصل منزل نہ مل جائے، مکاتب سے "معمولی انفرادی اصلاح اور تعلیم" ہورہی تھی مگر آپ مکمل مطمئن نہ تھے، اس کی تین وجوہات تھیں :

➊ طلبہ کی پوری اصلاح اور دینی تربیت نہیں ہونے پاتی۔

➋ جو تربیت پاکر نکلتے، وہ بھی آس پاس کی بے دینی، جہالت سے متاثر ہوتے کہ پھر ان کا پتہ نہ چلتا۔

➌ یہ انتظامات تو ان کے لئے تھے جو غیر مکلف اور نابالغ بچے ہیں، عاقل، بالغ اور احکام الٰہی کے مکلف طبقہ کی دینی لا علمی اور بے عملی کا کوئی خاطر خواہ انتظام نہ تھا۔

آپ مختلف تجربے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ "جب تک عام آدمیوں کی زندگی میں دین نہ آئے تو کچھ نہیں ہوسکتا"

اگرچہ اس دوران ایک بڑا طبقہ آپ سے روحانی فیض پارہا تھا، لوگ بکثرت سلسلہ سے منسلک ہورہے تھے، اسی دوران شوال 1344ء/ اپریل 1926ء کو اپنے شیخ و مرشد حضرت سہارنپوری رحمہ اللہ کی معیت میں دوسری بار سفر حج کی سعادت نصیب ہوئی، یہیں سے اس کام کے نکتہ آغاز کا سفر بھی شروع ہوا، رفقائے سفر کا کہنا ہے کہ آپ پر بہت بے چینی سوار تھی، مدینہ پہنچے تو یہاں سے جدا ہونے کو تیار نہ تھے، شیخ سے کہا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ ان سے چلنے کو اصرار نہ کرو، ان پر ایک حالت طاری ہے، یا تم انتظار کرو کہ از خود تمہارے ساتھ چلے جائیں یا تم خود چلے جاؤ، یہ بعد میں آجائیں گے، چنانچہ رفقاء ٹھہر گئے۔

حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمہ اللہ نے حرمین شریفین زادہما اللہ شرفاً میں تقریباً پانچ ماہ (ذی قعدہ، ذی الحج، محرم، صفر، ربیع الاول) گزارے اور مدینہ منورہ کے قیام کے دوران آپ کو اس کام کے لئے اشارہ ہوا کہ "ہم تم سے کام لیں گے"

اس بشارت کے بعد کچھ دن دل بے چین رہا کہ میں ناتواں کیا کرسکوں گا، کسی عارف سے اپنی کیفیت بیان کی تو انہوں نے نہایت پیارا جواب دیا کہ "پریشانی کی کیا بات ہے، یہ تو نہیں کہا گیا کہ تم کام کرو، یہ فرمایا گیا ہے کہ ہم تم سے کام لیں گے، پس جو کام لینے والا ہے وہی کام لے گا۔"

یہ سن کر دل کو ایسی تسکین ملی کہ سارا بوجھ اتر گیا۔

پھر 13 ربیع الثانی 1345ھ، بمطابق 20 اکتوبر 1926 بروز بدھ حرمین شریفین سے واپسی ہوئی، یہاں آکر آپ نے پہلا تبلیغی گشت کیا، آپ عوام کے درمیان نکلے، دین کے اولین ارکان و اصول کی دعوت دی، اور یوں ایک ایسی محنت آگے بڑھی جس کا مرکز عام مسلمانوں کو دین کی بنیادی باتوں کی طرف متوجہ کرنا اور ان کے دلوں میں دین کے لئے وقت لگانے کی تڑپ پیدا کرنا تھا، اور آج اسی سفر کو سو سال مکمل ہونے کو ہیں۔ سو سال! جی ہاں ! ایک صدی بیت گئی، زمانے بدل گئے، وسائل بدل گئے، مگر اس محنت کی تہہ میں جو فکر دھڑکتی تھی، اس کی ضرورت آج بھی اسی شدت سے باقی ہے، حضرت مولانا رحمہ اللہ کو اپنی ناتوانی کا پورا احساس تھا، مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کام لئے جانے کی بشارت پر اس سے بڑھ کر یقین تھا، یہی اس راہ کا سبق ہے کہ بندہ اپنی کمزوریاں گنتا ہوا بیٹھ نہیں جاتا، بلکہ اپنی استطاعت کے مطابق قدم اٹھاتا ہے اور نتیجہ اس ذات کے سپرد کر دیتا ہے جس کے ہاتھ میں سب کچھ ہے۔

اکابرِ تبلیغ نے کام یہ مزاج بنایا ہے کہ دین کی بڑی سے بڑی بات کو بھی عام آدمی کے لئے آسان اور قابلِ فہم بنا کر پیش کیا جائے۔

حضرت مولانا سعید احمد خان صاحب رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ "ہمارا کام آسان ہے، ہم آسان لفظوں میں بات سمجھا دیتے ہیں"

یہی بات حضرت مولانا محمد فاروق مکاتی دامت برکاتہم نے نقل کی ہے کہ "بات کو آسان انداز میں سمجھاؤ، الفاظ میں نہ الجھاؤ۔"

یہ ان اکابر کی سادگی تھی، مگر یہ سادگی نہ علم کی کمی کا نتیجہ تھی اور نہ حالات سے بے خبری کا، وہ زمانے کی نبض پہچانتے تھے، فتنوں کی نوعیت سے آگاہ تھے، اور جانتے تھے کہ اصل کام دلوں میں دین کی فکر اتارنا ہے، اسی لئے ان کی گفتگو کا مقصد الفاظ کی نمائش نہیں تھا، بلکہ بات کو اس طرح پہنچانا تھا کہ سننے والا اسے سمجھے، دل سے قبول کرے، اور اپنی زندگی میں لانے کی کوشش کرے، حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمہ اللہ نے اسی سادگی کے ساتھ اس کام کو شروع کیا، آج یہ کام پوری دنیا میں پھیلا، آپ فرماتے تھے کہ "اس کام کی حفاظت سادگی سے ہی ہے، لوگ اس کام کی سادگی کی وجہ سے کام کو سمجھ نہیں پاتے مگر امت میں اسی سادگی سے دین پھیلے گا۔"

آپ فرماتے تھے کہ "دوستو ! ابھی کام کا وقت باقی ہے، عنقریب دین کے لئے دو زبردست خطرے پیش آئیں گے، ایک تحریک شدھی کی طرح کفر کی تبلیغی کوشش، جو جاہل عوام میں ہوگی اور دوسرا خطرہ ہے الحاد و دہریت کا جو مغربی حکومت و سیاست کے ساتھ ساتھ آرہا ہے، یہ دونوں گمراہیاں سیلاب کی طرح آئیں گی، جو کچھ کرنا ہے، ان کے آنے سے پہلے پہلے کرلو۔"

آپ رحمہ اللہ دین کے محض بعض شعبوں کو دین پر لانا نہیں چاہتے تھے بلکہ آپ کے سامنے پورے دین کو پوری دنیا میں پھیلانا مقصود تھا، رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کی زندگی کا پورا نقشہ سامنے لانا چاہتے تھے، سو ایک مجلس میں ارشاد فرمایا: "ہماری اس تحریک کا اصل مقصد ہے مسلمانوں کو جمیع ما جاء به النبی صلی اللہ علیه وسلم سکھانا (یعنی اسلام کے پورے عملی و علمی نظام کو وابستہ کرنا) یہ تو ہے ہمارا اصل مقصد، رہی قافلوں کی چلت پھرت اور تبلیغی گشت، سو یہ اس مقصد کے لئے ابتدائی ذریعہ ہے، اور کلمہ و نماز کی تلقین و تعلیم گویا ہمارے پورے نصاب کی "الف، ب، ت" ہے۔"

نوٹ: بعض انگریزی تاریخ کو کنورٹر کے ذریعہ نکالا گیا ہے، مختلف تقویم میں ایک دو دن کا آگے پیچھے فرق ہوسکتا ہے۔

مأخَذ

(مستفاد : حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمہ اللہ اور ان کی دینی دعوت، ملفوظات مولانا محمد الیاس کاندھلوی، اسلام کا تبلیغی و اصلاحی نظام)

کالم نگار : مفتی سفیان بلند
| | |
104